فلمساز اور ہدایت کار کمال امروہی بحیثیت ادیب... جمال عباس فہمی

کمال امروہی اسم با مسمیٰ تھے۔ وہ نام کے ہی کمال نہیں تھے، صلاحیتوں کے سلسلے میں بھی بہت با کمال تھے۔

کمال امروہی
کمال امروہی
user

جمال عباس فہمی

پاکیزہ، رضیہ سلطان، مغل اعظم، پکار، محل، جیلر، دل اپنا اور پریت پرائی، شاہجہاں، رومیو جولیٹ اور دائرہ جیسی درجنوں کامیاب فلموں سے بحیثیت فلمساز، ہدایت کار اور مکالمہ نگار، جس شخصیت نے شہرت حاصل کی اسے دنیا کمال امروہی کے نام سے جانتی ہے لیکن کمال امروہی فلمساز، ہدایت کار اور مکالمہ نگار کے علاوہ بھی بہت کچھ تھے۔ فلمی دنیا میں قدم رنجہ ہونے سے پہلے ہی وہ ایک شاعر، ایک صحافی اور ایک افسانہ نگار کے طور پر شناخت قائم کر چکے تھے۔ کمال امروہی اسم با مسمیٰ تھے۔ وہ نام کے ہی کمال نہیں تھے صلاحیتوں کے سلسلے میں بھی بہت با کمال تھے۔ اس با کمال شخصیت کے کمالات کا تفصیلی ذکر کرنے سے پہلے یہ ضروری محسوس ہوتا ہے کہ ان کے خاندانی پس منظر، تعلیمی اور قلمی سفر پر ایک نظر ڈال لی جائے۔

کمال امروہی کا سلسلہ نسب روحانی اور کراماتی بزرگ سید العارفین سید حسین شرف الدین شاہ ولایت کے واسطے سے امام علی نقی علیہ السلام سے جا کر ملتا ہے۔ شاہ ولایت بھی بڑے با کمال بزرگ تھے۔ ان کی درگاہ کا کمال یہ ہے کہ اس کے احاطے میں آج بھی بچھو جیسا موذی ڈنک نہیں مارتا۔ کمال کا خاندان با کمالوں کا خاندان رہا۔ یہ خاندان علما، فضلا اور شعرا کے خانوادے کے طور پر مشہور رہا ہے۔ کمال امروہی کے پردادا امیر حسن امیر قادر الکلام شاعر تھے۔ وہ غزل، سلام، مرثیہ، نعت، قصیدہ، قطعہ، رباعی غرض ہر صنف سخن میں طبع آزمائی کرتے تھے۔ امیر حسن امیر نے فارسی شاعر ملا واعظ حسین کاشفی کی فارسی تصنیف 'روضت الشہدا' کا 'باران غم' کے نام سےاردو میں ترجمہ کیا۔ اس ترجمے کی خصوصیت یہ ہے کہ نظم کا حصہ منظوم ترجمہ ہے اور نثر کا نثر میں۔ کمال امروہی کے دادا نصیر حسن نصیر اردو، عربی اور فارسی کے عالم تھے۔ زیادہ تر منقبتی شاعری کرتے تھے۔ نصیر حسن نصیر کے چار فرزند تھے، چاروں کے چاروں شاعر اور ادیب تھے۔ نفیس حسن 'نفیس'، انیس حسن 'ہلال'، شفیق حسن 'ایلیا' اور وحید حسن 'وحید'۔ انیس حسن 'ہلال' کمال امروہی کے والد تھے اور شفیق حسن 'ایلیا'، رئیس امروہی اور جون ایلیا کے والد تھے۔ کمال امروہی کے والد انیس حسن 'ہلال' نے پوری عمر رثائی ادب کی خدمت میں گزار دی۔ پچاس سال سے کم عمر میں انتقال ہو گیا۔ ان کا بیشتر کلام محفوظ نہ رہ سکا۔ جو کلام دستیاب ہے اس میں سلاموں کے علاوہ چار مراثی بھی ہیں۔


کمال امروہی 17 جنوری1917 کو امروہہ میں پیدا ہوئے اور ان کا اصل نام امیر حیدر نقوی تھا۔ جب شاعری شروع کی تو اپنے والد 'ہلال' کا ہم قافیہ 'کمال' تخلص اختیار کیا۔ یہی امیر حیدر کمال امروہی اپنی ماں اور اہل خاندان کے لئے چندن تھے۔ امروہہ کے محلہ دربار شاہ ولایت میں ان کے گھر پر 'چندن کا گھر' لکھا ہوا ہے۔ کمال امروہی نے خاندان میں رائج ادبی ماحول کا اثر بچپن میں ہی قبول کر لیا تھا اور کم عمری میں شاعری شروع کر دی تھی۔ امروہہ میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد سولہ سترہ برس کی عمر میں ہی امروہہ چھوڑ دیا تھا۔ میٹرک دہرہ دون سے کیا۔ 1934 میں لاہور کے اورئنٹل کالج سے Master Of Oriental Languages کی سند حاصل کی۔ لاہور میں انہوں نے ادبی صحافت میں قلم آزمائی کی۔ لاہور سے شائع ہونے والے ماہنامہ تاج کے مدیر رہے۔ یہ خالص ادبی رسالہ تھا۔ کمال امروہی نے دہلی سے شائع ہونے والے رسالے ساقی کی ادارت بھی سنبھالی۔ تاج اور ساقی کے ذریعے کمال امروہی نے ادبی صحافت میں قلم کے کمالات دکھائے۔ کمال امروہی نےایک اور اہم ترین ڈائجسٹ کے مدیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں وہ تھا۔ خلاصہ صرف و نحو۔ اس ڈائجسٹ کے ذریعے شوقین افراد معیاری اردو اور زبان و بیان کے نکات سیکھتے تھے۔ یہ ڈائجسٹ اپنے دور میں ممتاز اور مشاہیر ادیبوں کا پسندیدہ تھا۔

فلمی دنیا میں داخل ہونے سے پہلے ہی کمال امروہی صاحب کمال و بیان ادیب اور صحافی کے طور پر ملک گیر شہرت کما چکے تھے۔ ان کی پانچ کتابیں شائع ہوئیں۔ جن میں افسانوں کے دو مجموعے پردیسی اور ہزار داستان شامل ہیں۔ انہوں نے یادوں کا مندر کے نام سے ایک ناول بھی لکھا تھا۔ ایک عربی ناول کا اردو میں موتیوں کا درخت، کے نام سے ترجمہ بھی کیا تھا۔ کمال امروہی نے انگریزی ناول رومیو جولیٹ کا بھی اردو میں ترجمہ کیا تھا۔ لاہور میں قیام کے دوران کمال امروہی کی ملاقاتیں اس دور کے معروف قلمکاروں، سعادت حسن منٹو، راجندر بیدی سحر، احمد ندیم قاسمی اور خواجہ احمد عباس سے رہیں۔ خواجہ احمد عباس نے کمال امروہی کی ایک کہانی کا انگریزی میں ترجمہ بھی کیا تھا۔ ملک کی تحریک آزادی کے دوران لاہور سے اہل قلم کولکاتہ اور ممبئی کا رخ کر رہے تھے۔ کمال امروہی بھی پہلے کولکاتہ اور وہاں سے ممبئی پہنچ گئے۔ ممبئی میں سہراب مودی سے ملاقات ہوئی۔ اس سے پہلے دونوں لاہور میں مل چکے تھے۔ سہراب مودی نے کمال امروہی کی ایک کہانی پر فلم جیلر بنائی۔ جیلر فلم کے کامیاب ہونے کے بعد سہراب مودی نے مشہور فلم پکار بنائی۔ جس کی کہانی اور مکالمے کمال امروہی نے لکھے۔ اس فلم کے ذریعے کمال امروہی نے با ادب با ملاحظہ ہوشیار، جیسا ڈائلاگ فلمی دنیا کو دیا جو مسلم بادشاہوں کی زندگی پر مبنی کئی فلموں میں استعمال ہوا۔


کمال امروہی کے طرز نگارش کا لطف لینا ہو تو فلم مغل اعظم دیکھئے۔ فلم کی ابتدا ان کلمات سے ہوتی ہے۔ جن کے ہر ہر لفظ سے وطن کی محبت کی خوشبو پھوٹی پڑتی ہے۔

میں ہندستان ہوں، ہمالیہ میری سرحدوں کا نگہبان ہے۔ گنگا میری پویترتا کی سوگندھ، تاریخ کی ابتدا سے میں اندھیروں اور اجالوں کا ساتھی ہوں۔ میری خاک پر سنگ مرمر کی چادروں میں لپٹی ہوئی یہ عمارتیں دنیا سے کہہ رہی ہیں کہ ظالموں نے مجھے لوٹا اور مہربانوں نے مجھے سنوارا۔ نادانوں نے مجھے زنجیریں پہنا دیں اور میرے چاہنے والوں نے انہیں کاٹ پھینکا۔

جہاں تک کمال امروہی کی شاعری کا تعلق ہے تو اس میں وہی رس ہے جو اس خانوادے کے شعرا کا طرہ امتیاز رہا ہے۔ رئیس امروہی اور جون ایلیا کی زبان میں جو لوچ اور جو چاشنی ہے وہی کمال امروہی کی زبان میں بھی ہے۔ نمونے کے طور پر ان کی اس غزل کا آہنگ ملاحظہ کیجیے۔

ساز دل، نغمہ جاں، روح فزا ہے کیا ہے؟

تو کرن ہے کہ شفق ہے کہ صبا ہے کیا ہے؟

پیاس کی آگ بجھا دی ہے تری قربت نے

تو سمندر ہے کہ دریا ہے، گھٹا ہے کیا ہے؟

تیری آنکھوں میں کئی رنگ جھلکتے دیکھے

سادگی ہے کہ جھجک ہے کہ حیا ہے کیا ہے؟

نام ہونٹوں پہ ترا آئے تو تسکین ملے

راحت جاں ہے، دلاسہ ہے، دعا ہے کیا ہے؟

.....

ان کی ایک نظم کے دو بند کچھ اس طرح ہیں۔

جانے تم کون ہو، کون ہو جانے تم

کون اترا ہے زمیں پر چاند ہے

سارا عالم خوبصورت ہو گیا

زندگی تھی جستجو جس خواب کی

تم کو دیکھا تو حقیقت ہو گیا

جانے تم کون ہو، کون ہو جانے تم

.....

گھیرتے ہیں مجھ کو ان دیکھے خیال

چھیڑتی ہیں اجنبی پر چھائیاں

راز دل کو لے اڑی باد صبا

گفتگو کرنے لگیں تنہائیاں

جانے تم کون ہو، کون ہو جانے تم


امام حسین کی شان میں ان کا یہ شعر ان کے منقبتی ذوق کا نمونہ ہے۔

خدا کے دین کو جب تشنہ لب نہ دیکھ سکا

حسین صبر کا دریا بہا دیا تونے

11 فروری 1993 کو یہ آفتاب کمال ممبئی کے ساحل سمندر پر غروب ہو گیا۔ کمال امروہی کی موت پر ان کے چچا زاد بھائی اور جادوئی لہجہ کے شاعر جون ایلیا نے جو شخصی مرثیہ کہا وہ ایک با کمال شخصیت کو ایک شاعر باکمال کا حقیقی خراج عقیدت ہے۔

جس کی ہر بات ہو کمال کی بات

کیا کہوں ایسے با کمال کی بات

.....

شہرت عام کی تمناؤ

اس کی خدمت میں آکے بس جاؤ

حسن کا گلستاں طراز ہے یہ

اس کے قدموں پہ پھول برساؤ

کبھی یہ شخص مر نہیں سکتا

ہے یہ زندہ اسے نہ دفناؤ

یہ جو ہے لا جواب ہے یہ شخص

یہ حقیقت کہ خواب ہے یہ شخص

.....

آپ کو کیسے نیند آئی ہے

یہ تو ہم سب سے بے وفائی ہے

رنگ نے لی ہے آخری ہچکی

حسن فن نے شکست کھائی ہے

دل نے دھڑکن کا ساتھ چھوڑ دیا

شمع نے روشنی گنوائی ہے

سر نگوں ہو گئی ہے اک تاریخ

ایک تہذیب لڑ کھڑائی ہے

ہونے والا ہے آخری دیدار

با ادب با ملاحظہ ہوشیار

مرثیہ کے اس بند میں جون ایلیا نے کمال فنکاری کے ساتھ کمال امروہی کی اولادوں کے نام استعمال کئے ہیں۔ شاندار کمال، تاجدار کمال اور رخسار کمال

لفظ و معنی کا شہر یار کمال

اور پھر کیسا شاندار کمال

ہے یہی گونج فن کی دنیا میں

فن کی دنیا کا تاجدار کمال

عظمتوں کی عظیم تر عظمت

یادگاروں کی یاد گار کمال

گلشن حسن لہجہ اردو

تھا تری آخری بہار کمال

وہ جلال و جمال طرز بیاں

ہو فدا جس پہ بار بار کمال

سوگ میں ہے جلال کی گفتار

تر بہ تر ہیں جمال کے رخسار

کمال امروہی کی شعری اور قلمی وراثت فرزند تاجدار کمال اور دختر رخسار کمال سنبھالے ہوئے ہیں، سر زمین امروہہ اپنے اس با کمال فرزند پر جتنا فخر کرے کم ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔