منفرد لہجے کا نظم گو علی ظہیر حیدرآبادی... جمال عباس فہمی

منفرد لب و لہجہ کا یہ شاعر 16 مارچ 2013 کو 66 برس کی عمر میں اس دنیا سے کوچ کرگیا اور اپنے پیچھے شعر و سخن کی صحت مند روایت چھوڑ گیا۔

علی ظہیر حیدرآبادی
علی ظہیر حیدرآبادی
user

جمال عباس فہمی

علی ظہر حیدر آباد کے ایسے قلمکار تھے جو سیریلس کے اسکرپٹ رائٹر بھی تھے اور ڈرامہ نگار بھی۔ مضمون نگار بھی تھے اورمترجم بھی۔ بظاہر ان کے پیشے اور ادبی ذوق میں کوئی میل نہیں تھا۔ پیشے کے اعتبار سے وہ ایک سول انجینئر اور ایک ماہر آرکیٹیکٹ تھے۔ شہر میں کئی خوبصورت عمارتیں ان کی فنکارانہ صلاحیتوں کا منھ بولتا ثبوت ہیں۔ علی ظہیر نے انگریزی اور اردو کے جریدوں کی ادارت بھی کی۔ ایک انگریزی ناول کا اردو میں ترجمہ بھی کیا۔ جدید شاعری میں مغنی تبسم، شاذ تمکنت، راشد آذر، مضطر مجاز، رؤف خلش، رؤف خیر، غیاث متین، فاطمہ تاج، شفیق فاطمہ شعری، اعتماد صدیقی، محسن جلگانوی اور حسن فرخ کے ہم عصر ہمہ جہت تخلیقی صلاحیتوں کے حامل علی ظہیر کون تھے۔ ان کا خاندانی پس منظر کیا تھا، ان کا تعلیمی اور ادبی سفر کیسا تھا؟ پہلے ہم اس کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

علی ظہیر کے آباؤ اجداد کا تعلق ایران کے شہر نیشا پور سے تھا، ان کے جد اعلیٰ مغل بادشاہ شاہجہاں کے عہد میں ہندوستان آئے اور لکھنؤ میں آباد ہو گئے۔ 1905 میں ان کی اولادیں حیدر آباد منتقل ہو گئیں۔ علی ظہیر کے والد سید محمد حسین درس و تدریس سے وابستہ تھے۔ سٹی کالج میں ریاضی کے استاد تھے۔ صاحب خیر تھے۔ غریب طلبا کی خاموشی کے ساتھ مدد کرتے تھے۔ سید محمد حسین ضلع ایجوکیشن افسر بھی رہے۔ علی ظہیر کے والد سید محمد حسین کے نانا باقر حسین ضیا میر انیس کے شاگرد تھے۔ ہندستان کی آزادی سے محض 176 روز قبل 19 فروری1947 میں حیدر آباد میں پیدا ہونے والے علی ظہیر کو بچپن سے ہی علمی اور ادبی ماحول ملا۔ بچوں کا ماہنامہ 'کھلونا' پڑھ پڑھ کر مطالعے اور ادب کا ذوق پروان چڑھا۔ علی ظہیر کے ادبی ذوق اور شوق کا یہ عالم تھا کہ وہ بی اے کر کے ادب کے میدان میں کیرئر بنانا چاہتے تھے لیکن والد انجینئر بنانے پر تلے ہوئے تھے۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ والد صاحب کا حکم صادر ہوگیا کہ اگر انجینئرنگ کی پڑھائی نہیں کی تو گھر چھوڑنا ہوگا۔ چار و ناچار علی ظہیر نے سول انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ اپنے ادبی اور قلمی ذوق کی تسکین کے لئے علی ظہیر نےCreative Writing In English میں ڈپلومہ کورس بھی کیا۔


انجینئرنگ کی پڑھائی کے دوران بھی علی ظہیر کی ادب میں دلچسپی کم نہ ہوئی۔ وہ لائبریری میں بیٹھ کر ادبی کتابوں کا مطالعہ کرتے تھے۔ علی ظہیر کی باقاعدہ شاعری کی ابتدا غزل سے ہوئی۔ غزلوں پر وہ اس دور کے استاد شاعر علامہ نجم آفندی سے اصلاح لیتے تھے۔ لیکن خیالات اور محسوسات کو بیان کرنے کے لئے انہیں غزل کا دامن تنگ نظر آیا تو نظم کے وسیع دامن میں پناہ لی۔ اور نظم گوئی ہی ان کا پسندیدہ شعری مشغلہ بن گیا۔ انہوں نے نظم کے آہنگ اور اسلوب کو اس خوبی سے برتا کہ وہ حیدر آباد کے جدید نظم گو شعرا کی صف اول میں شمار ہونے لگے۔ ان کے کلام میں نظموں کی تعداد زیادہ ہے۔ ہرشاعر کو اپنا ہر مصرع اور ہر شعر بہت عزیز ہوتا ہے۔ لیکن علی ظہیر کے ساتھ معاملہ قدرے مختلف ہے۔

شاعری کے ابتدائی دور میں کہی گئی اپنی بیشترغزلوں کو انہوں نے خود ہی رد کر دیا شاید وہ اپنے پرانے کلام کے معیار سے مطمئن نہیں تھے۔ ان کا کلام ملک کی قابل قدر اور مایہ ناز ادبی میگزینوں کی زینت بنتا تھا۔ شہر یار اور مغنی تبسم کے رسالے 'شعر و حکمت'، شمس الرحمٰن فاروقی کے رسالے 'شب خون'، علی سردار جعفری کے جریدے 'گفتگو'، باقر مہدی کے 'اظہار' اور ممبئی سے شائع ہونے والے معتبر ادبی ماہنامہ 'شاعر' میں علی ظہیر کی نظمیں اور غزلیں شائع ہوتی تھیں۔ ان کی شاعری اور اسلوب پر معروف اردو ادیب اور ناقد شمس الرحمٰن فاروقی کا کہنا تھا کہ ''علی ظہیر کی شاعری ایک منفرد و کشفی لہجے سے عبارت ہے۔ یہ کشف ذاتی بھی ہے اور کائناتی بھی۔ اور اس کے پس منظر میں مذہب کا تجربہ ہے۔ یہ تجربہ صوفیانہ یا روایتی مذہبی عقیدے کی پختگی سے حاصل ہونے والےایقان و یقین سے براہ راست حاصل نہیں ہوا ہے بلکہ اس شعور کا مرہون منت ہے جو اس وقت حاصل ہوتا ہے جب شاعر کو مذہب کی تہذیبی روایت کے حوالے سے کائنات اور اپنے درمیان نئے نئے رشتوں کا وجود کائنات کی وسعت اور اپنی تنہائی اپنی نا رسائی اور کائنات کی بزرگی اپنی ناآسودگی اور کائنات کی دشمن نما دوستی اور دوستی نما دشمنی کی نیرنگیاں اپنی روح اور اپنی شخصیت میں نظر آنے لگتی ہیں۔''


علی ظہیر کی زندگی پر تین واقعات نے بہت گہرا اثر ڈالا۔ دو واقعات صدموں سے عبارت ہیں۔ ان کے دل پر ایک داغ کم عمری میں لگا اور دوسرا بڑھاپے میں۔ پہلے صدمے سے انہیں محض چودہ برس کی عمر میں دوچار ہونا پڑا۔ ان کی ماں کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہو کر ان سے بچھڑ گئیں۔ ماں کی جدائی کے کرب کو ان کی نظم 'خوف'، میں محسوس کیا جاسکتا ہے۔

''وہ عجب رات تھی۔

اس رات ہوائیں آئیں۔

سوکھے پتوں کے بھی گرنے کی صدائیں آئیں۔

جھاڑ فانوس بجے دور کوئی چیخا بھی۔

چاپ قدموں کی عجب آئی کہ دل ہلنے لگا۔

ایسی سنسان سیاہی میں اکیلا میں تھا۔

کسی ٹوٹے ہوئے ویران جزیرے کی طرح۔

رات کا خوف نہ تھا۔

خوف تو اس کا تھا مجھے۔

وہ جو آجاتا ہے چپ چاپ اندھیرے کی طرح۔

وہ جو کرجاتا ہے زخمی میرا سینہ مرا دل۔

اپنے قدموں تلے ملتا ہے مری آنکھوں کو۔

توڑ دیتا ہے مرے سارے حسیں خوابوں کو۔ وہ نہیں

آیا مگر خوف تو آیا ہے ابھی۔

خوف آیا ہے تو پھر وہ بھی ضرور آئے گا۔

میرے سینے کو میرے دل کو کچل جائے گا۔''

دوسرا صدمہ انہیں اپنی لاڈلی بیٹی زین الوریٰ کی ناگہانی اور حادثاتی موت سے پہنچا۔ زین الوریٰ بہت ذہین اور باصلاحیت خاتون تھیں۔ وہ پینٹنگ بھی کرتی تھیں۔ زین الوریٰ علی ظہیر سے بہت قریب تھیں۔ ان کی موت کے صدمے سے علی ظہیر جیتے جی کبھی باہر نہیں آسکے۔ انہو ں نے اپنے ایک شعری مجموعے 'موج صد رنگ' کا انتساب زین الوریٰ کے نام کیا ہے۔ انہوں نے لکھا، ''جتنے دن بھی آپ نے اس زمین پر ہمارے ساتھ گزارے اس کا شکریہ'' علی ظہیر نے ایران کے اسلامی انقلاب کا بہت گہرائی سے اثر قبول کیا۔ انقلاب کے زمانے میں وہ ایران میں ہی تھے اور سب کچھ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔


انہوں نے ایک ہی دن میں پانچ نظمیں انقلاب کے حوالے سے قلم بند کی تھیں۔ یہ نظمیں ان کے شعری مجموعے 'انگلیوں سےخون' میں شامل ہیں۔ علی ظہیر کے چار شعری مجموعے ''رات کے ہزار ہاتھ' 'انگلیوں سے خون' 'جب زمینوں سے شجر اگتے ہیں' اور 'موج صد رنگ' منظر عام پر آچکے ہیں۔ 'دوسرا قدم' کے عنوان سے طویل نظم بھی شائع ہو چکی ہے۔ یونیورسٹی آف حیدر آباد کے پروفیسر بیگ احساس نے ان کے منتخب کلام کو 'ہزار مشعل بکف ستارے' کے عنوان سے ترتیب دے کر شائع کیا ہے۔ علی ظہیر نے مختلف موضوعات پر مضامین بھی لکھے۔ جن کا مجموعہ 'دست رس' کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔ علی ظہیر نے The Kite Runner نامی انگریزی ناول کا اردو میں ترجمہ بھی کیا۔ Seven

Days Seven Heavens کے عنوان سے ان کی کچھ نظموں کا انگریزی میں ترجمہ بھی ہوا ہے۔ علی ظہیر نے آل انڈیا ریڈیو کے لئے دو ڈرامے 'حافظ' اور 'اقبال' تحریر کئے۔ ٹیلی ویژن کے لئے 'گلستاں' تانا شاہ' اور 'میر صاحب' نام کے سیریلس کی اسکرپٹس تحریر کیں۔ علی ظہیر شہر کی باوقار ادبی تنظیم 'حیدر آباد لٹریری فورم' (حلف) کے صدر اور 'فرحت اللہ بیگ اکیڈمی' کے جنرل سکریٹری رہے۔ علی ظہیر کی ادبی اور تخلیقی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ممبئی سے شائع ہونے والے ادبی ماہنامہ 'شاعر' نے جنوری 2012 میں ان کے اوپر خصوصی شمارہ نکالا۔ حیدر آباد کی اردو اسکالر ناہیدہ سلطانہ نے 'علی ظہیر شخص اور شاعر' کے عنوان سے ایک کتاب تصنیف کی ہے۔

علی ظہیر قلم کے تو دھنی تھے ہی موسیقی کے بھی شوقین تھے۔ وہ ایک ماہر ستار نواز تھے۔ درجنوں راگوں کے جان کار تھے۔ لیکن وہ اپنے اس فن کو پوشیدہ ہی رکھتے تھے۔ بہت قریبی احباب کی فرمائش پر نجی نوعیت کی محفلوں میں ستار بجاتے تھے۔ علی ظہیر کی کچھ نظموں کے کچھ حصے پیش ہیں جو ان کے اسلوب اور انداز بیان کی انفرادیت بیان کرتے ہیں۔ علی ظہیر علامات کے ذریعے اپنا ما فی الضمیر پیش کرتے ہیں۔


جب مرا لطف سخن چھینا گیا

ٹھنڈے لاوے کی چٹانوں کی طرح

سوچ سینے کے سیاہ خانوں میں خاموش ہوئی

زرد سوکھے ہوئے پتوں کی قطاریں ہر سو

راستے ڈھکتی گئیں۔

آج راہوں کی مقدر میں کوئی چاپ نہیں

۔۔۔۔

میں نے مروت گھول کر اپنے جسم کو پھیکا کرنا سیکھا

اتنی بھی امید نہیں اب

تم سے یہ چہرہ مانگ سکوں گا

لاؤ وہ آنکھوں کا بجھتا شعلہ دیدو

راکھ بہت ہے جسم کے اندر

۔۔۔۔۔۔

کوئی پیچھے پھر نہ پلٹے

کہدو سب اپنے رفیقوں سے

کہ سیسہ کی دیوار بن کے لڑنا ہے

یہ سب کو قتل کردے گا

یہ سورج تو شقی ہے

علی ظہیر نے غزلیں کم کہیں لیکن جو بھی کہیں ان کا لہجہ منفرد ہے۔ ان کےغزلیہ اشعار میں درد دروں کی لہریں ہیں۔

یہ کس تاریخ کا میں سلسلہ ہوں

کہ ماضی میں بھی تنہا ہو رہا ہوں

۔۔۔

درد کے بعد نیا درد ملا ہے کوئی

سلسلہ جیسے چراغوں کا چلا ہے کوئی

----

کچھ درد ہی نہیں ہے مرے دل کی داستاں

بے دردی حیات کی بھی داستاں ہوں میں

----

رہ گیا ایک خواب کا صحرا

اور سب کچھ تو آرزو میں گیا

۔۔۔

کس طرف ہائے مرے دل مرا لشکر چھوٹا

میرا کنبہ مرا خیمہ میرا ا گھر بھر چھوٹا

----

میرا سب لے لومجھے ایک محبت دیدو

شہر میں ایسی بھی آواز لگا کر دیکھوں

----

منفرد لب و لہجہ کا یہ شاعر 16 مارچ 2013 کو 66 برس کی عمر میں اس دنیا سے کوچ کرگیا اور اپنے پیچھے شعر و سخن کی صحت مند روایت چھوڑ گیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔