شاعر و تھیٹر آرٹسٹ کامریڈ سردار انور کا کورونا کے سبب انتقال

ستر سالہ سردار انوار کورونا وائرس سے متاثر تھے اور ان کا اسپتال میں علاج چل رہا تھا

تھیٹر آرٹسٹ کامریڈ سردار انور کا کورونا کے سبب انتقال / تصویر آس محمد کیف
تھیٹر آرٹسٹ کامریڈ سردار انور کا کورونا کے سبب انتقال / تصویر آس محمد کیف
user

آس محمد کیف

سہارنپور: داڑھی میں چوٹی الجھا دی، دیکھو بات کہاں پہنچا دی، لکھنے والے سہارنپور کے مشہور شاعر، مصنف، اپٹا (انڈین پیپلز تھیٹر ایسو سی ایشن) کے سرپرست، مزدوروں کے لیڈر کامریڈ سردار انور اتوار کے روز انتقال کر گئے۔ ستر سالہ سردار انوار کورونا وائرس سے متاثر تھے اور ان کا اسپتال میں علاج چل رہا تھا۔ سردار انور کے سانحہ ارتحال سے اداکاروں اور ادبی حلقوں میں شدید رنج و غم پایا جا رہا ہے۔ ان کے پسماندگان میں چار بیٹیاں ہیں۔

شاعر و تھیٹر آرٹسٹ کامریڈ سردار انور کا کورونا کے سبب انتقال

سردار انور کو سہارنپور کے دانشوران میں بلند و بالا مقام حاصل تھا اور تھیٹر کی دنیا میں بھی ان کا بول بالا تھا۔ ان کے داماد انعام الحق بالی ووڈ کے ایک بہترین اداکار ہیں اور ان کے شاگرد بھی ہیں۔ قومی آواز سے بات کرتے ہوئے انعام الحق نے کہا کہ سردار انور کا اتنا بلند مقام ہونے کے باوجود انتظامہ نے کوئی تعاون نہیں کیا اور ان کے جسد خاکی کو ایک پالی بیگ میں رکھ کر اسپتال سے سیدھے قبرستان بھیج دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات کا ملال تا حایات رہے گا کہ وہ آخری وقت اپنے استاد اور والد جیسے سسر کو چھو بھی نہیں سکے۔

سردار انور کی ٹیچر بیٹی رومی انور نے کہا کہ ان کے والد کی موت سسٹم کی لاپروائی کی وجہ سے ہوئی ہے۔ کورونا پازیٹو پائے جانے کے بعد انہیں سہارنپور کے باہر پلکھنی واقع میڈیکل کالج میں داخل کرایا گیا اور وہاں بھی ان کی طبیعت خراب ہونے کے باوجود ڈاکٹروں نے ان پر توجہ نہیں دی۔ رومی نے کہا، ’’اسپتال نے یہ کہتے ہوئے میرے ابو کو ریفر کر دیا کہ ان کے پاس وینٹی لیٹر موجود نہیں ہیں۔ اس کے بعد کاغذی کارروائی اور ایمبولنس کو دہلی سے بلانے کی خانہ پری میں وقت گزرتا چلا گیا اور میرے والد تڑپتے رہے، آخر کار وہ زندگی کی جنگ ہار گئے۔‘‘

رومی مزید کہتی ہیں، ’’ہم نے کبھی مزدور کے درخت کے نیچے دبے ہونے کی کہانی پڑھی تھی جس میں تمام افسران ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالتے رہتے ہیں اور فائل ادھر سے اُدھر ہونے میں وقت گزرنے کے بعد مزدور کی موت ہو جاتی۔ میرے ابو کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ ہمارے 11 گھنٹے خراب ہو گئے۔

انعام الحق کہتے ہیں، ’’میں نے اپنی پہچان کے لوگوں سے بات کر کے پوری کوشش کی کہ سہارنپور میں علاج ہو جائے، لیکن یہاں تو لاپروائی کی تمام حدود پار کر دی گئیں۔ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ اب کیا ہوگا۔‘‘

سردار انور 1992 میں نکڑ ناٹک (اسٹریٹ پلے) کے ذریعے سماجی بھائی چارہ قائم کرنے کی کوششوں کے لئے جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے ٹریڈ یونین کے لیڈر کے طور پر بھی مزدوروں کے حق میں آواز اٹھائی جس سے ہزاروں لوگوں کو روزگار ملا۔ ان کی شاعری کا مرکز عام آدمی ہوتا تھا اور انہوں نے خود بھی سادہ زندگی ہی گزاری۔ ان کا کمرہ کتابوں سے بھرا ہوا ہے اور ادب کی دنیا میں لگاتار کام کرکے سردار انوار نے سہارنپور کو ایک الگ شناخت دلائی۔

سردار انور سہارنپور کے ڈولی کھال محلہ کے رہائشی تھے۔ ان کی شاعری میں سماج کے لئے ہمیشہ کوئی پغام چھپا ہوتا تھا۔ جیسے ان کا کلام...

’حاکمِ شہر کی ہر بات پہ راضی نکلا

کتنا ہوشیار میرے شہر کا قاضی نکلا

میں سمجھتا تھا میری طرح مسلمان ہے وہ

پر میرا یار تو پنج وقتہ نمازی نکلا!

ان کی شاعری کے معیار کو ظاہر کرتا ہے۔

سردار انور کی موت کے بعد سہارنپور میں ناراضگی نظر آ رہی ہے۔ اپٹا سے وابستہ اداکار ان کی موت سے گہرے صدمہ میں ہیں۔ مصنف ریاض ہاشمی کے مطابق ’’سردار انور ایک ایسی شخصیت کے مالک تھے جنہوں نے ایک کمرے کی زندگی میں کتابوں سے دوستی کر کے سہارنپور کو منی بالی ووڈ میں تبدیل کر دیا۔ انہوں نے اداکاری کی دنیا میں ممبئی کے بعد سہارنپور کو اتر پردیش کا سب سے بڑا مرکز بنا دیا۔ ایماندار، سادگی پسند اور سماج کے لئے وقف سردار انور کا چلا جانا تکلیف دے رہا ہے۔‘‘

Published: 19 Jul 2020, 9:45 PM
next