آئی پی ایل: خالی اسٹیڈیم کے باوجود بی سی سی آئی کو ہوئی 4 ہزار کروڑ روپے کی آمدنی!

بی سی سی آئی ٹریزرر ارون دھومل نے بتایا کہ بورڈ نے گزشتہ سیزن کے مقابلے میں اپنا خرچ تقریباً 35 فیصد تک کم کیا، اور کورونا کے درمیان منعقد اس ٹورنامنٹ سے تقریباً 4 ہزار کروڑ روپے کی کمائی ہوئی۔

آئی پی ایل
آئی پی ایل
user

تنویر

کورونا بحران کے پیش نظر آئی پی ایل سیزن 13 ہندوستان سے باہر متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں ناظرین کے بغیر خالی اسٹیڈیم میں کھیلا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹکٹ سے ہونے والی کمائی کے بغیر بھی بی سی سی آئی کے لیے یہ ٹورنامنٹ فائدہ کا سودا ثابت ہوا۔ بورڈ کے ٹریزرر ارون دھومل کے مطابق آئی پی ایل-13 سے بی سی سی آئی کو تقریباً 4 ہزار کروڑ روپے کی کمائی ہوئی۔ اتنا ہی نہیں، ٹورنامنٹ کے ٹی وی ناظرین میں بھی آئی پی ایل 2019 کے مقابلے میں 25 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا۔

واضح رہے کہ آئی پی ایل-13 کا انعقاد 29 مارچ سے ہندوستان میں ہونا تھا، لیکن کورونا کی وجہ سے اسے ملتوی کرنا پڑا۔ ٹی-20 عالمی کپ کے رد ہونے کے بعد بورڈ نے 19 ستمبر سے 10 نومبر کے درمیان آئی پی ایل کے 13ویں سیزن کا انعقاد یو اے ای میں کرنے کا فیصلہ کیا۔ ساتھ ہی یہ بھی اعلان کیا کہ اسٹیڈیم میں ناظرین موجود نہیں رہیں گے۔ 53 دن چلے آئی پی ایل ٹورنامنٹ میں کل 60 میچ کھیے گئے۔ اس ٹورنامنٹ میں کھلاڑیوں اور اسٹاف سمیت تقریباً 1800 لوگوں نے حصہ لیا۔ کورونا سے بچاؤ کے لیے تقریباً 30 ہزار کورونا ٹیسٹ بھی کرائے گئے۔

بہر حال، ارون دھومل کے حوالے سے انگریزی نیوز ویب سائٹ ’انڈین ایکسپریس‘ نے بتایا کہ بورڈ نے گزشتہ سیزن کے مقابلے میں اپنا خرچ تقریباً 35 فیصد تک کم کیا۔ دھومل نے بتایا کہ ’’ہم نے کورونا کے درمیان ٹورنامنٹ کراتے ہوئے قریب 4 ہزار کروڑ کی کمائی ہے۔ اتنا ہی نہیں، ہمارے ٹی وی ناظرین میں بھی 25 فیصد تک اضافہ ہوا۔‘‘ انھوں نے کہا کہ ’’اس بار اوپننگ میچ (ممبئی انڈینز بمقابلہ چنئی سپر کنگز) کو ریکارڈ سب سے زیادہ ناظرین ملے۔ جن لوگوں نے پہلے فکرمندی ظاہر کی تھی، بعد میں آئے اور آئی پی ایل کرانے کے لیے ہمیں شکریہ کہا۔ اگر آئی پی ایل نہ ہوتا تو کرکٹرس کا ایک سال کا نقصان ہو جاتا۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next