عراق میں پارلیمانی انتخابات کے لیے ڈالے گئے ووٹ

الیکشن کمیشن کے مطابق ان انتخابات میں تقریبا 2.4 کروڑ ووٹر حصہ لے رہے ہیں اور 329 نشستوں کے لیے 167 مختلف جماعتوں کے 3249 امیدوار میدان میں ہیں۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

بغداد: لاکھوں عراقی شہری اتوار کو پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالتے ہوئے دیکھے گئے اور ان سب کو امید ہے کہ یہ الیکشن ملک کے دیرینہ سیاسی عدم استحکام کا خاتمہ کر دے گا۔ ملک کے مختلف حصوں میں ووٹنگ صبح سات بجے شروع ہوئی جس کے لیے 8273 ووٹنگ سینٹر اور 55000 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے۔ واضح رہے کہ عراق میں انتخابات اگلے سال طے تھے، لیکن یہ وقت سے پہلے منعقد ہو رہے ہیں۔ ان انتخابات میں خصوصی آلات کی مدد لی گئی ہے اور الیکٹرانک ڈیوائس خود مقامی وقت کے مطابق شام 6 بجے انتخابی عمل کو بند کر دے گی۔

الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابی نتائج پولنگ کا عمل ختم ہونے کے 24 گھنٹے بعد جاری کیے جانے کا امکان ہے۔ ملک میں پہلی مرتبہ بغیر کرفیو لگائے انتخابات کرانے پر عراقی وزیر اعظم مصطفی الکاظمی نے اس کی تعریف کی ہے اور اسے ایک اہم کامیابی قرار دے رہے ہیں کیونکہ ملکی سلامتی کا نظام بہتر ہوا ہے۔ وزیراعظم نے زیادہ سے زیادہ شہریوں سے انتخابات میں حصہ لینے کی اپیل کی ہے۔


بغداد کے ایک اسکول میں ووٹ ڈالنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں اپنا ووٹ ڈالنے والا پہلا ووٹر ہوں۔ ہم سب کو تبدیلی لانے کے لیے ووٹ دینا چاہیے اور یہ ایک موقع کے طور پر آیا ہے۔ عراق کے صدر برہم صالح نے بھی مرکزی بغداد کے گرین زون میں رائل ٹولپ الرشید بغداد ہوٹل میں ایک پولنگ اسٹیشن پر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔

صدر نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ "یہ ایک یادگار دن ہے کیونکہ قبل از وقت انتخابات لوگوں کا مطالبہ تھا اور یہ عراق میں اصلاحات کی طرف آگے بڑھنے کا موقع ہے۔" الیکشن کمیشن کے مطابق ان انتخابات میں تقریبا 2.4 کروڑ ووٹر حصہ لے رہے ہیں اور 329 نشستوں کے لیے 167 مختلف جماعتوں کے 3249 امیدوار میدان میں ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔