ٹرمپ کے بیجنگ دورے سے عین قبل امریکہ کی بڑی کارروائی، ایرانی تیل چین کو فروخت کرنے والی 12 کمپنیوں پر پابندی عائد
امریکہ نے جن کمپنیوں اور لوگوں کے خلاف کارروائی کی ہے ان میں ایران کے 3 افراد، ہانگ کانگ اور متحدہ عرب امارات کی 9 کمپنیاں شامل ہیں۔ ان سبھی کی امریکہ میں موجود املاک اب فریز کر دی جائیں گی۔

امریکہ نے ایران سے وابستہ 12 لوگوں اور کمپنیوں پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ الزام ہے کہ یہ کمپنیاں ایرانی تیل کو چین تک پہنچانے میں مدد کر رہی تھیں۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والے پیسے کا استعمال ہتھیار اور جوہری پروگراموں میں کر رہا ہے۔ ٹرمپ کے چین دورے سے پہلے اس کارروائی کو بڑا سفارتی دباؤ مانا جا رہا ہے۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ لوگ اور کمپنیاں ایرانی تیل کو چین تک پہنچانے اور بیچنے میں مدد کر رہے تھے۔ یہ قدم ایسے وقت اٹھایا گیا ہے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ 13 مئی سے چین دورے پر بیجنگ جانے والے ہیں۔ وہاں ان کی ملاقات چین کے صدر شی جن پنگ سے ہوگی۔
امریکی ٹریزری محکمہ نے گزشتہ روز کہا کہ ایران کی اسلامک ریولیوشنری گارڈ کارپس یعنی آئی آر جی سی تیل بیچنے کے لئے الگ الگ ممالک میں موجود فرضی یا فرنٹ کمپنیوں کا استعمال کرتی ہے اور اس سے ملنے والا پیسہ اپنی حکومت اور فوجی سرگرمیوں میں استعمال کرتی ہے۔ امریکہ نے جن پر کارروائی کی ہے ان میں ایران کے 3 لوگ، ہانک کانگ اور متحدہ عرب امارات کی 9 کمپنیاں شامل ہیں۔ ان سبھی کی امریکہ میں موجود املاک اب فریز کردی جائیں گی۔ اس کے ساتھ ہی امریکی کمپنیاں اور شہری ان کے ساتھ کسی بھی طرح کا کاروبار یا لین دین نہیں کر پائیں گے۔
غور طلب ہے کہ امریکہ پہلے سے ہی ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھا رہا ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ وہ ایران کو اسلحہ پروگرام، جوہری سرگرمیوں اور اس کی حمایت یافتہ تنظیموں کے لئے پیسہ حاصل کرنے سے روکنا چاہتا ہے۔ امریکہ کے ٹریزری سکریٹری اسکاٹ بسینٹ بے کہا کہ اکنامک فیوری مہم کے تحت ایران پر لگاتار اقتصادی دباؤ بنایا جائے گا۔
یاد رہے کہ ایران اور امریکہ-اسرائیل کشیدگی کا اثر دنیا کے تیل بازار پر بھی پڑ رہا ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز کے راستے کو تقریباً بند کر دیا ہے۔ د نیا کا تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اس سے تیل سپلائی اور قیمتوں کے حوالےسے تشویش میں اضافہ ہوگیا ہے۔
مارچ میں امریکہ نے تیل کی قیمت کو دیکھتے ہوئے ایرانی تیل پر کچھ پابندیوں میں نرمی کی تھی لیکن اب پھر سے سختی بڑھا دی گئی ہے۔ چین، ایران کا سب سے بڑا تیل خریدار اور بڑا کاروباری شراکت دار مانا جاتا ہے۔ ٹرمپ کے چین دورے میں کاروباری تنازعات کے ساتھ ایران کا معاملہ بھی اہم رہے گا۔ امریکہ چاہتا ہے کہ چین، ایران پر زیادہ دباؤ ڈالے۔ اس سے پہلے امریکہ چین کی 3 سیٹیلائٹ کمپنیوں اور کئی ہانگ کانگ کی کمپنیوں پر بھی پابندی عائد کرچکا ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
