ضروری اشیا کی سپلائی ٹھپ، 28 فروری کو امریکہ-اسرائیل نے جو شروع کیا وہ آج بھی جاری: ایران
ایران کا کہنا ہے کہ اسے اپنے دفاع میں جوابی کارروائی کرنی پڑی تاکہ حملہ آور آبنائے ہرمز کا غلط استعمال نہ کر سکیں۔ ایران خود اس گزرگاہ پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، اس لیے وہ بھی وہاں سیکورٹی چاپتا ہے۔

مغربی ایشیا میں جاری خطرناک تنازع نے پوری دنیا کی کمر توڑ دی ہے۔ موجودہ حالات میں سپلائی چین مکمل طور پر بگڑ گئی ہے۔ اس دوران ایران نے کہا ہے کہ ہندوستان سمیت دیگر ممالک کی بدحالی کے لیے تہران ذمہ دار نہیں ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسمٰعیل بقائی نے موجودہ صورتحال کے لیے امریکہ اور اسرائیل کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اس صورتحال سے خوش نہیں ہے لیکن یہ جنگ ان پر تھوپی گئی ہے۔
ایک مخصوص انٹرویو میں اسمٰعیل بقائی نے کہا کہ عالمی برادری کو امریکہ اور اسرائیل کی جوابدہی طے کرنا چاہئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان ممالک نے جو شروع کیا، وہ آج بھی جاری ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آبنائے ہرمز کے بند ہونے سے ہندوستان جیسے ممالک پریشان ہیں، تو انہوں نے 28 فروری کی تاریخ یاد دلائی۔ بقائی کے مطابق اس دن سے پہلے آبنائے ہرمز کا راستہ ہر ملک کے لیے کھلا اور محفوظ تھا۔
بقائی نے دعویٰ کیا کہ ایران نے جو بھی قدم اٹھائے ہیں وہ بین الاقوامی قانون کے دائرے میں ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ امریکہ اور اسرائیل نے خلیج کے دیگر ممالک کی زمین کا استعمال ایران پر حملہ کرنے کے لیے کیا۔ ایران نے دلیل دی کہ اسے اپنے دفاع میں جوابی کارروائی کرنی پڑی تاکہ حملہ آور آبی گزرگاہ کا غلط استعمال نہ کر سکیں۔ ایران خود اس آبی گزرگاہ پر سب سے زیادہ انحصار کرتا ہے، اس لیے وہ بھی وہاں سیکورٹی چاہتا ہے۔
دوسری طرف امریکہ نے ایران کا محاصرہ اور سخت کر دیا ہے۔ امریکہ کے محکمہ ٹریزری نے عالمی بینکوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایرانی منی لانڈرنگ نیٹ ورک پر گہری نظر رکھیں۔ امریکہ کا الزام ہے کہ ایران کی شیل کمپنیوں اور کرپٹو نیٹ ورک کے ذریعہ پابندی شدہ تیل کی اسمگلنگ کر رہا ہے۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی لائف سپورٹ پر ہے۔ انہوں نے تہران کی امن تجاویز کو ٹھکراتے ہوئے اسے ایک بڑی رکاوٹ بتایا ہے۔
امریکی انتظامیہ نے بینکوں سے ان کمپنیوں کی شناخت کرنے کے لیے کہا ہے جو اچانک بھاری لین دین کر رہی ہیں۔ خاص طور پر ملیشیائی بلینڈ کے نام پر بیچے جا رہے ایرانی تیل کی نگرانی میں اضافہ کیا گیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ اب عراق، یو اے ای اور عمان جیسے ممالک پر بھی دباؤ بنا رہا ہے تاکہ ایران کی اقتصادی شہ رگ کو پوری طرح کاٹا جا سکے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
