امریکی پابندیوں کے خلاف چین کی قانونی جوابی کارروائی، کمپنیوں کو تعمیل سے انکار کی ہدایت

امریکی ٹریژری دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات نے عالمی مالیاتی اداروں کو خبردار کیا ہے کہ چین کی چھوٹی خود مختار ریفائنریز، جنہیں ’ٹی پاٹ ریفائنریز‘ کہا جاتا ہے، سے متعلق لین دین خطرناک ہو سکتے ہیں

امریکہ اور چین، تصویر آئی اے این ایس
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی کشیدگی ایک نئی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ چین کی وزارت تجارت نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے ملک کی کمپنیوں کو امریکی پابندیوں کی تعمیل نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ اقدام خاص طور پر چینی پیٹرو کیمیکل کمپنیوں کے تحفظ کے لیے اٹھایا گیا ہے جن پر امریکہ نے ایران کے تیل کی تجارت میں ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے۔

چین نے ہفتے کے روز ایک باضابطہ حکم جاری کرکے اپنے ’بلاکنگ اسٹیچیوٹ‘ کا استعمال کیا جو اس کے اپنے ملک میں غیر ملکی قوانین کے اثر کو بے اثر کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اسے سفارتی احتجاج سے آگے بڑھ کر ایک قانونی جوابی کارروائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس حکم کے تحت ملکی کمپنیوں کو امریکی پابندیوں کو نظر انداز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔


چینی سرکاری میڈیا کے مطابق اس آرڈر کے ذریعے محفوظ ہونے والی کمپنیوں میں ہونگلی پیٹرو کیمیکل (ڈالیان) ریفائننگ کمپنی، لمیٹڈ، شیڈونگ شوگوانگ لوکینگ پیٹرو کیمیکل کمپنی، لمیٹڈ، شیڈونگ جنچینگ پیٹرو کیمیکل گروپ کمپنی، لمیٹڈ، ہیبی ژنہائی کیمیکل گروپ کمپنی، لمیٹڈ اور شینڈونگ لمیٹڈ، شینگ لمیٹڈ، شینڈونگ کیمیکل کمپنی شامل ہیں۔ امریکہ نے ان کمپنیوں کو اپنی ’’خصوصی نامزد کردہ قومی‘‘فہرست میں رکھا ہے، جن کے اثاثے منجمد اور ان کے ساتھ لین دین پر پابندی لگائی جاتی ہے۔

چین کی وزارت تجارت کے ترجمان نے کہا ہے کہ 2025 سے امریکہ چینی کمپنیوں پر ایران کے تیل کی تجارت میں ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہوئے ایگزیکٹو آرڈرز کے ذریعے پابندیاں لگا رہا ہے۔ چین نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس سے عام بین الاقوامی تجارتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔


حال ہی میں امریکی ٹریژری کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول نے عالمی مالیاتی اداروں کو خبردار کیا ہے کہ چین کی چھوٹی خود مختار ریفائنریز، جنہیں ’’ٹی پاٹ ریفائنریز‘‘ کہا جاتا ہے، سے متعلق لین دین خطرناک ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر شیڈونگ صوبہ کی وہ ریفائنریاں 2026 تک ایرانی خام تیل کی درآمد اور پروسیسنگ میں کلیدی کردار ادا کررہی ہیں۔

امریکہ کے مطابق ہونگلی پیٹرو کیمیکل جیسی کمپنیاں ایران سے بڑی مقدار میں خام تیل خرید کر ایران کی تیل کی معیشت کو مضبوط کر رہی ہیں۔ چین نے اپنے حکم نامے میں واضح کیا کہ یہ اقدامات قومی خودمختاری، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کے تحفظ کے لیے کیے گئے ہیں۔ مزید برآں اس نے یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات جن کو اقوام متحدہ کی منظوری حاصل نہیں ہے، بین الاقوامی قانون کے مطابق نہیں ہیں۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔