ایران کو نیا ایئر ڈیفنس سسٹم فراہم کرے گا چین، جنگ بندی کے درمیان امریکہ کو پریشان کرنے والی رپورٹ آئی سامنے
چینی سفارت خانہ نے امریکہ سے بے بنیاد الزامات عائد کرنے سے گریز کرنے کی اپیل کی۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ایک ذمہ دار بڑے ملک کے طور پر، چین مسلسل اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کرتا ہے۔

امریکی خفیہ ایجنسیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ چین آنے والے کچھ ہفتوں میں ایران کو نئے ایئر ڈیفنس سسٹم فراہم کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ اطلاع ان 3 ذرائع کے حوالے سے سامنے آئی ہیں جو حالیہ خفیہ جائزوں سے واقف ہیں۔ یہ دعویٰ ایسے وقت کیا جا رہا ہے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ آئندہ ماہ چین کے دورے پر جانے والے ہیں۔ اس سے امریکہ اور چین کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب حال ہی میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہوئی عارضی جنگ بندی پر بھی اس خفیہ جائزہ کا اثر پڑ سکتا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ چین نے خود اس جنگ بندی میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ ایسے میں ایران کو ہتھیار دینے کی تیاری چین کے اداروں پر سوالیہ نشان کھڑے کر سکتی ہے۔
خفیہ معلومات کے مطابق ایران جنگ بندی کو اہم غیر ملکی شراکت داروں کی مدد سے کچھ ہتھیاروں کے نظام کو دوبارہ حاصل کرنے کے موقع کے طور پر استعمال کر رہا ہوگا۔ ذرائع کے مطابق ایسے اشارے ملے ہیں کہ چین ان ہتھیاروں کی فراہمی کو چھپانے کے لیے انہیں تیسرے ممالک کے ذریعے بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، تاکہ ان کے اصل ذرائع کو خفیہ رکھا جا سکے اور بین الاقوامی دباؤ سے بچا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق چین جن ایئر ڈیفنس سسٹم کو ایران کو دینے کی تیاری میں ہے، وہ کندھے پر رکھ کر چلائے جانے والے اینٹی ایئرکرافٹ میزائل سسٹم ہیں، جنہیں ’مین پیڈس‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ سطح سے ہوا میں مار کرنے والے (سرفیس ٹو ایئر) میزائل ہیں، جنہیں ایک یا 2 فوجیوں کے ذریعے آسانی سے لے جایا اور چلایا جا سکتا ہے۔ یہ کم اونچائی پر اڑنے والے لڑاکا طیاروں کے لیے بڑا خطرہ مانے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ حالیہ جنگ میں بھی ایسے ہتھیاروں نے امریکی طیاروں کے لیے چیلنج پیدا کیا تھا۔ گزشتہ 5 ہفتوں کی جنگ کے دوران، ان سسٹم نے کم بلندی پر اڑنے والے امریکی فوجی طیاروں کے لیے ایک غیر متناسب خطرہ پیدا کیا تھا۔ اگر جنگ بندی ختم ہوتی ہے تو یہ خطرہ دوبارہ پیدا ہو سکتا ہے۔ حالانکہ واشنگٹن میں موجود چینی سفارت خانہ کے ترجمان نے ان الزامات کو مکمل طور پر خارج کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چین نے کبھی بھی اس تنازعہ میں کسی بھی فریق کو ہتھیار فراہم نہیں کرائے ہیں اور یہ معلومات مکمل طور سے غلط ہیں۔
چینی سفارت خانہ نے امریکہ سے بے بنیاد الزامات عائد کرنے سے گریز کرنے کی اپیل بھی کی۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ایک ذمہ دار بڑے ملک کے طور پر، چین مسلسل اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کرتا ہے۔ ہم امریکی فریق سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بے بنیاد الزامات لگانے، بدنیتی پر مبنی روابط قائم کرنے اور سنسنی خیز خبریں پھیلانے سے باز رہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ متعلقہ فریق کشیدگی کم کرنے میں تعاون کے لیے مزید کوششیں کریں گے۔ دوسری جانب رواں ہفتہ کی شروعات میں سفارتخانہ کے ایک ترجمان نے سی این این کو بتایا تھا کہ امریکہ-اسرائیل-ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے بیجنگ جنگ بندی کرانے اور کشیدگی کو ختم کرنے میں مدد کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔
حال ہی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا تھا کہ گزشتہ ہفتے ایران کے اوپر گرائے گئے ایف-15 لڑاکا طیارے کو کندھے سے داغی جانے والی ہاتھ میں پکڑنے والی میزائل، یعنی ہیٹ-سیکنگ میزائل سے نشانہ بنایا گیا تھا۔ دوسری طرف ایران نے کہا کہ اس نے طیارے کو نشانہ بنانے کے لیے ایک نئے ایئر ڈیفنس سسٹم کا استعمال کیا تھا، حالانکہ تہران نے اس بارے میں مزید کوئی معلومات فراہم نہیں کیں۔ ایسی صورتحال میں یہ واضح نہیں ہے کہ وہ نظام چین کا تیار کردہ تھا یا نہیں۔
اس واقعہ کا اثر امریکہ اور چین کے تعلقات پر بھی پڑ سکتا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ آئندہ ماہ چین کے دورے پر جانے والے ہیں، جہاں ان کی ملاقات صدر شی جن پنگ سے ہونی ہے۔ ایسے میں یہ مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کر سکتا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے گزشتہ بدھ کو کہا تھا کہ اس ہفتے کے شروع میں ایران کے ساتھ جنگ بندی مذاکرات کے دوران امریکہ اور چین کے درمیان اعلیٰ سطحی بات چیت ہوئی تھی۔
خفیہ معلومات رکھنے والے ذرائع نے بتایا کہ چین کو اس تنازعہ میں کھل کر شامل ہونے اور امریکہ-اسرائیل کے خلاف ایران کا دفاع کرنے میں کوئی حقیقی اسٹریٹجک فائدہ نظر نہیں آتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ کوشش ناممکن ہوگی۔ اس کے بجائے بیجنگ ایران کے ایک مستقل دوست کے طور پر اپنی شبیہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جس کے تیل پر وہ کافی حد تک منحصر ہے، جبکہ ظاہری طور پر وہ غیر جانبدار بنا ہوا ہے تاکہ جنگ ختم ہونے کے بعد وہ اپنی ذمہ داری سے مکر سکے۔ ذرائع کے مطابق چین کھل کر اس تنازعہ میں شامل نہیں ہونا چاہتا، لیکن وہ ایران کے ساتھ اپنے معاشی اور اسٹریٹجک تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ خاص طور پر ایران کے تیل پر اس کا انحصار اس معاملے کو مزید اہم بناتا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔