بنگلہ دیش کے انتخابات میں امریکہ کی دلچسپی! سفارتکار کی بند کمرے میں جماعت کے رہنماؤں سے میٹنگ

سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد جماعت نے اپنی شبیہ میں تبدیلی کی ہے۔ اب یہ انسداد بدعنوانی اور فلاح و بہبود کے ایجنڈے پر زور دے کر اپنی عوامی حمایت بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

 جیسے جیسے بنگلہ دیش میں عام انتخابات (12 فروری) قریب آرہے ہیں، سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہے۔ سب کی نظریں خاص طور پر جماعت اسلامی کی کارکردگی پر مرکوز ہیں۔ فی الحال بنگلہ دیش کے موجودہ حالات سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ جماعت اسلامی’گیم چینجر‘ بن سکتی ہے۔ ایسی صورتحال میں امریکہ نے اپنے ارادے ظاہر کرنا شروع کردیئے ہیں۔ امریکی اخبار’دی واشنگٹن پوسٹ‘ کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ڈھاکہ میں مقیم امریکی سفارت کار جماعت اسلامی کے رابطے میں ہے۔ اس سفارتکار نے بنگلہ دیش میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا حوالہ دیتے ہوئے جماعت کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی بات کہی۔

واضح رہے کہ جماعت اسلامی طویل عرصے سے پاکستان کی حامی رہی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ڈھاکہ میں تعینات امریکی سفارت کار نے یکم دسمبر 2025 کو بند کمرے میں ہوئی میٹنگ میں بنگلہ دیشی صحافیوں سے کہا کہ واشنگٹن کو امید ہے کہ جماعت اسلامی 12 فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں اپنی سابقہ ​​انتخابی کارکردگی سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔


اس دوران کئی سروے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انتخابات میں جماعت اسلامی اپنی کارکردگی سے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے قریب پہنچ سکتی ہے۔ اس امریکی سفارت کار (جن کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے) نے کہا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ جماعت اسلامی کے رہنما اس کے ’دوست‘ بنیں۔ دریں اثنا بنگلہ دیش میں واقع امریکی سفارت خانے نے واضح کیا کہ امریکہ کسی سیاسی جماعت کی حمایت نہیں کرتا۔ یہ ملاقات’ معمول کے مطابق آف دی ریکارڈ‘ تھی۔حالانکہ امریکہ کا خیال ہے کہ کئی بار پابندی کا سامنا کرچکی جماعت اسلامی اب سیاسی طور پر اب سیاسی طور سے اہم ہوچکی ہے اس لئے واشنگٹن اسے نظر انداز نہیں کر سکتا۔

بتادیں کہ 1971 میں پاکستان سے بنگلہ دیش کی آزٓدی کی مخالفت کرنے کی وجہ سے جماعت اسلامی کو طویل عرصے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اب آئندہ انتخابات سے قبل جماعت نے خود کو نئے انداز میں پیش کیا ہے جس سے روایتی آزاد خیال اور اقلیتی طبقے بے چین ہیں۔ سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد جماعت نے اپنی شبیہ میں تبدیلی کی ہے۔ اب یہ انسداد بدعنوانی اور فلاح و بہبود کے ایجنڈے پر زور دے کر اپنی عوامی حمایت بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔


امریکہ میں قائم تھنک ٹینک انٹرنیشنل ریپبلکن انسٹی ٹیوٹ (آئی آر آئی) کے دسمبر میں ہوئےعوامی سروے میں جماعت نے بی این پی کو سخت مقابلہ دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ سروے میں شامل 53 فیصد لوگوں نے اس پارٹی کو پسند کیا۔ شیخ حسینہ سمیت متعدد حکومتوں کے تحت کالعدم رہی جماعت طویل عرصے سے شریعت پر مبنی حکمرانی کی وکالت کرتی رہی ہے۔ حالیہ مہینوں میں پارٹی نے اپنا رُخ نرم کیا ہے۔ پارٹی نے جامع گورننس اور انسداد بدعنوانی کے ایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنا موقف نرم کیا ہے۔ حالانکہ امریکی سفارت خانے کی ترجمان مونیکا شی نے دسمبر میں ہونے والی گفتگو کو معمول اور آف دی ریکارڈ بتاتے ہوئے کہا کہ امریکہ کسی بھی سیاسی پارٹی کی حمایت نہیں کرتا وہیں جماعت نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔