’ایران کو بھی ملنی چاہئے میزائل رکھنے کی اجازت‘، ایران-امریکہ ایم او یو پر دستخط کے بعد ٹرمپ کا یو ٹرن
ٹرمپ کے بیان سے امریکی پالیسی میں تبدیلی کے اشارے مل رہے ہیں کیونکہ پہلے ایران کے میزائل پروگرام کو پوری طرح ختم کرنے پر زور دیا جارہا تھا۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران پرحملہ بھی اسی مقصد سے کیا تھا۔

ایران کے پاس موجود میزائل ذخیرے کو ختم کرنے کی دھمکیاں دینے والے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اب اپنی بات سے پلٹ گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کو کچھ بیلسٹک میزائلیں رکھنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ جی-7 چوٹی کانفرنس کے دوران فرانس میں ٹرمپ نے اس بات کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر دوسرے ممالک کے پاس میزائلیں ہیں تو ایران کو بھی کچھ رکھنے کا اجازت ملنی چاہئے۔
ٹرمپ نے واضح کیا کہ میزائلیں کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہیں کیونکہ وہ صرف ایک جگہ کو نشانہ بنا کر نقصان پہنچا سکتی ہیں لیکن جوہری اسلحہ پورے کرۂ ارض کو تباہ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب اور قطر جیسے ممالک کی مثال دی جن کے پاس میزائلیں ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کو بھی متناسب تعداد میں میزائلیں رکھنے کی اجازت کی چھوٹ ملنی چاہئے۔ اس بیان سے امریکی پالیسی میں تبدیلی کے اشارے مل رہے ہیں کیونکہ پہلے ایران کے میزائل پروگرام کو پوری طرح ختم کرنے پر زور دیا جارہا تھا۔ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی بھی اسی لئے شروع کی تھی۔
بیرونی حملے کے وقت ایران نے اپنے میزائل خزانے کا دہانہ کھول دیا تھا اور جوابی کارروائی میں مسلسل میزائلیں داغ کر حملہ آوروں کے دانت کھٹے کر دیئے تھے۔ ایران کے اسی مضبوط میزائل اور جوہری پروگرام کو ختم کرنے کے مقصد سے امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا لیکن اب ٹرمپ انتظامیہ اس معاملے کو کم اہمیت دے رہی ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ اگر معاہدہ نہیں ہوتا تو اور 3-4 ہفتے بمباری جاری رکھی جا تی لیکن اس سے آبنائے ہرمز بند ہوجاتا اور عالمی معیشت میں بھاری تباہی آجاتی۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’’اگر ہم بمباری جاری رکھتے تو روز 500 سے 700 ملین ڈالر کا خرچ ہوتا، ہم 4 ہفتوں میں ہتھیاروں کے بھنڈار ختم کردیتے‘‘۔ انہوں نے سمجھوتے کو معاشی تباہی سے بچانے والا بتایا۔ اسی دوران ایرانی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ دونوں ممالک کے صدور نے اس ایم او یو پر سرکاری طور پر دستخط کردیئے ہیں۔ سمجھوتے کا پورا مواد ابھی عام نہیں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے تنقید ہو رہی ہے۔
سمجھوتے میں ایران کو اپنے انتہائی افزودہ یورینیم ذخیرے کو سونپنے کی شرط نہیں رکھی گئی ہے۔ یہ ذخیرہ 11 جوہری بم بنانے کے لیے کافی مانا جاتا ہے۔ اس کے بجائے دونوں ممالک اگلے 2 ماہ میں اس مسئلے پر بات چیت کریں گے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران ان ذخیروں تک پہنچ ہی نہیں سکتا کیونکہ امریکہ نے اس کے 3 اہم نیوکلیئر پلانٹس کو بمباری سے تباہ کردیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
