ٹرمپ کی ایران کو سخت دھمکی، تیل و گیس کے شعبے پر قبضے کا دعویٰ، خطے میں جنگ کے خدشات

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران پر شدید حملے اور اس کے تیل و گیس کے شعبے پر قبضے کی دھمکی دی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے پورے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خدشات مزید بڑھا دیے ہیں

<div class="paragraphs"><p>ڈونالڈ ٹرمپ (فائل فوٹو)</p></div>
i

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ایران پر انتہائی طاقتور حملہ کرے گا اور اس کے تیل و گیس کے شعبے پر مکمل کنٹرول حاصل کر لے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جائے گا اور بہت جلد اس کے تیل و گیس کے شعبوں پر مکمل قبضہ کر لیا جائے گا۔

ٹرمپ نے اپنی حکمت عملی کا موازنہ وینزویلا کی اس صورت حال سے کیا جس میں امریکہ نے جنوری میں صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد وہاں کے تیل کے شعبے پر اثر و رسوخ قائم کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ ان کے بیان کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور مبصرین خطے کو ایک وسیع جنگ کے دہانے پر قرار دے رہے ہیں۔

امریکہ اور ایران کے درمیان مسلسل دوسرے روز بھی حملوں کا تبادلہ جاری رہا۔ ایران میں جمعرات کی صبح تک امریکی کارروائیوں کا دائرہ اور شدت پہلے کے مقابلے میں زیادہ وسیع دکھائی دی۔ ایرانی حکام نے نقصانات کے بارے میں محدود معلومات فراہم کیں، تاہم دعویٰ کیا کہ انہوں نے کویت، بحرین اور اردن میں بعض اہداف کے خلاف جوابی کارروائیاں کی ہیں۔


خلیج فارس میں واقع جزیرہ خارگ ایران کی معیشت کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ ملک کی تقریباً نوے فیصد تیل برآمدات اسی راستے سے ہوتی ہیں۔ یہ جزیرہ کویت اور سعودی عرب میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کے بالمقابل واقع ہے۔ امریکی فوج نے کہا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی نگرانی جاری رکھتے ہوئے ایک ایسے ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا جو ایرانی تیل لے جا رہا تھا۔

کشیدگی کا آغاز ایران اور اسرائیل کے درمیان حملوں سے ہوا تھا، تاہم بعد میں امریکہ بھی براہ راست اس تنازع میں شامل ہو گیا۔ امریکہ اور ایران کے درمیان دو مرتبہ گولہ باری کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے اثرات ان ممالک تک بھی پہنچے جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔

ادھر ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے، تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس دعوے کو مسترد کر دیا۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ نے حالیہ ہفتوں میں ایک خفیہ کارروائی کے ذریعے اس اہم آبی راستے سے گزرنے والے جہازوں کو تحفظ فراہم کیا۔

کویت نے حملوں کے بعد کئی گھنٹوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دیں، جبکہ اردن نے اعلان کیا کہ اس نے ایران کی جانب سے داغی گئی بیس میزائلوں کو تباہ کر دیا۔ بحرین کے حکام کے مطابق ایک کارروائی کے دوران گرنے والے ملبے سے گیارہ سالہ بچی زخمی ہوئی جبکہ متعدد گاڑیوں اور عمارتوں کو نقصان پہنچا۔


ایران کے دارالحکومت تہران، بندر عباس اور آبنائے ہرمز کے اطراف کے علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں مسلسل سنائی دیتی رہیں۔ دوسری جانب اسرائیل نے شمالی علاقوں کے رہائشیوں کو ممکنہ حملوں کے پیش نظر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی ہے۔ خطے میں جاری یہ کشیدگی عالمی برادری کے لیے تشویش کا باعث بن گئی ہے اور سفارتی حل کی کوششوں پر زور دیا جا رہا ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔