مشرق وسطیٰ میں پھر کشیدگی! ایران نے امریکی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا،امریکہ نے ایرانی دعوے کو خارج کیا
آبنائے ہرمز کے ارد گرد کشیدگی کے درمیان ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اپنے جنوبی علاقوں سے میزائل داغنے۔ ایرانی میڈیا نے امریکی طیارے کو مار گرائے جانے کی خبر دی تھی تاہم امریکہ نے اس کی تردید کی ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری امن مذاکرات کے درمیان خلیجی خطے کی صورتحال ایک بار پھر کشیدہ دکھائی دے رہی ہے۔ جمعہ کی صبح سویرے ایران کے ساحلی صوبے بوشہر اور آبنائے ہرمز میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے فضائی دفاعی نظام نے صوبہ بوشہر کے علاقے جام میں امریکی فوجی طیارے کو مار گرایا۔ تاہم امریکہ نے ان دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
ایرانی خبر رساں اداروں تسنیم اور فارس کے مطابق جمعہ کی علی الصبح صوبہ بوشہر کا آسمان اچانک میزائلوں کے گرنے اور دھماکوں کی آوازوں سے گونج اٹھا۔ ایران کے سرکاری ٹی وی نے جام کاؤنٹی کے گورنر مسعود تنگستانی کے حوالے سے بتایا کہ "آج رات، فضائی دفاعی نظام نے دشمن کے ایک لڑاکا طیارے کو کامیابی سے مار گرایا"۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ یہ امریکی طیارہ تھا۔ تاہم امریکی حکام نے ایران کے اس دعوے کو مکمل طور پر غلط قرار دیا ہے۔
اس سے قبل ایران کی فارس خبر رساں ایجنسی نے اطلاع دی تھی کہ ایرانی مسلح افواج نے ملک کے جنوبی علاقوں سے متعدد میزائل داغے ہیں جن کے صحیح اہداف کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔ ادھر تسنیم ادارے کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو خبردار کرنے کے لیے سمندر میں شدید گولہ باری کی گئی جس سے ساحلی علاقوں میں خوف وہراس پھیل گیا۔ یہ فوجی کارروائی ایران کے پاسداران انقلاب (IRGC) کی جانب سے ہرمز کے قریب چار تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے چند گھنٹے بعد ہوئی ہے، جن میں سے بعض کا تعلق امریکہ سے بتایا جاتا ہے۔
حیرت انگیز طور پر یہ تازہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان 60 دن کی عارضی جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے ’امن معاہدے‘ کی خبریں گردش کر رہی تھیں۔ جہاں سفارتی میز پر امن کا لائحہ عمل مرتب کیا جا رہا ہے، وہیں دونوں ممالک کے درمیان صورتحال ایک بار پھر کشیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
