آیت اللہ خامنہ ای کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے ٹرمپ کا منصوبہ!، کیا ایران پھر کر دے گا ناکام

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ قیادت کو ملک کو صحیح طریقے سے چلانے پر توجہ دینی چاہیے، جیسے میں امریکہ کو چلاتا ہوں، نہ کہ ہزاروں لوگوں کو مار کر صرف کنٹرول برقرار رکھنے پر۔

<div class="paragraphs"><p>خامنہ ای / ڈونالڈ ٹرمپ</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ایران میں حکومت مخالت احتجاج کی شدت میں نمایاں کمی آنے کے دوران امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ نے روحانی پیشواراور مملکت کے سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای کے 37 سالہ دورحکمرانی کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو وہ پہلے بھی کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں نئی لیڈر شپ کی ضرورت ہے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ خامنہ ای کی وجہ سے ایران دنیا میں سب سے خراب جگہ بن گیا ہے۔ انہوں نے ایرانی قیادت پر بے مثال تشدد استعمال کرنے کا بھی الزام لگایا۔ لیکن کیا ایران امریکہ کے منصوبے کو ناکام کر دے گا۔

ٹرمپ نے یہ بیان سنیچر کے روز ایک نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے دیا۔ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ایران میں کئی ہفتوں سے جاری احتجاج میں نمایاں کمی دیکھی جارہی ہے جہاں اسلامی جمہوریہ کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج ہو رہا تھا۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں نئی ​​قیادت کی ضرورت ہے۔ انھوں نے 82 سالہ آیت اللہ خامنہ ای کو’بیمار شخص‘ بتایا اور الزام لگایا کہ ایران کی قیادت جبر اور تشدد پر مبنی ہے۔ انہوں نے خامنہ ای پر ملک کو ’مکمل طور پر تباہ‘ کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ ہزاروں لوگوں کو مار کر کنٹرول برقرار رکھنا غلط ہے۔


ٹرمپ نے کہا کہ ’آیت اللہ‘ خامنہ ای کا اب تک کا سب سے اچھا فیصلہ یہ تھا کہ دو دن پہلے 800 سے ملک مخالف مظاہرین کو پھانسی دینے کا فیصلہ ملتوی کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ قیادت کو ملک کو صحیح طریقے سے چلانے پر توجہ دینی چاہیے، جیسے میں امریکہ کو چلاتا ہوں، نہ کہ ہزاروں لوگوں کو مار کر صرف کنٹرول برقرار رکھنے پر۔ ٹرمپ کے مطابق کے مطابق قیادت کا مطلب احترام ہے، خوف اور موت نہیں۔

ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران میں بدامنی روکنے کے لیے سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جس میں غیر ملکی میڈیا کے مطابق 3,428 لوگوں کی موت ہوگئی۔ ٹرمپ نے پہلے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران مظاہرین کو مارے گا تو امریکہ فوجی مداخلت کرے گا۔ انہوں نے مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’مدد راستے میں ہے‘ لیکن ایسی کوئی مداخلت نہیں ہوئی۔


بعد ازاں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بیانات پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کرتے ہوئے ملک میں بدامنی پھیلانے والے کو’غدار‘ قرار دیا اور کہا کہ ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث لوگوں کی کمر توڑ دی جائے گی۔ خامنہ ای نے ٹرمپ کو مبینہ ہلاکتوں اور نقصانات کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ملک کو جنگ کی طرف نہیں لے جانا چاہتے لیکن مملکت میں بدامنی پھیلانے والوں کوبخشیں گے نہیں۔ انہوں نے ’بین الاقوامی مجرموں‘ کو بھی سزا دینے کی بات کہی۔

ایران کی حکومت نے ان مظاہروں کو ’دہشت گردانہ کارروائیاں‘ اور ’فسادات‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے اسے امریکہ کی سازش کہا جس کا مقصد ایران پر فوجی، سیاسی اور اقتصادی قبضہ کرنا ہے۔ جلاوطن شاہ رضا پہلوی نے ایرانیوں سے اپیل کی کہ وہ ’غصہ اور مظاہروں‘ کے ساتھ اپنی آواز بلند کریں۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ ٹرمپ ایرانی عوام کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ پہلوی نے کہا کہ وہ سیکولر جمہوریت کی طرف منتقلی چاہتے ہیں اور اگلی حکومت کا انتخاب ریفرنڈم کے ذریعے کریں گے۔ بہت سے مظاہرین نے ان کے نام پر نعرے لگائے کیونکہ ان کے والد 1979 کے اسلامی انقلاب کے دوران فرار ہو گئے تھے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔