اگلے ہفتے حد پار کر سکتے ہیں ٹرمپ، ہندوستان پر ایک اور بڑا ’ٹیرف بم‘ پھوڑنے کی تیاری
نیا بل پیش کرنے والے ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم کے مطابق اس بل سے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ہندوستان، چین اور برازیل جیسے ممالک پر دباؤ بنانے کی طاقت ملے گی تاکہ وہ سستے روسی تیل کو خریدنا بند کریں

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک ایسے بل کو منظوری دے دی ہے جس کے تحت روس سے تیل خریدنے والے ممالک پر سخت کارروائی کی جاسکے گی۔ اس کے بعد ہندوستان اور چین پر امریکی ٹیرف بہت زیادہ بڑھ سکتا ہے، بعض صورتوں میں یہ 500 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ قدم یوکرین جنگ کے درمیان روس پر دباؤ بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے سوشل میڈیا پراعلان کیا کہ صدر ٹرمپ نے بل کو آگے بڑھانے کی منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کے ساتھ میٹنگ اچھی رہی اوراگلے ہفتے کانگریس میں اس بل پر ووٹنگ ہو سکتی ہے۔
یہ بل لنڈسے گراہم اور ڈیموکریٹک سینیٹر رچرڈ بلومینتھل نے مشترکہ طور پر پیش کیا ہے۔ اس کے تحت ایسے ممالک پر سختی کی جاسکے گی جو جان بوجھ کر روس سے تیل اور یورینیم خرید رہے ہیں۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ اس سے روس کو اپنی جنگ جاری رکھنے کے لیے پیسہ ملتا ہے۔
سینیٹر گراہم کے مطابق اس بل سے صدر ٹرمپ کو ہندوستان، چین اور برازیل جیسے ممالک پر دباؤ بنانے کی طاقت ملے گی تاکہ وہ سستے روسی تیل کو خریدنا بند کریں۔ گزشتہ سال ٹرمپ نے ہندوستان سے درآمد کی جانے والی اشیا پر25 فیصد ٹیکس عائد کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی روس سے تیل خریدنے پر 25 فیصد اضافی ٹیکس بھی عائد کردیا گیا۔ اس سے کچھ ہندوستانی اشیاء پر کل ٹیکس 50 فیصد تک پہنچ گیا اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو گئے۔
امریکہ اور چین کے درمیان بھی ٹیکس کے حوالے سے بہت زیادہ کشیدگی پائی جارہی ہے۔ امریکہ نے چین سے آنے والے سامان پر 145 فیصد ٹیکس لگادیا جس کے جواب میں چین نے امریکی سامان پر 125 فیصد ٹیکس لگایا تھا۔ حالانکہ بعد میں امریکہ اور چین نے ایک مشترکہ بیان میں اعلان کیا کہ وہ 90 دنوں کے لیے اپنے اپنے ٹیرف معطل کر دیں گے اور بات چیت جاری رکھیں گے۔ سمجھوتے کے مطابق امریکہ چین سے آنے والے سامان پر ٹیکس 145 فیصد سے کم کر کے 30 فیصد کر دے گا۔ وہیں چین، امریکہ سے درآمد کی جانے والی اشیاء پر ٹیکس 125 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کر دے گا۔
حالیہ دنوں میں ٹرمپ نے اشارے دیئے ہیں کہ ہندوستان پر نئے ٹیکس لگائے جا سکتے ہیں۔ ایئر فورس ون میں سوار صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی جانتے تھے کہ وہ خوش نہیں ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’پی ایم مودی اچھے آدمی ہیں، لیکن مجھے خوش رکھنا ضروری تھا، ہم بہت جلد ٹیکس بڑھا سکتے ہیں۔‘
واضح رہے کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ٹیکسوں کے حوالے سے جاری مذاکرات فی الحال تعطل کا شکار ہیں۔ امریکہ چاہتا ہے کہ ہندوستان امریکی زرعی اشیا پر ٹیکس کم کرے وہیں حکومت ہند نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ وہ اپنے کسانوں اور ڈیری سیکٹر کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔