افغانستان پر طالبانی قبضہ کے بعد امریکہ نے 9 ہزار فوجیوں کو ہٹایا

وائٹ ہاؤس کی کمیونیکیشن ڈائریکٹر کیٹ بیڈنگ فیلڈ نے جانکاری دی ہے کہ طالبان کے قبضہ کے بعد تقریباً 9 ہزار فوجیوں کو جب کہ جولائی کے بعد 14 ہزار فوجیوں کو ہٹایا گیا ہے۔

امریکی فوجی، تصویر یو این آئی
امریکی فوجی، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

واشنگٹن: طالبان کے افغانستان پر قبضہ کرنے کے بعد، امریکہ نے تقریبا 9000 فوجیوں کو ہٹا دیا ہے، جبکہ جولائی کے بعد نکالے جانے والے فوجیوں کی تعداد 14 ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے۔ امریکی صدر کے دفتر وائٹ ہاؤس کی کمیونیکیشن ڈائریکٹر کیٹ بیڈنگ فیلڈ نے جمعہ کو یہ اطلاع دی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہر روز اس تعداد میں اضافہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ طالبان کے قبضے میں آنے کے بعد، ہم نے اپنے تقریباً 9000 فوجیوں کو نکالا اور جولائی سے اب تک ہم نے تقریباً 14000 فوجی نکالے ہیں۔ ہم ہوائی اڈے کو کنٹرول کر رہے ہیں اور پروازیں باقاعدگی سے چل رہی ہیں۔

بیڈنگ فیلڈ نے کہا کہ محکمہ دفاع کے پاس روزانہ 20-30 پروازوں کا ہدف ہے، جس کے ذریعے روزانہ تقریباً 5000 ہزار افراد کو افغانستان سے نکالا جائے گا۔ اس درمیان امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے صحافیوں کو بتایا کہ طالبان نے امریکہ کو یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ لوگوں کو کابل ایئرپورٹ پہنچنے سے نہیں روکے گا اور نہ ہی امریکی مہم میں کوئی دخل دے گا۔


پرائس نے جمعہ کے روز پریس بریفنگ میں کہا کہ ’’طالبان نے ہمیں وہی کہا ہے جو انہوں نے عوامی طور پر کہا تھا کہ ان کا ہمارے آپریشن اور راستے میں ان لوگوں کو روکنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے جو ایئرپورٹ پہنچنا چاہتے ہیں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔