عراق اور کردستان علاقے کی حکومتوں نے تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کے معاہدے پر کئے دستخط

مسرور برجانی کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں، محمد شیعہ السودانی نے کہا کہ پارلیمنٹ سے وفاقی بجٹ کے مسودے کو منظوری ملنے تک یہ معاہدہ ایک عارضی معاہدہ ہے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر ٹوئٹر&nbsp;@IraqiGovt</p></div>

تصویر ٹوئٹر@IraqiGovt

user

یو این آئی

بغداد: عراق کی حکومت اور نیم خودمختار کردستان کی علاقائی حکومت نے کئی دنوں کے وقفے کے بعد ترکی کے راستے کرد تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کے لیے منگل کو ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ عراقی وزیر اعظم محمد شیعہ السودانی کے دفتر نے ایک بیان میں بتایا کہ السودانی نے کردستان کے علاقائی وزیر اعظم مسرور برجانی اور ان کے ہمراہ آئے وفد کے ساتھ میٹنگ کی، جس کے دوران دونوں فریقین نے پیشہ ورانہ جذبے کے ساتھ تمام تصفیہ طلب مسائل کا حل تلاش کرنے کی اپنی خواہش کا اظہار کیا۔

میٹنگ کے بعد عراق کی وفاقی وزارت تیل اور کردستان کی علاقائی قدرتی وسائل کی وزارت نے معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت خطے اور کرکوک صوبے سے خام تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کی جائے گی۔ بعد ازاں برجانی کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں، السودانی نے کہا کہ پارلیمنٹ سے وفاقی بجٹ کے مسودے کو منظوری ملنے تک یہ معاہدہ ایک عارضی معاہدہ ہے۔ السودانی نے کہا کہ بجٹ کا مسودہ قانون واضح ہے اور یہ بغداد اور اربیل کے درمیان تمام زیر التوا مسائل کو حل کرنے والا ہے۔ بجٹ کے مسودے میں پورے عراق میں رقوم کی منصفانہ تقسیم شامل ہوگی۔


مسرور برجانی نے کہا کہ یہ معاہدہ اربیل اور بغداد کے درمیان دیرینہ تنازعہ کو ختم کرنے اور ’’قومی تیل اور گیس قانون کی حتمی منظوری کے لیے ایک مثبت اور محفوظ ماحول پیدا کرنے‘‘ کی جانب فیصلہ کن قدم ہے۔ برجانی نے کہا ’’میں تمام فریقین کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ یہ معاہدہ وفاقی حکومت اور کردستان کی حکومت کے درمیان ایک اچھے جامع معاہدے تک پہنچنے کا آغاز ہے۔‘‘ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ کرد علاقائی حکومت نے تیل کی آزادانہ برآمد کے سلسلے میں ایک طویل تنازع پر ترکی کے خلاف ثالثی کا مقدمہ جیتنے کے بعد عراق نے ترکی کے راستے پائپ لائن کے ذریعے تقریباً پانچ لاکھ بیرل تیل بھیجنا بند کر دیا تھا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔