حیران کن! ہندوستان کی مجموعی ترقی کے لیے مختص بجٹ کے برابر اے آئی پر پیسہ بہا رہی ہیں ٹیک کمپنیاں
کئی بڑی کمپنیوں نے اپنے بجٹ کا بڑا حصہ براہ راست اے آئی انفراسٹرکچر تیارکرنے کے لیے مختص کیا ہے جس میں بڑے ڈیٹا سینٹر، اعلیٰ درجے کے سرورز، نیٹ ورکنگ کا سامان اور خصوصی چپس شامل ہوں گے۔

دنیا بھر میں توقعات اور خدشات کے درمیان مصنوعی ذہانت (اے آئی) دھیرے دھیرے اپنے پیر پھیلاتا جارہا ہے۔ کمپنیاں اسے تیزی سے اپنانے پر زور دے رہی ہیں۔ بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس سلسلے میں ایمیزون، گوگل، میٹا اور مائیکروسافٹ سمیت 4 بڑی ٹیک کمپنیاں 2026 میں اے آئی اور متعلقہ انفراسٹرکچر تیارکرنے پر650 بلین ڈالر خرچ کرنے والی ہیں۔
یہ انکشاف اس لئے حیران کن ہے کیونکہ حال ہی میں مرکزی حکومت نے عام بجٹ پیش کیا ہے جس میں پورے ملک کی ترقی کے لیے کل اخراجات تقریباً 670 بلین ڈالر رکھے گئے ہیں ۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ حکومت پورے ملک کے لیے سال بھر کے بجٹ پر جتنا خرچ کررہی ہے، تقریباً اتنا ہی ٹیک کمپنیاں اے آئی پر لگارہی ہیں۔
حال ہی میں ان تمام بڑی کمپنیوں نے اپنے اپنے مالیاتی نتائج کے بارے میں بتایا جس میں اپنے آنے والے اخراجات کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ ابھی کچھ دن پہلے گوگل نے صرف اتنا کہا تھا کہ 2026 میں اس کاخرچ تقریباً 185 بلین ڈالر ہوگا۔ اس کے کچھ دنوں بعد ایمیزون نے اعلان کیا کہ اس سال اس کے کل اخراجات 200 بلین ڈالر ہوں گے۔ وہیں میٹا نے اپنا خرچ تقریباً 135 بلین ڈالر بتایا۔ مائیکروسافٹ کے لیے یہ اندازہ 120 بلین ڈالر ہونے کی امید ہے۔
اس مقررہ فنڈنگ کا بڑا حصہ براہ راست اے آئی انفراسٹرکچر تیارکرنے پرخرچ کیا جائے گا جس میں بڑے ڈیٹا سینٹر، اعلیٰ درجے کے سرورز، نیٹ ورکنگ کا سامان اور خصوصی چپس شامل ہوں گے۔ واضح رہے کہ ٹیک کمپنیوں میں برطرفی کی اطلاعات کچھ عرصے سے سامنے آرہی ہیں۔ حال ہی میں ایمیزون نے تقریباً 16,000 ملازمین کو نکال دیا تھا۔
پچھلے سال مائیکروسافٹ نے 9،000 ملازمین کو باہر کا راستہ دکھایا۔ میٹا نے بھی اپنی ریئلٹی لیب میں 10 فیصد ملازمین کی نوکری پر قینچی چلادی۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کہیں نہ کہیں کمپنیاں اپنے اخراجات کو کم کرنے کے لیے تنظیم نو کے نام پر ملازمین کو نوکری سے نکال رہی ہیں تاکہ اے آئی انفراسٹرکچر پر زیادہ خرچ کرنے میں مدد مل سکے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔