اے آئی کے ’گاڈ فادر‘ کی وارننگ- ’مصنوعی ذہانت انسانوں سے زیادہ ہوشیار ہو کر ہمیں بھی ختم کر سکتی ہے‘

جیفری ہنٹن نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی بڑے پیمانے پر ملازمتوں کو نقصان پہنچائے گا اور یہاں تک کہ سماجی بے چینی کو ہوا دے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آخر میں یہ انسانوں سے زیادہ ہوشیار بن سکتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر ویڈیو گریب</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مصنوعی ذہانت آج انسانوں کی روزمرہ کی ضروریات کو پورا کرنے کا ایک اہم حصہ بنتی جارہی ہے۔ کئی معاملوں میں لوگ اے آئی کو نہ صرف ایک معاون کے طور پر استعمال کر رہے ہیں بلکہ جذباتی طور پر بھی اس پر منحصر ہو گئے ہیں۔ اس صورتحال کو دیکھ کر اے آئی کے ’گاڈ فادر‘ بھی خوف میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ اے آئی کے گاڈ فادر کہلائے جانے والے کمپیوٹر سائنسدان جیفری ہنٹن نے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ اس ٹیکنالوجی کے حوالے سے شدید فکر مند ہیں اور دنیا اس کے بڑھتے ہوئے خطرات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہے۔

ئنٹن نے ’بی بی سی نیوز نائٹ‘ کو دیئے اس انٹرویو میں کہا کہ مستقبل میں اے آئی کی انتہائی خطرناک شکلیں سامنے آئیں گی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے بہت دکھ ہوتا ہے کہ میں نے اپنی زندگی اس چیز کو ڈیولپ کرنے میں لگا دی اور اب یہ بہت خطرناک ہو گیا ہے اور لوگ اس کے خطرات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ہیں۔


غور طلب ہے کہ ہنٹن میں ماڈرن آرٹی فیشیل انٹیلی جنس کی بنیاد پر نیورل نیٹ ورکس کو بنانے میں مدد کی تھی۔ انہوں نے آگاہ کیا ہے کہ اے آئی بڑے پیمانے پر ملازمتوں کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ سماج میں بدامنی پیدا کرسکتا ہے۔ جیفری کے مطابق آخر میں اے آئی انسانوں سے بھی زیادہ ذہین ہو جائے گا۔

ہنٹن نے انٹرویو میں کہا کہ انسانیت ایک اہم موڑ پر پہنچ رہی ہے اور محققین انسانوں سے زیادہ ذہین مشینیں بنانے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ ہنٹن نے کہا کہ ہم پہلے بھی ایسی حالت میں نہیں رہے ہیں کہ ہم خود سے زیادہ ذہین چیزیں بنا سکیں۔ کئی ماہرین کا خیال ہے کہ اے آئی اگلے 20 سالوں میں انسانی ذہانت کو پیچھے چھوڑ دے گا اور کئی شعبوں میں ایسا پہلے ہی ہو چکا ہے۔ ایک بار ایسا ہو نے کے بعد اس طرح کے نظام کو کنٹرول کرنا بہت سے لوگوں کے خیال سے کہیں زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔


ہنٹن نے کہا کہ انسانوں کو اس پر فوری توجہ دینے اور زیادہ سے زیادہ تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم انہیں ایسا بنا دیتے ہیں تو انہیں ہماری پرواہ نہ ہو تو وہ شاید ہمیں بھی ختم کر دیں گے۔ حالانکہ اپنے خدشات کے باوجود ہنٹن نے کہا کہ وہ اے آئی پر اپنا کام جاری رکھیں گے اور تعلیم اور صحت کو بہتر بنانے کے لیے اے آئی کی صلاحیت کے استعمال پر زور دیں گے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔