اے آئی کے مواقع غیر مساوی، صلاحیت سازی کے بغیر خطرات بڑھیں گے: آئی ایم ایف چیف

اجلاس میں ہندوستان کے الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر اشونی ویشنو نے کہا کہ صرف بڑا اے آئی ماڈل بنانا ہی کسی ملک کو طاقتور نہیں بناتا، ہمیں پانچویں صنعتی انقلاب کی معیشت کو سمجھنا ہوگا۔

<div class="paragraphs"><p>&nbsp;فوٹو&nbsp;<a href="https://x.com/KGeorgieva">@KGeorgieva</a></p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مصنوعی ذہانت کے حوالے سے ملازمت کے شعبے میں پائی جارہی تشویش کے دوران انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے کہا ہے کہ اے آئی (مصنوعی ذہانت) کی وجہ سے لیبر مارکیٹ یعنی ملازمت کے شعبے میں سونامی جیسی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی کچھ ملازمتوں کو بہتر بنا رہا ہے تو وہیں کچھ نوکریوں کی جگہ بھی لے رہا ہے۔

داؤس میں منعقد ورلڈ اکنامک فورم ڈبلیو ای ایف) کے سالانہ اجلاس کے دوران ایک سیشن سے خطاب کرتے ہوئے جارجیوا نے کہا کہ دنیا اب اے آئی کے دور میں داخل ہو چکی ہے لیکن انہیں اس بات پر تشویش ہے کہ اے آئی کی جانب سے پیش کیے جانے والے مواقع ہر جگہ ایک جیسے نہیں ہیں۔ کہیں زیادہ مواقع ہیں تو کہیں بہت کم ہیں۔


انہوں نے کہا کہ اے آئی تیزی سے معیشتوں کو تبدیل کر رہا ہے۔ کچھ کام بڑھ رہے، کچھ ختم ہو رہے ہیں۔ ہمیں لوگوں کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے سرمایہ کاری کرنے اور معاشرے کو اس کے لیے تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ آئی ایم ایف سربراہ نے بتایا کہ اے آئی کی وجہ سے ترجمہ، زبان سمجھنے اور تحقیق سے متعلق کاموں میں پیداواری صلاحیت بڑھ رہی ہے۔ ان شعبوں میں اے آئی لوگوں کی مدد کر رہا ہے، ان کی جگہ نہیں لے رہا ہے۔ حالانکہ انہوں نے ان کمیونٹیز کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا جہاں اے آئی ابھی تک ناقابل رسائی ہے۔

آئی ایم ایف کے مطابق دنیا میں اوسطاً 40 فیصد ملازمتیں اے آئی سے متاثر ہو رہی ہیں۔ ان میں کچھ ملازمتیں بہتر بن رہی ہیں، کچھ بدل رہی ہیں اور کچھ ختم بھی ہوسکتی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں یہ اثر تقریباً 60 فیصد نوکریوں پر ہے جبکہ غریب ممالک میں یہ 20 سے 26 فیصد کے درمیان ہے۔ جارجیوا نے کہا کہ اے آئی کی وجہ سے عالمی اقتصادی ترقی پر 0.1 سے 0.8 فیصد تک تک کا اثرپڑتا ہے۔ اگر پیداواری صلاحیت میں 0.8 فیصد اضافہ ہوتا ہے تو دنیا کی معاشی نمو کورونا وبا سے پہلے کی سطح سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔


اس سیشن میں ہندوستان کے الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر اشونی ویشنو نے کہا کہ صرف بڑا اے آئی ماڈل بنانا ہی کسی ملک کو طاقتور نہیں بناتا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پانچویں صنعتی انقلاب کی معیشت کو سمجھنا ہوگا۔ اس دور میں حقیقی طاقت آراو آئی یعنی سرمایہ کاری پر ملنے والے فوائد سے آئے گی۔ سب سے کم لاگت میں سب سے زیادہ پانے والی ٹیکنالوجی ہی کامیاب ہوگی۔

سعودی عرب کی وزارت سرمایہ کاری میں وزیر خالد الفالح نے کہا کہ اے آئی کے حوالے سے عالمی سطح پر شدید مقابلہ آرائی ہورہی ہے۔ ہر ملک اس کے لیے ضروری انفراسٹرکچر بنانا چاہتا ہے لیکن اے آئی کی اصل طاقت اس وقت سامنے آئے گی جب یہ ہر کسی کے لیے آسانی سے قابل رسائی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی کا پھیلاؤ صرف چند ممالک تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے پوری دنیا میں پھیلنا چاہیے۔ خالد الفالح نے یہ بھی کہا کہ ٹیکنالوجی اور اے آئی سعودی عرب کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔