فائزر اور موڈرنا ٹیکوں سے طویل المعیاد تحفظ مل سکتا ہے: تحقیق

ایم آر این اے ویکسینز استعمال کرنے والے افراد کو ممکنہ طور پر بوسٹر ڈوز کی ضرورت اس وقت تک نہیں ہوگی جب تک وائرس اور اس کی اقسام ارتقائی مراحل سے گزر کر نئی شکل اختیار نہیں کرلیتے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

واشنگٹن: فائزر-بائیو این ٹیک اور موڈرنا کی تیار کردہ ویکسینز سے جسم میں بننے والے مدافعتی ردعمل کا تسلسل برقرار رہتا ہے اور اس سے ممکنہ طور پر کئی برس تک کورونا وائرس سے تحفظ مل سکتا ہے۔یہ بات امریکہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اس دریافت سے ان شواہد میں اضافہ ہوا ہے جن کے مطابق ایم آر این اے ویکسینز استعمال کرنے والے افراد کو ممکنہ طور پر بوسٹر ڈوز کی ضرورت اس وقت تک نہیں ہوگی جب تک وائرس اور اس کی اقسام ارتقائی مراحل سے گزر کر نئی شکل اختیار نہیں کرلیتیں، جس کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔

واشنگٹن یونیورسٹی کی اس تحقیق میں شامل ٹیم کے سربراہ علی العبادی نے کہا کہ یہ ایک اچھی علامت ہے کہ ان ویکسینز کا اثر دیرپا ہوتا ہے۔ اس تحقیق میں دیگر ویکسینز کو شامل نہیں کیا گیا تھا مگر ڈاکٹر علی کا کہنا تھا کہ امکان ہے کہ ان کا مدافعتی ردعمل ایم آر این اے ویکسینز کے مقابلے میں کم دیرپا ہوگا۔اس ٹیم نے مئی 2021 میں ایک تحقیق میں بتایا تھا کہ کووڈ 19 کو شکست دینے والے افراد میں وائرس کو شناخت کرنے والے مدافعتی خلیات بون میرو میں بیماری کے کم از کم 8 ماہ تک موجود رہتے ہیں۔ ان نتائج کی بنیاد پر تحقیقی ٹیم نے عندیہ دیا تھا کہ وائرس کے خلاف تحفظ برسوں تک برقرار رہ سکتا ہے، مگر یہ واضح نہیں تھا کہ ویکسینیشن سے بھی طویل المعیاد تحفظ مل سکتا ہے یا نہیں۔


ڈان میں شائع ایک رپورت کے مطابق اس سوال کے جواب کے لیے تحقیقی ٹیم نے مدافعتی خلیات کے ماخذ لمفی نوڈز کی جانچ پڑتال کی، جہاں مدافعتی خلیات وائرس کو شناخت اور اس کے خلاف لڑنے کی تربیت حاصل کرتے ہیں۔ کسی بیماری یا ویکسینیشن کے بعد لمفی نوڈز میں ایک مخصوص اسٹرکچر قائم ہوتا ہے جس میں بی سیلز موجود ہوتے ہیں جو وائرل جینیاتی سیکونسز کو شناخت کرنا سیکھتے ہیں۔ ان خلیات کی تعداد جتنی زیادہ ہوگی اور انہیں مشق کے لیے جتنا وقت ملے گا، وہ اتنا زیادہ وائرس کی اقسام کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوسکیں گے۔

محققین نے بتایا کہ ان نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ بی سیلز بھی یہی کام کرتے ہیں، یقین سے کہنا تو مشکل ہے مگر امکان یہی ہے کہ یہ بی سیلز وائرس کے ارتقا کے خلاف بھی تحفظ فراہم کرسکیں گے، جو بہت حوصلہ افزا ہے۔ ویکسینیشن کے بعد بی سیلز کی تعلیم کا مرکز بغل میں موجود محققین کی رسائی میں ہوتے ہیں۔


تحقیق کے لیے 41 افراد کی خدمات حاصل کی گئی تھیں جن میں سے 8 کووڈ کو شکست دے چکے تھے، ان سب کو ایم آر این اے ویکسینز کا استعمال کرایا گیا تھا۔ ان میں سے 14 افراد کے لمفی نوڈز کے نمونے ویکسین کی پہلی خوراک کے 3، 4، 5، 7 اور 15 ہفتوں جمع کیے گئے تھے۔ محققین نے دریافت کیا کہ ویکسین کی پہلی خوراک کے 15 ہفتوں بعد ان افراد میں خلیات کے مرکز تاحال بہت زیادہ متحرک تھے اور کورونا وائرس کو شناخت کرنے والے بی سیلز کی تعداد میں کمی نہیں آئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ویکسینیشن کے لگ بھگ 4 ماہ بعد بھی مدافعتی ردعمل کا سلسلہ جاری تھا جو بہت اچھی علامت ہے۔

نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ ویکسینیشن کے عمل سے گزرنے والے بیشتر افراد کو بیماری کے خلاف طویل المعیاد تحفظ حاصل ہوسکتا ہے، کم از کم موجودہ کورونا اقسام کے مقابلے میں، مگر معمر افراد، کمزور مدافعتی نظام کے حامل لوگوں اور مدافعتی نظام کو دبانے والی ادویات استعمال کرنے والوں کو ممکنہ طور پر بوسٹر ڈوز کی ضرورت ہوسکتی ہے۔ محققین نے کہا کہ ایم آر این اے ویکسینز کتنے عرصے تک تحفظ فراہم کرسکیں گی، اس کی پیشگوئی بہت مشکل ہے، کیونکہ وائرس مسلسل ارتقائی مراحل سے گزر رہا ہے۔ اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل نیچر میں شائع ہوئے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔