ندائے حق: ہند-امریکہ تعلقات، نئے امکانات...اسد مرزا

امکان ہے کہ ہند-امریکہ تعلقات اب شخصیت پر مبنی رہنے کے بجائے حقائق اور باہمی فوائد پر مبنی ہوں گے

Getty Images
Getty Images
user

اسد مرزا

گزشتہ چار سال کے دوران سابقہ امریکی صدر کی بدتمیزی، بدتہذیبی اور انتہائی نسل پرستانہ رویہ کو برداشت کرنے کے بعد دنیا کو اب قدیم ترین جمہوریت میں عہدے کی تبدیلی رونما ہونے کے بعد امریکی سیاست میں رونما ہونے والی ممکنہ تبدیلیوں کا بے چینی سے انتظار ہے۔

جوبائیڈن امریکہ کے نئے صدر کی حیثیت سے عہدہ سنبھال چکے ہیں اور انہوں نے نئے انتظامیہ کی داخلی اور خارجی پالیسیوں میں تبدیلیوں کے واضح اشارے دیئے ہیں۔ واشنگٹن میں امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے اپنے پہلے خطاب کے دوران جو بائیڈن نے اپنی نئی خارجہ پالیسی پر روشنی ڈالتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکہ اپنے روایتی رویے، اقدار اور فلسفے کے ساتھ عالمی رہنما کے طور پر ایک مرتبہ پھر عالمی منظر نامے پر اپنا مثبت کردار ادا کرنے کے لیے تیار اور گامزن ہے۔ یہ جملہ بائیڈن کے ان الفاظ کی عکاسی کرتا ہے جو انہوں نے انتخابی مہم کے دوران استعمال کیے تھے یعنی امریکہ کی تعمیر نو اور مختلف ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات کی بحالی۔ انہوں نے صاف طور پر کہا ہے کہ نئے انتظامیہ کا مقصد بین الاقوامی تعلقات میں بہتری لانا اور انہیں مزید مستحکم کرنا، تقویت بخشنا اور فعال بنانا ہے۔

یہ تقریر امریکی انتظامیہ کے تئیں عالمی اعتماد کو بحال کرنے کی کوشش کا ایک ذریعہ تھی۔ بائیڈن نے صاف طور پر اشارہ دیا کہ اپنے متنازعہ پیشرو کے دور میں دنیا کے امریکہ کے ساتھ تعلقات بہت حد تک غیرمستحکم ہوچکے ہیں اور ان کی بحالی ان کی اولین ترجیح ہے۔ رائل ہالووے یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے ریڈر مائیکل بنٹلی کے بقول ’’امریکہ کی خارجہ پالیسی میں اب توجہ ہمہ رخی ڈپلومیسی پر مرکوز کی جائے گی اور دیگر ممالک کے ساتھ مزید مثبت طور پر کام کرنے کو ترجیح دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی بائیڈن نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ جس ’’نرم رویہ‘‘ کا انھوں نے اپنی تقریر میں اشارہ دیا تھا اسے امریکہ کی کمزور پڑنے کے معنی میں نہیں لینا چاہیے۔ بلکہ ان کی انتظامیہ سفارتی یا ڈپلومیسی ذرائع کا استعمال اس بہتر طریقہ سے کرے گا جس سے کہ امریکی مقاصد باہمی طور پراشتراک کے ذریعے حاصل کیے جاسکیں۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کی انتظامیہ جمہوری اقدار کو انتہائی اہمیت دیتی ہے اور اسے امریکہ کی شناخت اور اقدار کا کلیدی پہلو قرار دیا۔ اپنے صدارتی دور کے آغاز میں ہی بائیڈن نے دنیا کی جمہوریتوں کو تقویت بخشنے اور ایک دوسرے کے قریب لانے اور عالمی جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے جمہوری اقدار کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لئے مجوزہ ایجنڈہ بھی پیش کیا تھا۔ بائیڈن نے کہا ہے کہ اس سال کے آخر میں وہ جمہوریت کی حمایت کے لئے ایک عالمی کانفرنس منعقد کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں تاکہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو اجاگر کیا جاسکے اور ایسی تدابیر پر غوروفکر کی جاسکے جن کے ذریعے جمہوری اداروں اور اقدار کو تقویت بخشنے کے منصفانہ اور جامع اقدامات وضع کیے جاسکیں۔ اس کانفرنس میں خانگی شعبہ کے لئے اقدامات کی اپیل بھی کی جائے گی جس میں ٹیکنالوجی کے شعبہ میں تعاون اور سوشل میڈیا کمپنیوں کو اظہار خیال کی آزادی کے تحفظ کو برقرار رکھتے ہوئے جوابدہ بنانا بھی شامل ہے۔

ہند -امریکہ تعلقات

این وائی یو سنٹر آن انٹرنیشنل کوآپریشن کے جیمس ٹروب نے خیال ظاہر کیا ہے کہ ایشیا میں ہندوستان کی اپنی جغرافیائی اہمیت ہے۔ اس کے علاوہ یہ دنیا کی 5 ویں بڑی جمہوریت ہے۔ ہندوستان، چین کا مخالف ہے جسے بائیڈن انتظامیہ امریکہ کا سب سے بڑا دشمن تصور کرتا ہے اور چوںکہ چین اپنے اقدامات کی وجہ سے جمہوریت کے لئے بھی خطرہ ہے۔ اس لئے نئی انتظامیہ اسے کمزور کرنے کی یقینی طور پر کوشش کرے گی۔

حالیہ عرصے میں نئی دہلی اور بیجنگ کے درمیان تعلقات میں زبردست تناؤ بھی پیدا ہوا ہے۔ اس کی ایک وجہ ہندوستانی سرحدوں پر چینی فوج کی دخل اندازی بھی رہی ہے۔ ہندوستان نے امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ ہمہ رخی شراکت داری کو مضبوط بنانے کے منصوبے میں بھی عملی کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس شراکت داری کو کواڈ(Quad) کا نام دیا گیا ہے۔ چین اس شراکت داری کو ایشیائی ناٹو کا نام دیتا ہے۔ اگرچہ ہندوستان اس طرح کے رسمی تعلقات کے ذریعہ چین پر دباؤ بنانا چاہتا ہے لیکن بیجنگ کے ساتھ وہ اپنے تجارتی تعلقات میں تناؤ یا رکاوٹوں کا خواہاں بھی نہیں ہے۔

امریکہ ہندوستان کو ہند-بحرالکاہل خطہ میں ایک انتہائی اہم شراکت دار تصور کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ ہندوستان کا ایک ابھرتی عالمی طاقت کے طور پر خیرمقدم کرتا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈپرائس نے اپنی ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا تھا کہ ہندوستان Quad کا ایک اہم شریک ہے۔ اور ہم ہندوستان کو ایک عالمی طاقت کے طور پر ابھرتا دیکھنا چاہتے ہیں اور اس خطہ کی سلامتی میں بھی اس کا رول اہمیت رکھتا ہے۔ بائیڈن انتظامیہ ٹرمپ کے ہند-بحرالکاہل خطہ کے تعلق سے وعدہ کو برقرار رکھے گا جس میں ہندوستان کا رول اہمیت کا حامل ہے۔

علاوہ ازیں کرٹ کیمپبل نے جنہیں بائیڈن نے حال ہی میں قومی سلامتی کونسل میں ہند- بحرالکاہل معاون کے طور پر مقرر کیا ہے، اپنی ایک تجویز جو کہ جنوب اور مشرقی ایشیا میں اتحاد کے ایک نئے نظام کے خطوط کی نشاندہی کرتی ہے، اس میں انہوں نے جی-7 گروپ میں ہندوستان، جنوبی کوریا اور آسٹریلیا کو شامل کرتے ہوئے ایک نئے D-10 گروپ بنانے کا مشورہ دیا ہے۔ یہ نیا گروپ 10 عظیم جمہوریتوں پر مشتمل گروپ ہوگا۔

امریکہ اس مجوزہ گروپ میں ہندوستان کے ممکنہ کردار کی وجہ سے ہندوستان کو کافی اہمیت دیتا ہے لیکن ساتھ ہی ہندوستان کی داخلی، سیاسی حالات پر بھی اس کی خاص نظر ہے۔ خاص طور پر اقلیتوں کے ساتھ حکومت کے رویے کے بارے میں بائیڈن انتظامیہ نے اپنی تشویش ظاہر کی ہے۔ ٹرمپ اور مودی کے درمیان جو تعلقات تھے نئے انتظامیہ میں ویسے ہی تعلقات متوقع نہیں ہیں بلکہ ان تعلقات کا انحصار عملی پہلوؤں اور ہندوستانی سیاست میں رونما ہونے والے مختلف اقدامات پر بھی منحصر رہے گا۔ چوںکہ امریکہ کو چین کے معاملہ میں ہندوستان کی مدد کی ضرورت ہے۔ اس لئے فی الحال وہ ہندوستان کے ساتھ اپنی پالیسی میں کوئی قابل لحاظ تبدیلی نہیں لائے گا۔ بلکہ نئی انتظامیہ دفاعی اور تجارتی تعلقات کے معاملہ میں ہندوستان کے ساتھ اپنی دوستی کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کرے گا۔

ہنوز نئی دہلی میں مفکرین کا خیال ہے کہ امریکی انتظامیہ چین کے تئیں اتنی سختی سے کام نہیں لے رہا ہے جتنا کہ سابقہ انتظامیہ نے اقدامات لیے تھے۔ بائیڈن ہندوستان کے تعلق سے ابھی پوری طرح سے اپنے موقف کو بھی نہیں واضح کریں گے۔ اس کی ایک وجہ ہتھیاروں کی فروخت بھی ہوسکتی ہے۔ ماضی میں امریکہ ہندوستان کو ہتھیاروں کی فروخت میں اضافہ کے لیے کئی مرتبہ ناکام کوششیں کرچکا ہے تاہم فرانس، اسرائیل اور روس سے ہتھیار خریدنے کی ہندوستان کی ترجیح کی وجہ سے یہ کوششیں پیچیدگیوں کا شکار رہیں۔ امریکہ ہندوستان کو ہتھیار فروخت کرنے میں اس لیے بھی محتاط رہتا ہے کیوں کہ اس کا ماننا ہے کہ ہندوستان کو فروخت کیے گئے فوجی آلات اور ہتھیار روسی فوج یا دیگر ملکوں کے ایجنٹوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ جس کے ذریعے وہ امریکی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔

اس کے علاوہ دیگر مسائل کا بھی ہند -امریکہ تعلقات پر اثر پڑسکتا ہے۔ ان میں ویزا قواعد اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق مسائل شامل ہیں۔ سابقہ صدر نے اس سال کے اوائل میں H1B ویزا کو معطل کر دیا تھا جو اعلیٰ پیشہ وارانہ صلاحیت کے حامل افراد کو فراہم کیا جاتا ہے۔ اس سے امریکہ کے آئی ٹی شعبہ کو بڑا دھکا پہنچا تھا جہاں ہندوستانی بڑی تعداد میں برسرروزگار ہیں۔ امریکہ کو ماحولیاتی تبدیلی کے مسئلہ پر بھی ہندوستان کے تعاون کی ضرورت ہوگی۔

دونوں ممالک کو باہمی فائدے پہنچانے والے تجارتی معاہدوں کی بھی ضرورت ہے جس کے لئے عہدیداروں کی بات جاری ہے۔ مجموعی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہند- امریکی تعلقات کا اگلا مرحلہ فوجی، عالمی سلامتی، تجارت، باہمی اشتراک اور ٹیکنالوجی کی شرائط پر مبنی ہوگا۔ یہ تعلقات شخصیت پر نہیں بلکہ بدلتے حالات اور زمینی حقائق پر ان کا انحصار ہوگا۔ خاص طور سے حالیہ عرصے میں کووڈ دنیا میں جو تبدیلیاں لایا ہے ان کا بھی ان باہمی تعلقات پر بہت گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔