الہ آباد: پرینکا گاندھی نے سنی ماہی گیروں کی رودادِ غم، ساتھ بیٹھ کر خواتین سے کی گفتگو

پرینکا گاندھی نے وہاں موجود لوگوں سے کہا کہ آپ ہی کے ووٹ کے ذریعے بی جے پی ریاست اور مرکز میں حکومت بنانے میں کامیاب رہی، لیکن اب آپ ہی کی آواز نہیں سنی جا رہی۔

الہ آباد میں خواتین سے زمین پر بیٹھ کر گفتگو کرتیں پرینکا گاندھی / ٹوئٹر @INCUttarPradesh
الہ آباد میں خواتین سے زمین پر بیٹھ کر گفتگو کرتیں پرینکا گاندھی / ٹوئٹر @INCUttarPradesh
user

قومی آوازبیورو

الہ آباد: کانگریس کی جنرل سکریٹری اور اتر پردیش کی انچارج پرینکا گاندھی اتوار کے روز سنگم کے شہر الہ آباد میں جمنا پار کے گاؤں بسوار پہنچیں۔ یہاں انہوں نے ملاح طبقہ سے ملاقات کی اور ان کی رودادِ غم کو سنا۔ جمنا کے ساحل پر واقع اس گاؤں میں پہنچ کر پرینکا گاندھی خواتین کے درمیان زمین پر بیٹھ گئیں اور تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک ملاح کنبوں کے ساتھ موجود رہیں۔ وہ راستے میں آنے والے متاثرہ کنبوں سے ملاقات کرتی رہیں۔

دریں اثنا، پرینکا گاندھی نے یوگی حکومت پر شدید حملہ کیا اور کہا کہ ریاست کی بی جے پی حکومت میں نشاد طبقہ (ملاحوں کی برادری) پر ظلم کیا جا رہا ہے۔ پرینکا نے وہاں موجود لوگوں سے کہا کہ آپ ہی کے ووٹ کے ذریعے بی جے پی ریاست اور مرکز میں حکومت بنانے میں کامیاب رہی، لیکن اب آپ ہی کی آواز نہیں سنی جا رہی۔ کانگریس کی جنرل سکریٹری نے بسوار گاؤں میں پولیس انتظامیہ کی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بی جے پی حکومت ملاحوں کو ان کے حقوق سے بے دخل کر رہی ہے۔ متاثرہ ماہی گیروں کے مطالبہ پر پرینکا گاندھی نے انہیں ہر ممکن قانونی مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔


کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا نے کہا کہ نشاد طبقہ کے لئے کانگریس پارٹی سڑک سے ایوان تک آواز اٹھائے گی۔ پرینکا نے اس دوران دریا کے ساحل پر پہنچ کر ملاحوں کی ٹوٹی کشتیوں کا بھی معائنہ کیا اور متاثرہ ماہی گیروں سے بات چیت کر کے ان کا درد باٹنے کی کوشش کی۔ پرینکا گاندھی ٹوٹی ہوئی کشتیوں تک نشاد طبقہ سے تعلق رکھنے والی خواتین کے ہمراہ پہنچیں۔

پرینکا گاندھی نے ایک مقام پر موجود مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’نشاد طبقہ کی زندگی دریاؤں کے ساتھ جڑی ہے، لہذا یہ طبقہ دریاؤں کا درد سمجھتا ہے، لیکن بی جے پی حکومت نشاد طبقہ کو چھوڑ کر مافیا گروہ کے ساتھ ہے۔ جس طرح مرکز کی بی جے پی حکومت نے کچھ کھرب پتی دوستوں کے لئے سیاہ زرعی قوانین بنائے ہیں اسی طرح ریاست کی بی جے پی حکومت کان کنی کے مافیا گروہ کی حامی بن گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نشادوں کے پٹے کے لیے لڑے گی اور متاثرین کو قانونی امداد فراہم کرے گی۔


ریاستی کانگریس کے صدر اجے کمار للو نے کہا کہ اگر ان کی پارٹی ریاست میں حکومت بناتی ہے تو نشاد طبقہ کو دریا کے ساحل پر پٹے کا حق دیا جائے گا۔ وہیں، قانون ساز پارٹی کی لیڈر ارادھانا مشرا مونا نے کہا کہ ان کی پارٹی ایوان میں بسوار کی آواز اٹھائیں گی۔

اس موقع پر کانگریس کے ریاستی صدر اجے کمار للو، کانگریس لیجسلیچر پارٹی کی رہنما اردھانا مشرا مونا، سابق ممبر پارلیمنٹ پرمود تیواری اور سینئر رہنما انوگرہ نارائن سنگھ بھی پرینکا گاندھی کے ہمراہ موجود رہے۔ پرینکا گاندھی بسوار گاؤں سے براہ راست بامرولی ایئرپورٹ کے لئے روانہ ہوگئیں۔


واضح رہے کہ 10 دنوں کے اندر یہ پرینکا گاندھی کا دوسرا الہ آباد کا دورہ تھا۔ اس دوران انہوں نے ملاح طبقہ کے آنسو پونچھے۔ دراصل، 4 فروری کو غیر قانونی کان کنی کے نام پر کارروائی کرتے ہوئے انتظامیہ نے بسوار گاؤں میں ملاحوں کی کئی کشتیاں توڑ دی تھیں۔ الزام ہے کہ اس دوران خواتین پر بھی لاٹھی چارج کیا گیا تھا۔ اسی معاملے میں پولیس نے ملاحوں کے ذریعہ احتجاج کرنے پر درجنوں لوگوں کے خلاف مقدمہ بھی درج کر دیئے تھے۔ پرینکا گاندھی بھی اسی کارروائی پر احتجاج درج کرنے اور ملاح طبقہ سے یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے الہ آباد پہنچی تھیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 21 Feb 2021, 5:11 PM