کنزرویٹو پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ بھی پارٹی قیادت کے انتخاب کے لیے ووٹ دیں گے

کنزرویٹو پارٹی کے تقریباً 160,000 ارکان ان آخری دو امیدواروں میں سے کسی کا انتخاب کریں گے جس کے بعد وزیر اعظم کے طور پر جیتنے والے امیدوار کا اعلان 5 ستمبر کو کیا جائے گا۔

علامتی تصویر
علامتی تصویر
user

یو این آئی

لندن: برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کے استعفیٰ کے بعد اب کنزرویٹو پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ بھی پارٹی سربراہ کے انتخاب کے لیے اپنا ووٹ ڈالیں گے۔ بی بی سی نے بدھ کے روز اپنی رپورٹ میں یہ اطلاع دی ہے۔ انتخابی دوڑ میں شامل امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی کارروائی مکمل ہوگئی ہے۔ اس کے بعد آٹھ امیدواروں نے اپنے اتحادیوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کے تحت پارلیمنٹ میں انتخابی پروگرام میں حصہ لیا۔ انہیں انتخابی دوڑ میں بنے رہنے کے لیے پہلے راؤنڈ میں 30 ووٹ حاصل کرنے ہوں گے۔

پہلے کنزرویٹو چیف کے امیدواروں کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ اس دوڑ میں صرف وہی لوگ حصہ لے سکتے ہیں جنہیں 30 ٹوری ایم پی کی حمایت حاصل ہو۔ ابھی آٹھ ممبران پارلیمنٹ یہ کام کر سکتے ہیں، جن میں وزیر کیمی بیڈینوچ، اٹارنی جنرل سویلا بریومین، صحت کے سابق سکریٹری جیریمی ہنٹ، وزیر تجارت پینی مورڈنٹ، سابق چانسلر رشی سنک، خارجہ سکریٹری لز ٹروس، خارجہ امور کمیٹی کے سربراہ ٹام ٹگینڈھیٹ اور چانسلر ندیم زہاوی شامل ہیں۔


ووٹنگ مقامی وقت کے مطابق دوپہر 1:30 بجے شروع ہوگی اور شام 5 بجے نتائج آنے کی توقع ہے۔ امیدواروں کے لیے انتخاب کا اگلا عمل دوسرے راؤنڈ میں ہوگا، جس میں فائنل دو امیدواروں پر بات چیت ہوگی۔ کنزرویٹو پارٹی کے تقریباً 160,000 ارکان ان آخری دو امیدواروں میں سے کسی کا انتخاب کریں گے جس کے بعد وزیر اعظم کے طور پر جیتنے والے امیدوار کا اعلان 5 ستمبر کو کیا جائے گا۔

قابل ذکر ہے کہ محکمہ صحت کے سابق سکریٹری ساجد جاوید اور دفتر خارجہ کے انچارج وزیر رحمان چشتی کافی نامزدگی (کم از کم 20 ایم پی کی حمایت) حاصل کرنے میں ناکام رہے، اس لیے وہ پیر کے روز ہونے والی ووٹنگ سے دستبردار ہو گئے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔