سی آئی اے: ڈیٹا لیک معاملہ میں چالیس سال کی سزا

سی آئی اے کے سابق ملازم کو وکی لیکس کو راز دینے پر 40 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ اسے بچوں کے ساتھ بدسلوکی کی تصاویر رکھنے کا بھی قصوروار پایا گیا

<div class="paragraphs"><p>سی آئی اے / Getty Images</p></div>

سی آئی اے / Getty Images

user

مدیحہ فصیح

امریکی خفیہ ایجنسی، سی آئی اے (سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی) کے ایک سابق سافٹ ویئر انجینئر، 35 سالہ جوشوا شولٹ کو 40 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ اسے ایجنسی کی تاریخ میں خفیہ معلومات کی سب سے بڑی چوری کرنے اور بچوں کے ساتھ بدسلوکی کی تصویریں رکھنے سے متعلق الزامات کے تحت مجرم قرار دیا گیا ہے ۔امریکی ڈسٹرکٹ جج جیسی فرمن نے 40 سال کی سزا جاسوسی، کمپیوٹر ہیکنگ، توہین عدالت، ایف بی آئی کو جھوٹے بیانات دینے اور چائلڈ پورنوگرافی کے جرم میں سنائی۔ استغاثہ نے عمر قید کی سزا کا مطالبہ کیا تھا لیکن عدالت نے ایسا نہیں کیا۔

امریکی ایجنسیوں کو 2017 میں اس وقت بڑی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا تھا جب وکی لیکس نے سی آئی اے کے خفیہ دستاویزات کو لیک کیا تھا جس میں ان ’ٹولز‘ کی تفصیلات تھی جو وہ فون، کمیونیکیشن ایپس اور دیگر الیکٹرانک آلات کی رسائی حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ لیک ہونے والی ہزاروں دستاویزات نے بنیادی طور پر ہیکنگ کی تکنیکوں پر توجہ مرکوز کی، اور یہ انکشاف کیا کہ کس طرح سی آئی اے نے اسمارٹ ٹیلی ویژن کو نگرانی کے آلات میں تبدیل کرنے کے لیے برطانوی انٹیلی جنس کے ساتھ تعاون کیا۔

وکی لیکس کی جانب سے ’والٹ 7‘ نامی اس لیک نے ڈیجیٹل دور میں خفیہ دستاویزات کے تحفظ میں امریکی جاسوسی ایجنسیوں کی نااہلی کے بارے میں سوالات اٹھائے۔ واضح رہے کہ یہ لیک 2010 میں آرمی انٹیلیجنس تجزیہ کار چیلسی میننگ کے افغانستان اور عراق کے بارے میں اور 2013 میں ایڈورڈ سنوڈن کی طرف سے نیشنل سیکورٹی ایجنسی اور برطانیہ کے جی سی ایچ کیو کے بارے میں انکشافات کے بعد سامنے آئی۔

مغربی ذرائع ابلاغ میں شائع شدہ رپورٹس کے مطابق جوشوا شولٹ، جس پر 2016 میں خفیہ ڈیٹا وکی لیکس کے حوالے کرنے کا الزام تھا ، کو 2022 میں قومی دفاعی معلومات کو غیر قانونی طور پر جمع کرنے اور منتقل کرنے اور مجرمانہ تحقیقات اور گرینڈ جیوری کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کے جرم میں، دیگر الزامات کے ساتھ سزا سنائی گئی تھی۔ وہ 2023 میں چائلڈ پورنوگرافی حاصل کرنے، رکھنے اور منتقل کرنے کا مجرم پایا گیا تھا۔


جوشوا شولٹ سی آئی اے کے سینٹر فار سائبر انٹیلی جنس، جو دہشت گرد تنظیموں اور غیر ملکی حکومتوں کے خلاف سائبر جاسوسی کرتا ہے، میں سافٹ ویئر ڈویلپر کے طور پر کام کیا تھا۔ اس نے ایسے سائبر ٹولز بنائے تھے جو کمپیوٹر سے خفیہ طور پر ڈیٹا حاصل کر سکتے تھے۔ سی آئی اے میں شولٹ کے مسائل 2015 کے موسم گرما میں شروع ہوئے جب اس نے انتظامیہ اور ایک ساتھی کارکن کے ساتھ جھگڑا شروع کر دیا۔ عدالتی ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ جھگڑے کے نتیجے میں شولٹ اور ساتھی کارکن دونوں کو منتقل کر دیا گیا تھا۔ تفتیش کاروں نے الزام لگایا کہ شولٹ اس وقت مشتعل ہو گیا جب سی آئی اے کے اہلکار سائبر ٹول بنانے کے لیے ایک ٹھیکیدار کی خدمات حاصل کرنا چاہتے تھے جیسا کہ وہ بنا رہا تھا۔ ان کے مطابق ، ایک سال بعد شولٹ نے سائبر ٹولز اور سورس کوڈ چرا کر انہیں وکی لیکس کو منتقل کر دیا ۔ استغاثہ نے بتایا کہ اس کے بعد اس نے اپنے جرم کو ڈھانپنے کی کوشش کی اور کمپیوٹر سسٹم تک رسائی کے تمام نشانات کو مٹا دیا۔ امریکی محکمہ انصاف نے تفصیل فراہم کرتے ہوئے کہا کہ شولٹ نے 2017 میں وکی لیکس کو تقریباً 8,761 دستاویزات شیئر کیں، جو کہ سی آئی اے کی تاریخ میں ڈیٹا کی سب سے بڑی خلاف ورزی ہے۔ اس نے الزامات کی تردید کی، لیکن 2020، 2022 اور 2023 میں نیویارک میں تین الگ الگ فیڈرل ٹرائلز میں اسے سزا سنائی گئی۔

عدالتی ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ شولٹ نے نومبر 2016 میں سی آئی اے چھوڑ دی۔ لیکن مارچ 2017 میں، وکی لیکس نے اپنے’ والٹ 7 ‘لیکس کی پہلی قسط شائع کی، جو ان دو پروگراموں سے شروع ہوئی جن تک شولٹ کو رسائی حاصل تھی ۔ استغاثہ نے اس پر ’والٹ 7‘ ٹولز کو لیک کرنے کا الزام لگایا جو انٹیلی جنس افسران کو اسمارٹ فونز کو ہیک کرنے اور انہیں سننے کے آلات کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ دوسری جانب وکی لیکس نے معلومات کے ساتھ ایک خبر جاری کی، جس میں کہا گیا کہ ڈیٹا گمنام ذریعے نے فراہم کیا تھا جو پالیسی پر سوالات اٹھانا چاہتا تھا، خاص طور پر اس بارے میں کہ آیا سی آئی اے نے اپنی ہیکنگ کی صلاحیتوں اور اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔

استغاثہ نے کہا کہ شولٹ کے ذریعے کی گئی اس لیک نے امریکی مخالفین کے خلاف انٹیلی جنس جمع کرنے کی سی آئی اے کی صلاحیت کو فوری طور پر اور گہرا نقصان پہنچایا۔ سی آئی اے کے اہلکاروں، پروگراموں اور اثاثوں کو براہ راست خطرے میں ڈالا جس پر سی آئی اے نے کروڑوں ڈالر خرچ کیے تھے۔ اس نے گرفتاری کے بعد مزید معلومات منتقل کرنے کی کوشش کی۔ جیل میں ایک فون اسمگل کیا جہاں اس نے ایک رپورٹر کو سی آئی اے سائبر گروپس کے بارے میں معلومات بھیجنے کی کوشش کی اور ایک خیالی انٹیلی جنس آپریٹو، جیسن بورن کے نام سے ٹویٹس کا مسودہ تیار کیا جس میں سی آئی اے کے سائبر ٹولز کے بارے میں معلومات شامل تھیں۔


امریکی اٹارنی ڈیمین ولیمز کے مطابق جوشوا شولٹ نے امریکی تاریخ میں جاسوسی کے کچھ انتہائی گھناؤنے جرائم کا ارتکاب کر کے اپنے ملک کے ساتھ غداری کی۔ ملازمت کے دوران سیکورٹی کی خلاف ورزیوں پر سرزنش کے جواب میں سی آئی اے سے بدلہ لینے کے لیے شولٹ نے قومی سلامتی کو نقصان پہنچایا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ایف بی آئی نے اسے پکڑا تو شولٹ نے ملک کو مزید نقصان پہنچانے کی کوشش کی، سلاخوں کے پیچھے سے اعلیٰ خفیہ معلومات شائع کرنے کی ’معلوماتی جنگ ‘چھیڑ دی اور اس دوران اپنی ذاتی تسکین کے لیے ہزاروں ویڈیوز اور بچوں کی تصاویر اکٹھی کیں جن کے ساتھ بدسلوکی کی جا رہی تھی۔

ایف بی آئی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر انچارج جیمز اسمتھ نے کہا کہ جوشوا شولٹ کو نہ صرف ملک کے ساتھ دھوکہ دہی کے لیے، بلکہ چائلڈ پورنوگرافک مواد کے لیے سزا دی گئی ہے۔ اس کے اعمال کی شدت واضح ہے۔ عائد کی گئی سزا اس کے مجرمانہ طرز عمل سے پیدا ہونے والے خطرے کی شدت کو ظاہر کرتی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔