کورونا کے انتہائی خطرناک ویرینٹ ’میو‘ کی شناخت، ویکسین کے بھی بے اثر ثابت ہونے کا خدشہ!

نئے وائرس میوٹیشن کے ابھرنے کے بعد یہ تشویش بھی پیدا ہو گئی ہے کہ انفیکشن پھر سے دنیا بھر میں پھیلنا شروع ہو سکتا ہے اور اگر ایسا ہوا تو پھر ڈیلٹا ویرینٹ سے بھی زیادہ افراد اس کی زد میں آ سکتے ہیں۔

کورونا وائرس، تصویر آئی اے این ایس
کورونا وائرس، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

جنیوا: عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ اس کے سائنسدان میو (Mu) نامی نئے قسم کے کورونا وائرس کے ویرینٹ کی نگرانی کر رہے ہیں، جس کی شناخت پہلی مرتبہ جنوری 2021 میں کولمبیا میں کی گئی تھی۔ اس ویرینٹ کو سائنسدان B.1.621 کے طور پر جانتے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او نے منگل کے روز اپنی ہفتہ واری وبا سے متعلق بلیٹن میں یہ اطلاع فراہم کی۔

ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ ویرینٹ میں میوٹیشن ہے جو ٹیکوں کو بے اثر کرنے کے اشارے دے رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسے بہتر طریقہ سے سمجھنے کے لئے مزید تحقیق کئے جانے کی ضرورت ہے۔ بلیٹن میں کہا گیا ہے، ’’میو ویرینٹ میں میوٹیشن کا ایک کنسٹیلیشن موجود ہے جو ویکسین سے بچنے کے ممکنہ خصوصیات کا اشارہ دیتے ہیں۔


نئے وائرس میوٹیشن کے ابھرنے کے بعد یہ تشویش بھی پیدا ہو گئی ہے کہ انفیکشن پھر سے دنیا بھر میں پھیلنا شروع ہو سکتا ہے اور اگر ایسا ہوا تو پھر ڈیلٹا ویرینٹ سے بھی زیادہ افراد اس کی زد میں آ سکتے ہیں۔ بالخصوص ان افراد کو زیادہ خطرہ ہے جنہوں نے ٹیکہ نہیں لگوایا ہے یا وہ ایسے علاقہ میں رہتے ہیں جہاں کورونا کے خلاف اقدامات میں نرمی کی گئی ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے اب تک چار کورونا ویرینٹ کی شناخت کی ہے، جس میں الفا بھی شامل ہے جو دنیا کے 193 مملاک میں موجود ہے۔ ڈیلٹا ویرینٹ 170 ممالک تک پہنچ چکا ہے۔ میو پانچوا ویرینٹ ہے، جس پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ کولمبیا میں پائے جانے کے بعد میو کو دیگر جنوبی امریکی ممالک اور یورف میں رپورٹ کیا گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔