حقانی کے ہندوستان سے بہتر رشتہ والے بیان نے بڑھائی پاکستان کی بے چینی!

ہندوستان کے ساتھ رشتہ کو لے کر حقانی نے کہا کہ ہم بہتر تعلقات چاہتے ہیں، ہم نہیں چاہتے کہ کوئی ہمارے بارے میں غلط سوچے، ہم پرانی باتیں بھول کر رشتوں کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔

طالبان لیڈر انس حقانی (بیچ میں دائیں جانب) / Getty Images
طالبان لیڈر انس حقانی (بیچ میں دائیں جانب) / Getty Images
user

قومی آوازبیورو

امریکہ نے افغانستان میں اپنی دو دہائی کی جنگ کا خاتمہ کر دیا ہے۔ 31 اگست سے پہلے امریکی فوج نے کابل ائیرپورٹ چھوڑ دیا اور اسی کے ساتھ طالبان کا افغانستان پر قبضہ ہو گیا۔ اس کے بعد سے طالبان نے افغانستان میں جشن منایا۔ طالبانی لیڈروں نے اس موقع پر کئی راؤنڈ فائرنگ بھی کی۔ ان لیڈروں کا کہنا ہے کہ اس فتح نے اسلامی گروپ کو 2001 کے مقابلے میں مزید مضبوط بنا دیا ہے اور اب ہم ایک نئی مشمولہ حکومت بنانے کی تیاری شروع کریں گے۔ اس کے علاوہ طالبانی لیڈروں نے ہندوستان کے ایشو پر بھی جواب دیا۔ پرائیویٹ نیوز چینل سی این این-نیوز18 کو دیئے انٹرویو میں طالبان کے سرکردہ لیڈر انس حقانی نے حقانی نیٹورک کے پاکستان کنکشن، ہندوستان کے ساتھ ان کے روابط اور کشمیر ایشو پر بات کی۔

افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد سے ہی ہندوستان میں دہشت گردانہ واقعاات کو لے کر فکر ظاہر کی جا رہا ہے۔ وہیں کشمیر کے ایشو پر طالبان کے پاکستان کے ساتھ آنے کی بات کہی جا رہی ہے۔ اس مسئلہ پر طالبان کے لیڈر حقانی نے کہا کہ کشمیر ہمارے حلقہ اختیار کا حصہ نہیں ہے اور مداخلت پالیسی کے خلاف ہے۔ ہماری پالیسی کے مطابق ہم دوسرے ممالک کے معاملوں میں مداخلت نہیں کرتے ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ دوسرے بھی ہمارے معاملے میں مداخلت نہیں کریں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ سبھی معاملوں کو خیر سگالی کے ساتھ حل کیا جائے۔ ہمارے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں۔ ہم باقی دنیا کے ستھ اچھے رشتے بنانا چاہتے ہیں۔


ہندوستان کے ساتھ رشتے کو لے کر بھی طالبان لیڈر حقانی نے کہا کہ ہم اچھے رشتے چاہتے ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ کوئی ہمارے بارے میں غلط سوچے۔ ہندوستان نے ہمارے دشمن کی 20 سال سے مدد کی ہے، لیکن ہم سب کچھ بھول کر رشتے کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔ حقانی نے ہندوستانی میڈیا پر طالبان کے خلاف غلط تشہیر کرنے کے بھی الزام لگائے ہیں۔ حقانی نے کہا کہ ہم نے بیس سال تک جدوجہد کی۔ ہمارے بارے میں بہت ساری منفی باتیں ہو رہی ہیں اور یہ سب غلط ہے۔ حقانی نیٹورک کچھ بھی نہیں ہے۔ ہم سب کے لیے کام کر رہے ہیں۔ دنیا بھر میں اور خصوصاً ہندوستان میں میڈیا ہمارے بارے میں منفی تشہیر کر رہا ہے۔ اس سے ماحول خراب ہو رہا ہے۔ جنگ میں کبھی بھی کسی پاکستانی اسلحہ کا استعمال نہیں کیا گیا تھا۔ یہ الزام غلط اور بے بنیاد ہے۔

افغانستان میں مقیم ہندو اور سکھوں کو لے کر بھی حقانی نے کہا کہ یہاں ہر کوئی محفوظ ہے۔ کسی کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ حقانی نے کہا کہ شروع میں کچھ گھبراہٹ اور خوف تھا، لیکن اب چیزیں ٹھیک ہو گئی ہیں اور لوگ خوش ہیں۔ افغان سکھ اور ہندو افغانستان کے کسی بھی دیگر طبقہ کی طرح ہیں اور وہ خوشی سے رہیں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔