کورونا بحران کے تعلق سے راحت بھری خبر، ’سب ویرینٹس‘ قدرے کم خطرناک

انساکاگ نے کہا کہ اے وائی-1 اور اے وائی-2 دونوں کے انتہائی خطرناک ہونے کے امکانات انتہائی کم ہیں۔ جون کے بعد سے ان کی تعداد ہندوستان میں دستیاب انڈیکس کے مطابق مستقل طور پر ایک فیصد سے بھی کم رہی ہے۔

کورونا وائرس، تصویر آئی اے این ایس
کورونا وائرس، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: کورونا بحران کے دوران خطرناک سمجھے جا رہے ’ڈیلٹا ویرینٹ‘ کے تعلق سے ایک خوش آئند انکشاف کیا گیا ہے۔ کورونا وائرس پر تحقیق کرنے والے ہندوستانی ادارے (انڈین سارس کوو-2 جینومکس کنسورٹیم یا انساکاگ) نے کورونا وائرس کے ڈیلٹا ویرینٹ کے سے سب ویرینٹس (ذیلی اقسام) اے وائی-1 اور اے وائی-2 کو قدرے کم خطرناک قرار دیا ہے۔

انساکاگ نے اپنے حالیہ بلیٹن میں مزید کہا ہے کہ اے وائی-3 ڈیلٹا کے نئے سب ویرینٹ کے طور شناخت کی گئی ہے۔ بلیٹن میں کہا گیا ہے کہ اس کے حوالہ سے مکمل تفصیلات موجود نہیں ہیں، تاہم ادارہ اس پر لگاتار نظر رکھے گا۔


انساکاگ نے کہا، ’’اے وائی-1 اور اے وائی-2 دونوں کے انتہائی خطرناک ہونے کے امکانات انتہائی کم ہیں۔ جون کے بعد سے ان کی تعداد ہندوستان میں دستیاب انڈیکس کے مطابق مستقل طور پر ایک فیصد سے بھی کم رہی ہے۔ مہاراشٹر کے رتنا گری اور جلگاؤں، مدھیہ پردیش کے بھوپال اور تمل ناڈو اور چنئی کے چار کلسٹروں میں اس کے تیزی کے ساتھ پھیلاؤ کے اشارے نہیں ملے ہیں۔‘‘

انساکاگ نے کہا کہ ہندوستان کے تمام علاقوں میں حالیہ نمونوں میں ڈیلٹا قسم (بی.2.617.2) کی موجودگی ظاہر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر بھی یہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ ہندوستان میں رواں سال مارچ سے مئی کے درمیان کورونا وائرس کی دوسری لہر کے دوران ڈیلٹا ویرینٹ تیزی کے ساتھ پھیلا تھا۔ دنیا کے باقی حصوں میں بھی اسی ویرینٹ کے سبب کورونا کا انفیکشن تیزی سے پھیل رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔