کیا کبوتر بیماری پھیلاتے ہیں؟ دہلی کے سر گنگا رام اسپتال کی تحقیق سے انکشاف

دہلی کے سر گنگا رام اسپتال کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جو لوگ کبوتروں کے درمیان زیادہ وقت گزارتے ہیں ان کے فنگل پر مبنی انفیکشن میں مبتلا ہونے کا امکان کافی بڑھ جاتا ہے

<div class="paragraphs"><p>کبوتروں کی فائل تصویر / Getty Images</p></div>

کبوتروں کی فائل تصویر / Getty Images

user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: دہلی کے سر گنگا رام اسپتال کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جو لوگ کبوتروں کے درمیان زیادہ وقت گزارتے ہیں ان کے فنگل پر مبنی انفیکشن میں مبتلا ہونے کا امکان کافی بڑھ جاتا ہے۔ این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سر گنگا رام اسپتال میں علاج کے لئے پہنچے ایک 11 سالہ لڑکے میں اسی طرح کا انفیکشن پایا گیا ہے۔ ڈاکٹروں نے جب اس کا علاج شروع کیا تو اس کی بیماری کو عام انفیکشن سمجھا لیکن بعد میں انکشاف ہوا کہ اس کی علامات سنگین ہیں۔ جانچ کے دوران معلوم چلا کہ لڑکا کبوتروں کے درمیان زیادہ وقت گزارتا تھا، اس وجہ سے وہ ان کے پروں سے اڑنے والے فنگس کی زد میں آنے سے بیمار ہو گیا۔

ڈاکٹروں کے مطابق مریض جب فنگل انفیکشن کی زد میں آیا تو اس کی علامات عام انفیکشن والی ہی تھیں لیکن کچھ ہی دنوں میں یہ اس کی چھاتی کے دیگر اعضا بالخصوص پھیپھڑوں میں بری طرح سے پھیل گیا۔ جب اس کی طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو اسے آناً فاناً میں اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ جانچ رپورٹ سے انکشاف ہوا کہ انفیکشن پھیپھڑوں میں پوری طرح پھیل چکا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق اس بیماری کو ہائپر سینسیٹیو نیومونسٹ (ایچ پی) کہا جاتا ہے اور یہ کبوتروں کے پروں اور غلاظت سے نکلنے والے فنگس سے پھیلتی ہے۔


اب تک ایچ پی نامی یہ بیماری صرف بڑوں میں دیکھی جاتی تھی لیکن یہ پہلی بار ہے کہ بچوں کو بھی اس نے متاثر کیا ہے۔ ڈاکٹر بھی 11 سال کے بچے کے پھیپھڑوں میں اس انفیکشن کو دیکھ کر حیران ہیں۔ یہ بچوں میں نظر آنے والی نایاب بیماریوں میں سے ایک ہے۔ یہ بیماری ہر 10 لاکھ میں سے 4 بچوں کو متاثر کرتی ہے۔

سر گنگا رام اسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایچ پی میں مبتلا اس مریض کی صحت میں مسلسل بہتری آ رہی ہے۔ مریض کو اس کے جسم میں آکسیجن کی مقدار بڑھانے کے لیے مسلسل تھراپی دی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ مریض کو ضرورت پڑنے پر سٹیرائیڈز بھی دی جا رہی ہیں۔ علاج کے دوران بچے کی صحت کا وقتاً فوقتاً خیال رکھا جا رہا ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند دنوں میں مریض کی حالت میں بہتری آئی ہے۔ علاج کی وجہ سے اب مریض کے پھیپھڑوں کی حالت پہلے سے بہتر ہے۔ اس کے علاوہ پھیپھڑوں کے اندر پھیلنے والے انفیکشن میں بھی کمی آئی ہے۔ مریض کی بہتری کو دیکھتے ہوئے اب اسے اس ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بروقت علاج کے باعث مریض کو اب نئی زندگی مل گئی ہے۔ اگر علاج کروانے میں ذرا سی بھی تاخیر ہوتی تو بہت بڑا نقصان ہو سکتا تھا۔

ڈاکٹروں کے مطابق اگر آپ کو سر درد، بخار، خشک کھانسی اور جسم میں درد محسوس ہوتا ہے تو آپ اسے سنجیدگی سے لیں اور فوری طور پر ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔ اگر اس کی علامات معلوم نہ ہوں اور بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ بعد میں قے، اسہال اور دیگر مہلک بیماریوں کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ یہ فنگل انفیکشن براہ راست آپ کے پھیپھڑوں اور اعصابی نظام پر حملہ کرتا ہے۔ ایسی صورت حال میں بروقت علاج بہت ضروری ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔