کیا عام آدمی پارٹی کی منظوری رد ہو سکتی ہے؟

12 سال قبل بدعنوانی کے خلاف تحریک سے جنم لینے والی اروند کیجریوال کی عام آدمی پارٹی اب ملک کی پہلی پارٹی بن گئی ہے جسے ملزم بنایا گیا ہے اور جس کا نام چارج شیٹ میں ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائل تصویر آئی اے این ایس

user

قومی آوازبیورو

کیا اروند کیجریوال کی عام آدمی پارٹی شراب گھوٹالہ کی وجہ سے اپنی  پہچان کھو سکتی ہے؟ اکتوبر 2022 میں بھی دہلی شراب کی پالیسی کے حوالے سے سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے سرکاری وکیل سے پوچھا تھا کہ کیا اس معاملے میں پوری عام آدمی پارٹی قصوروار ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر آپ نے عآپ  کو ابھی تک ملزم کیوں نہیں بنایا؟ اس پر ای ڈی کی طرف سے کہا گیا تھا کہ جلد ہی وہ عآپ کو ملزم بنانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع رپورٹ کے مطابق کیا اروند کیجریوال اور ان کی عام آدمی پارٹی کے لیے مشکل ترین وقت آ گیا ہے؟ جو لوگ اب تک شراب گھوٹالے میں پوچھتے رہے کہ گھوٹالہ ہوا تو پیسہ کہاں ہے؟ اگر کوئی گھپلہ ہوا تو پیسہ کہاں گیا؟ اب انہیں ای ڈی کی طرف سے داخل کی گئی اگلی چارج شیٹ سے جھٹکا لگ سکتا ہے۔ کیونکہ اب سوال یہ ہے کہ کیا عام آدمی پارٹی کی منظوری منسوخ ہو سکتی ہے؟ سوال کی وجہ یہ ہے کہ اگر ای ڈی کی سپلیمنٹری چارج شیٹ میں اروند کیجریوال کو ملزم نمبر 37 کے طور پر نامزد کیا گیا ہے، تو پہلی بار چارج شیٹ میں کسی سیاسی پارٹی  کو ملزم نمبر 38 کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ یہ پارٹی اروند کیجریوال کی عام آدمی پارٹی ہے۔


12 سال قبل بدعنوانی کے خلاف تحریک سے جنم لینے والی اروند کیجریوال کی عام آدمی پارٹی اب ملک کی پہلی پارٹی بن گئی ہے، جس کا نام چارج شیٹ میں ہے۔ جسے ملزم بنایا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اب اگر اروند کیجریوال شراب گھوٹالے میں قصوروار ثابت ہوئے تو ان کی پارٹی کو بھی سزا دی جائے گی۔

ای ڈی کے مطابق شراب گھوٹالہ سے 100 کروڑ روپے کا منافع لیا گیا تھا۔ ای ڈی کے مطابق اس میں سے 45 کروڑ روپے گوا اسمبلی انتخابات میں عام آدمی پارٹی کے لیے استعمال کیے گئے۔ یعنی جرائم سے کمائی گئی رقم کا فائدہ اٹھایا گیا۔ ای ڈی  کی چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ پارٹی نے فائدہ اٹھایا اور کنوینر اروند کیجریوال پارٹی کے ہر فیصلے کے ذمہ دار ہیں۔ اس لیے ای ڈی چارج شیٹ میں عام آدمی پارٹی اور کیجریوال بھی ملزم ہیں۔


چارج شیٹ میں ای ڈی  نے دعویٰ کیا ہے کہ 45 کروڑ روپے ہوالا کے ذریعے گوا بھیجے گئے تھے۔ ای ڈی کا دعویٰ ہے کہ ملزم ونود چوہان کے موبائل فون سے حوالہ نوٹ نمبر کے کئی اسکرین شاٹس برآمد ہوئے ہیں۔ای ڈی کے پاس ونود چوہان اور ابھیشیک پلئی کے درمیان حوالہ رقم کی منتقلی سے متعلق واٹس ایپ چیٹ بھی ہے۔ اس کے علاوہ، ای ڈی کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ملزم ونود چوہان اور اروند کیجریوال کے درمیان براہ راست تعلق کی بات چیت بھی ہے۔ اس سب کی بنیاد پر اب اروند کیجریوال کے ساتھ ساتھ ان کی پارٹی بھی ملزم بن گئی ہے۔

چارج شیٹ میں ای ڈی نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزم نمبر 37 یعنی دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے مسلسل یا تو جواب دینے سے گریز کیا یا غلط دلیلیں دیتے رہے۔ جب ای ڈی نے اروند کیجریوال سے پوچھا کہ کیا ملزم وجے نائر انہیں رپورٹ کرتے تھے، کیجریوال نے کہا کہ نہیں، وہ آتشی اور سوربھ بھردواج کو رپورٹ کرتے تھے۔ کیجریوال نے یہاں تک کہا کہ وجے نائر کے ساتھ ان کے محدود تعلقات ہیں۔


ای ڈی کی چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ جب وجے نائر سے پوچھا گیا کہ وہ وزیر اعلی  کیمپ آفس سے کیسے کام کرتے تھے تو  کیجریوال نے اس سے انکار کیا اور کہا کہ وہ  نہیں جانتے۔ ای ڈی کے مطابق، جب ای ڈی کے اہلکاروں نے کیجریوال کو بتایا کہ وجے نائر چھوٹے کارکن نہیں ہیں، بلکہ وہ عام آدمی پارٹی  کے میڈیا سیل کے سربراہ ہیں۔ جب ای ڈی حکام نے کیجریوال اور وجے نائر کے درمیان بات چیت کے ڈیجیٹل ثبوت دکھائے تو دعویٰ کیا جاتا ہے کہ کیجریوال نے کوئی جواب نہیں دیا۔

ای ڈی کی چارج شیٹ کے ان بیانات کی بنیاد پر یہ سوال پیدا ہوا کہ کیا اروند کیجریوال خود کو بچا رہے ہیں اور دوسرے لیڈروں یا اپنی پارٹی کے قریبی لوگوں پر سوال اٹھا رہے ہیں یا انہیں کٹہرے میں کھڑا کر رہے ہیں۔ عام آدمی پارٹی کا دعویٰ ہے کہ یہ تحقیقاتی ایجنسی کی سازش ہے۔ عام آدمی پارٹی کا کہنا ہے کہ ای ڈی صرف بی جے پی کا سیاسی آلہ بن کر جھوٹے بیانات پھیلا رہی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔