ساحر لدھیانوی: جن کے نغموں کو سن کر، ان کی محبت کے اندازے لگائے جاتے تھے!

ساحر کی تحریر کا پیمانہ اتنا بلند ہے کہ اس کا اندازہ لگانا بھی آسان نہیں۔ جبکہ ملحد ہونے کے باوجود انہوں نے خوبصورت غزلیں لکھیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ساحر لدھیانوی ان چنندہ نغمہ نگاروں میں سے ایک ہیں جن کے گیتوں کو سن کر ان کی محبت کی زندگی کے بارے میں اندازے لگائے جاتے تھے۔ انہوں نے خود کسی کا نام اپنے آپ سے نہیں جوڑا۔ ان دنوں سدھا ملہوترا اور ساحر کے خوب چرچے تھے، اس وقت ساحر کا ایک گیت منظر عام پر آیا ’چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں‘ تب لوگوں نے مانا کہ دونوں علیحدہ ہو چکے ہیں۔ تاہم، سدھا ملہوترا آج تک اس بات کی تردید کرتی ہیں کہ انہیں ساحر کبھی اس طرح سے پسند تھے، جس طرح کی خبریں شائع ہوا کرتی تھیں۔

امرتا نے بھی آخری خط سے لے کر امروز کی پشت اور رسیدی ٹکٹ تک پر ساحر کا نام لکھا، لیکن ساحر خاموش رہے۔ ساحر کی جانب سے بھی اگر کچھ تھا، تو اسے بھی زیادہ تر امرتا نے ہی بیان کیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ آخری خط پڑھ کر ساحر نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پوری دنیا جان لے کہ یہ ان کے لیے لکھا گیا ہے، لیکن اس کے باوجود ساحر نے یہ بات اپنے کسی خاص دوست کو نہیں بتائی۔ جبکہ ساحر دوستوں میں گھرے رہنا پسند کرتے تھے اور وہ گھرے بھی رہتے تھے۔ امریتا جب امروز کے پاس گئیں تو اس کے بعد ساحر نے کہا ’محفل سے اٹھ جانے والو، تم پر کیا الزام، تم آباد گھروں کے واسی….!‘ اس کے بعد بھی لوگوں نے سوچا کہ یہ امرتا اور امروز کے لیے لکھا گیا ہے، لیکن ساحر پھر بھی خاموش رہے۔ سال 1944 میں امریتا سے ملاقات کے بعد بھی ساحر کا نام کئی خواتین کے ساتھ جوڑا گیا۔


اکشے منوانی کی لکھی ساحر لدھیانوی کی سوانح عمری میں ساحر کے ساتھ کام کرنے والے بہت سے لوگوں نے ان کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے، لیکن ان کی محبت کی زندگی پر کوئی تفصیلی بات نہیں کی گئی اور نا ہی کسی نے ساحر کا موقف پیش کیا۔ ساحر کو بہت بولنے کی عادت تھی، وہ شراب پی کر بے قابو بھی ہو جاتے تھے لیکن امرتا یا کسی کا نام کبھی نہیں لیتے تھے۔

جاوید اختر نے ساحر اور ان کی تحریروں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔ جاوید کے والد جاں نثار اختر ساحر کے قریبی دوستوں میں سے تھے، جاوید کی خود ان سے قریبی ملاقاتیں رہی ہیں۔ ساحر اور امریتا سے متعلق سوال پر جاوید نے جواب دیا ’’بڑے لوگ اپنی محبت میں ایسی کہانیاں جوڑ دیتے ہیں جس سے شخصیت دلکش اور چہرے پر رونق آجاتی ہے۔ جسے پڑھ کر لوگ کہتے ہیں کہ کیا بات ہے، عجیب زندگی تھی ان کی۔ اگر وہ ساتھ رہنا چاہتے تھے تو انہیں کس نے روکا تھا؟ ساحر کی زندگی میں اس طرح کے کئی واقعات پیش آئے حتیٰ کہ امرتا کی زندگی میں بھی، لیکن ہم ان کہانیوں کو بے وقوفانہ عقیدت سے سنتے ہیں۔ یہ سب شخصیت کو سنوارنے کے کام ہیں۔‘‘


ساحر کی تحریر کا پیمانہ اتنا بلند ہے کہ اس کا اندازہ لگانا بھی آسان نہیں۔ ملحد ہونے کے باوجود انہوں نے خوبصورت غزلیں لکھیں۔ ایک بار انہوں نے یہاں تک کہا کہ اگر مجھے قسمت پر یقین نہیں تو اس پر گانا کیوں لکھوں، لیکن یش چوپڑا نے کہا کہ انہیں کوئی شاعری نہیں لکھنی ہے، انہیں فلم کے سین پر گانا لکھنا ہے، پھر ساحر کا قلم قسمت کے حوالہ سے بھی بہترین انداز میں چلا۔ یہ کہنا تو مشکل ہے کہ ساحر نے کون سا گانا کس کے لیے لکھا، لیکن وہ ایک عظیم نغمہ نگار تھے اور تنہا بھی تھے، لہذا افواہیں بہت اڑیں جو آج تک جاری ہیں۔

(دیپالی اگروال کا یہ مضمون اس سے پہلے امراجالا ویب سائٹ پر ہندی میں شائع ہو چکا ہے)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔