وجود زن کی روشن لکیروں کو سلام...ڈاکٹر مشتاق صدف

ایسی خوش آئند فضا میں وجود زن کی روشن لکیروں کو سلام، امید ہے کہ آئندہ زمانوں میں عورت کی قدر و قیمت میں اضافہ ہوگا اوروہ مزید با اختیار ہوگی

یوم خواتین کی علامتی تصویر
یوم خواتین کی علامتی تصویر
user

ڈاکٹر مشتاق صدف

کسی بھی معاشرے میں عورت کے مقام و مرتبہ کا تعین قدر وقت کا تقاضا بھی ہے اور ضرورت بھی۔ عورت کو ہمیشہ سے ناکردہ گناہوں کی سزا ملتی رہی ہے۔ اس پر ظلم و استبداد کا پہاڑ ٹوٹتا رہا ہے۔ اسے حقیر اور کمتر سمجھا گیا ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ عورت ہی مظلوم رہی ہے۔ بیٹیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ در گور کرنے کی روایت سے لے کر 'ستی پرتھا' اور موجودہ دور کی چمک دمک تک عورت خموشی سے ظلم و بربریت کی آگ کے کھیل کو برداشت کرتی آئی ہے۔ اسے پہلے زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں تھا۔ اسے دیوداسی بنا کر رہنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ اسلام کی آمد سے قبل عورت کو کوئی حیثیت حاصل نہیں تھی۔ لیکن وقت سب سے بڑا منصف ہوتا ہے۔ وقت نے رفتہ رفتہ کروٹ لی اور عورت کی دنیا بدلتی چلی گئی۔ اس کی بے بسی اور سسکیوں کی آواز دور دور تک پھیلی تو احتجاج کی تحریکیں شروع ہوئیں۔ صداۓ بغاوت بلند ہوئی۔ انصاف کے دیے روشن ہوۓ اور عورت کو بہت سی الجھنوں، مشکلات، مظالم، بربریت ظلم و جبر وغیرہ سے نجات کا راستہ ہموار ہونے لگا۔ عورت کو لکشمی کہا جانے لگا۔ سماج نے عزت بھری نگاہوں سے دیکھنا شروع کر دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے عورت کو مکمل آزادی ملنے لگی اور وہ حقوق بھی حاصل ہوۓ جو ان کے لیے ہی برسوں سے منتظر تھے۔ بیٹی کی پیدائش کو شرمندگی سے تعبیر کرنے والے افراد خود شرمندہ ہونے لگے۔ سماج کے ایک بڑے طبقہ کی منفی سوچ میں زبردست تبدیلیاں نظر آئیں۔ بہت سے ممالک میں عورت کو بااختیار بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے گئے اور ضروری قوانین بھی بناۓ گئے۔ عورت کو اس کا جائز مقام و مرتبہ ملا- فیمنزم کی مختلف تحریکات نے عورت کی صدا کو توانائی بخشی۔ اسے مضبوطی فراہم کی اور اس کے وجود کو استحکام بخشا۔

احتجاجی سلسلوں کا دور آج بھی جاری ہے۔ ایک سکہ کے دو پہلو ہوا کرتے ہیں۔ ایک پہلو عورت کی آزادی اظہار اور آزادی عمل کو قبول کرنے کا ہے تو دوسرا پہلو مسترد کرنے کا۔ آج بھی پہلے کی طرح یہ صورتحال ہے لیکن فرق یہ آیا ہے کہ عورت خود اپنی جنگ لڑ کر آگے بڑھ رہی ہے۔ اب وہ کسی بھی طور خوف کی زندگی گزارنا نہیں چاہتی۔ اس کے اپنے آہنی عزم اور ارادے ہیں۔بلند حوصلے ہیں۔ آج وہ ڈاکٹر بھی ہے، انجینئر بھی، وہ اگر مزدور ہے تو افسربھی ہے، کار اور بس ڈرائیور ہے تو پائلٹ بھی ہے۔ جنگ و جدل کے میدان میں فوجی بھی ہے اور سیاست کے میدان میں کامیاب ترین سیاست دان بھی۔ اسپورٹس اور فلم دنیا میں بھی اس کا سکہ چلتا ہے تو سماجی خدمات انجام دینے میں بھی وہ کسی سے پیچھے نہیں ہے۔ عورت نے ہمیشہ مردوں کے شانہ بشانہ کام کیا ہے۔ مدر ٹریسا سے لے کر ملالہ یوسف زئی تک بے شمار ایسے نام ہیں جو سماجی فلاح و بہبود کے کاموں کے لیے بہت مشہور ہیں۔


یہ انقلاب آفریں نتیجہ ہی ہے کہ آج کے سائنسی دور میں عورت کو مرد کے مساوی اختیارات اور حقوق حاصل ہیں۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ اج بھی جہاں ان کے ساتھ ناانصافی برتی جاتی ہے وہاں احتجاج کی آوازیں بلند بھی ہوتی ہیں۔ مشرقی و مغربی تہذیب دونوں نے ان کے وجود کو تسلیم کیا ہے اور عورت کو ہر شعبہ حیات میں مساوی حقوق دیے ہیں۔ اکیسویں صدی میں یہ انتہائی خوش آئند بات ہے۔ تاریکی کم ہوئی ہے، مشکلات کے بادل چھٹے ہیں، بےبال و پر پرندوں کو اڑنے اور کامیابی کی منزلیں طے کرنے کا بھرپور موقع مل رہا ہے۔ اب عورت بھی مرد کی طرح پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتی۔ اب وہ فقط ایثار و قربانی اور محبت کی دیوی کے فریم میں ہی قید نہیں بلکہ اس نے اپنی محنت، لگن ، علم، جذبہ، حوصلہ، امنگ اور ہنر کی بے پناہ صلاحیتوں سے دنیا کو لوہا منوانے پر مجبور کر دیا ہے۔

اب عورت کو کاسہ لیسی پسند نہیں۔ وہ کسی کی محتاج نہیں، دفتروں، دکانوں، بنکوں، کارخانوں، رقص و سرود کی محفلوں، ادبی و سیاسی میدانوں وغیرہ میں اس کی قابل قدر موجودگی دیکھ کر دنیا حیران و ششدر ہے۔ یہ وہی عورت ہے جس پر کبھی پابندیاں ہی پاپندیاں عائد تھیں، آج وہی عورت زمین سے خلا کا سفر طے کرنے لگی ہے۔ کلپنا چاؤلہ کی خدمات اور قربانی کو ہم کیسے بھلا سکتے ہیں۔

دنیا کے کئی ممالک ایسے ہیں جنہوں نے عورت کو اس کے حقوق سے برسوں محروم رکھا لیکن آخر کار ان کو بھی جھکنا پڑا۔ فرانس اس کا جیتا جاگتا مثال ہے۔ فرانس جیسے ترقی یافتہ ملک میں پہلے عورت کو ووٹ دینے کا حق حاصل نہیں تھا لیکن گردش وقت کے ساتھ فرانس کو بھی اپنا فیصلہ بدلنے پر مجبور ہونا پڑا۔ وہاں اب عورت اپنے حق راۓ دہی کا استعمال کر رہی ہے۔ یہ انقلاب نہیں تو اور کیا ہے۔


عورت کی محنت و مشقت، جدوجہد، قربانی، خدمات اور بے مثل کارناموں کو زندگی کے تمام شعبہ حیات میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ہندوستان کی تحریک آزادی ہو یا جنگ و جدل، ادب ہو یا سیاست کا میدان، فلم ہو یا اسپورٹس کی دنیا عورت نے ہر جگہ اپنی موجودگی کا احساس دلایا ہے، اس کے کلیدی رول کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ بلکہ دنیا میں عورت کے مثالی کردار کو جھٹلانا گویا تاریخ کے زریں ابواب کو منہا کرنا ہے۔ ادب میں ورجینا وولف، مارگریٹ ایٹ ووڈ، ایلیس والکر، مایااینگلو، ہیلری کلنٹن، ٹونی موریسن، نومی وولف، ارون دھتی راۓ، چترا بنرجی دیواکرونی، انیتا دیسائی، جھومپالہری، کرن دیسائی، مہادیوی ورما، مہاشیوتا دیوی، سشی دیش پانڈے، کملاداس، رشیدجہاں، عصمت چغتائی ، قرۃ العین حیدر جیسی بے شمار قومی اور بین الاقوامی سطح کی خواتین کی ایک ایسی کہکشاں دیکھنے کو ملتی ہے جن کا ذکر کرتے کرتے ہم تھک جائیں گے۔ اسی طرح ہندوستان کی تحریک آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والی جاں باز خواتین کی بھی ایک لمبی فہرست ہے۔ ان میں سروجنی نائیڈو، کستوربا گاندھی، لکشمی بائی، اینی بیسنت، بیگم حضرت محل، راما دیوی چودھری، ارونا آصف علی، بھیکاجی کاما، تارارانی سریواستو، مول متی، لکشمی سہگل، کملا دیوی چٹوپادھیاۓ، سوچیتا کرپلانی، کنک لتا برووا وغیرہ کی قربانیوں کو ہم سلام کرتے ہیں۔ قومی اور عالمی سطح پر سیاست کے شعبہ میں بھی انگنت ایسے نام ہیں جنہوں نے اپنی گراں قدر سیاسی خدمات سے سب کو متاثر کیا۔ اندرا گاندھی، اینجلا مرکیل، ایلن جونسن سرلیف، جودی اسمتھ، کملا ہریس ،میڈلین البرائٹ، پر تیبھا پاٹل، سونیا گاندھی، سشما سوراج، نرملا سیتا رمن، آنندی بین، سمترا مہاجن ممتابنرجی، برندا کرات، پرینکا گاندھی وغیرہ کی ایک طویل فہرست دیکھی جا سکتی ہے۔ آواز کی ملکہ لتا مینگیشکر کی خدمات تا قیامت زندہ رہیں گی۔ گویا ہر میدان میں عورت اپنے وجود کا ثبوت پیش کرتی آئی ہے۔ اسی طرح اسپورٹس کے میدان میں ثانیہ مرزا، گیتا اور ببیتا پھوگاٹ وغیرہ اور فلم نگری میں مدھوبالا، زینت امان، مادھوری دکشت، ایشوریہ راۓ، کٹرینا کیف جیسی لاتعداد اداکاراؤں کے نام گنواۓ جا سکتے ہیں۔

عصر حاضر میں بھی زندگی کے مختلف شعبوں میں عورت کے بیش قیمتی کردار کی اہمیت پر اصرار کیا جانا چاہییے۔ اور اس بات پر بھی غور و خوض کی آج شدید ضرورت ہے کہ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود کیوں مرداساس معاشرہ کا ایک طبقہ ہنوز عورت کو بچہ پیدا کرنے کی مشین ہی سمجھتا ہے۔ آج بھی وہ یہی سوچتا ہے کہ عورت ایک محفل کی زینت و آرائش سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔ وہ عورت کے وجود پر ہی سوالیہ نشان قائم کرتا ہے۔ اس منفی فکر کو انسانی ذہن و دماغ سے نکالنے کی ضرورت ہے۔ کوئی بھی معاشرہ عورت کے وجود اور اہمیت سے انکار نہیں کر سکتا۔ آج کے پس منظر میں مرداساس معاشرہ کے پاس ایک بھی ایسا کوئی جواز نہیں جس کی بنیاد پر وہ عورت کو کمتر قرار دے سکے۔ دراصل عورت ہر رنگ روپ اور رشتے میں ایک طرف جہاں محبت و ایثار، عزت و وقار اور وفاداری و حسن کا پیکر سمجھی جاتی ہے، تو دوسری طرف وہ اتنی مضبوط ہو چکی ہے کہ کوئی بھی سماج اسے ہلکے میں نہیں لے سکتا۔ عورت کی آواز آج دور دور تک سنائی دے رہی ہے۔ وہ بہت بیدار ہو چکی ہے۔ اب جذباتی بنا کر اس کا استحصال نہیں کیا جا سکتا۔ عورت لفظ 'اقرا' کی معنویت کو سمجھ چکی ہے۔ وہ اپنی ذمہ داریوں سے بھی بخوبی واقف ہے۔ ایسی خوش آئند فضا میں وجود زن کی روشن لکیروں کو میں سلام کرتا ہوں اور یہ امید بھی ہے کہ آئندہ زمانوں میں عورت کی قدر و قیمت میں اضافہ ہوگا اوروہ مزید با اختیار ہوگی۔

(مضمون نگار دوشنبہ، تاجکستان میں وزیٹنگ پروفیسر ہیں)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔