ممبئی: دفتر کا جائزہ لینے پہنچیں کنگنا، ہائی کورٹ میں عرضی پر سماعت 22 ستمبر تک ملتوی

بامبے ہائی کورٹ نے بدھ کے روز بی ایم سی کی جانب سے اداکارہ کے دفتر میں کی جانے والی توڑ پھوڑ پر روک لگاتے ہوئے کہا تھا کہ بی ایم سی کا طرز عمل افسوس ناک ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

ممبئی: کنگنا راناوت کے پالی ہلز روڈ پر واقع دفتر کو بی ایم سی کی جانب سے مسمار کیے جانے کے خلاف عرضی پر سماعت ملتوی کر دی گئی ہے، بامبے ہائی کورٹ میں اس معاملہ کی سماعت اب 22 ستمبر کو کی جائے گی۔ دریں اثنا کنگنا اپنے دفتر پہنچیں اور بی ایم سی کی انہدامی کارروائی میں ہونے والے نقصان کا جائزہ لیا۔

بامبے ہائی کورٹ نے بدھ کے روز بی ایم سی کی جانب سے اداکارہ کے دفتر میں کی جانے والی توڑ پھوڑ پر روک لگاتے ہوئے کہا تھا کہ بی ایم سی کا طرز عمل افسوس ناک ہے۔ غور طلب ہے کہ ادھو ٹھاکرے کی سیاسی جماعت شیوسینا بی ایم سی میں اقتدار میں ہے۔

کنگنا رناوت کے وکیل رضوان صدیقی نے کہا کہ تمام حقائق کو آن ریکارڈ لانا ضروری ہے اور انہیں فائل تیار کرنے کے لئے وقت درکار ہے، کیونکہ ان کی موکل ممبئی میں ابھی آئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کنگنا کے گھر میں بجلی اور پانی بھی نہیں ہے۔ ادھر بی ایم سی کے وکیل نے بھی جواب دینے کے لئے 3-4 دن کا وقت طلب کیا، جس کے بعد سماعت کے لئے نئی تاریخ مقرر کر دی گئی۔ بی ایم سی کو ہائی کورٹ کی جانب سے یہ بھی ہدایت کی گئی کہ 22 ستمبر تک کنگنا کے دفتر میں مزید کوئی انہدامی کارروائی نہیں ہوگی۔

دریں اثنا کنگنا راناوت نے اپنے دفتر میں توڑ پھوڑ کی وجہ سے ہونے والے نقصان کا جائزہ لیا۔ کنگنا کے ساتھ ان کی چھوٹی بہن رنگولی بھی موجود تھی۔ اس دوران انہیں سیکورٹی اہلکار نے حفاظتی حصار میں لیا ہوا تھا اور کنگنا نے کوئی بیان نہ دیتے ہوئے میڈیا سے دوری بنائے رکھی۔ کنگنا کے وکیل کے مطابق انہدامی کارروائی میں کنگنا کو تقریباً 2 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔

واضح رہے کہ بی ایم سی کی جانب سے بدھ کے روز کنگنا راناوت کے دفتر کی ’غیر قانونی تعمیرات‘ مسمار کرنے کی کارروائی کی گئی تھی۔ یہ کارروائی شیوسینا کے ساتھ کنگنا راناوت کی بیان بازی کے پس منظر میں انجام دی گئی اور عدالت کے فیصلہ سنائے جانے سے قبل ہی کنگنا کا دفتر منہدم کر دیا گیا۔ جس وقت کارروائی انجام دی گئی اس وقت کنگنا ہماچل پردیش سے ممبئی کے سفر پر تھیں۔

بامبے ہائی کورٹ نے بدھ کے روز کہا کہ بی ایم سی نے جس طرح سے تخریب کاری کا کام شروع کیا وہ کہیں سے بھی مستند نہیں ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ بدنیتی کے ساتھ کیا گیا ہے۔ ہم اس معاملے میں مدد نہیں کرسکتے، لیکن اگر بی ایم سی اس طرح کام کرتی رہی تو یہ شہر بالکل مختلف جگہ بن جائے گا۔

next