عالمی کپ 2023: نیدرلینڈس نے پھر کیا کمال، بنگلہ دیش کو 87 رنوں سے دی شکست

نیدرلینڈس نے 50 اوورس میں صرف 229 رن کا اسکور کھڑا کیا تھا، یہ بنگلہ دیش کے لیے آسان ہدف معلوم ہو رہا تھا لیکن پوری ٹیم 42.2 اوورس میں محض 142 رن بنا کر آل آؤٹ ہو گئی۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر&nbsp;<a href="https://twitter.com/ICC">@ICC</a></p></div>

تصویر@ICC

user

تنویر

رواں کرکٹ عالمی کپ میں نیدرلینڈس نے آج اپنی دوسری جیت حاصل کی اور ظاہر کر دیا کہ وہ ’آسان چارہ‘ نہیں ہے۔ بنگلہ دیش کے خلاف پہلے تو نیدرلینڈس نے جدوجہد سے بھرپور 229 رن بنائے، اور پھر اس کے گیندبازوں نے بنگلہ دیشی بلے بازوں کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ پوری ٹیم 42.2 اوورس میں آؤٹ ہو گئی اور محض 142 رن ہی بنا سکی۔ اس طرح نیدرلینڈس کو 87 رنوں کی بڑی جیت حاصل ہوئی۔ جنوبی افریقہ کے بعد نیدرلینڈس کے لیے بنگلہ دیش کو شکست دینا ایک بڑی کامیابی ہے۔ اس جیت کے ساتھ نیدرلینڈس کے 4 پوائنٹس ہو گئے ہیں اور وہ پوائنٹس ٹیبل میں انگلینڈ و بنگلہ دیش سے اوپر آٹھویں مقام پر آ گئی ہے۔

آج ٹاس نیدرلینڈس کے کپتان اسکاٹ ایڈوارڈس نے جیتا تھا اور پہلے بلے بازی کرنے کا فیصلہ کیا۔ بنگلہ دیش کے گیندبازوں نے اچھی شروعات کی اور نیدرلینڈس کے دونوں سلامی بلے باز 4 رنوں کے مجموعی اسکور پر ہی پویلین لوٹ گئے۔ پھر ویسلی بریسی (41 رن) اور کولن ایکرمین (15 رن) کے درمیان 59 رنوں کی شراکت داری ضرور ہوئی، لیکن دونوں ہی اُس وقت آؤٹ ہو گئے جب ٹیم کا اسکور 63 رن تھا۔ پھر کپتان ایڈوارڈس نے ایک طرف سنبھل کر کھیلنا شروع کیا اور دوسری طرف کچھ چھوٹی چھوٹی پاریاں کھیلی گئیں۔ باس ڈی لیڈے نے 17 رن، سبرانڈ اینگلبریٹ نے 35 رن اور لوگان وان بیک نے 23 رنوں کا تعاون کیا۔ کپتان ایڈوارڈس نے 89 گیندوں پر 68 رن بنائے جو ٹیم کا اسکور 200 کے پار پہنچانے میں بہت اہم ثابت ہوا۔ نیدرلینڈس 50 اوورس میں 10 وکٹ کے نقصان پر کسی طرح 229 رن بنانے میں کامیاب ہو گئی، یعنی بنگلہ دیش کو 230 رنوں کا چھوٹا ہدف حاصل ہوا۔


بنگلہ دیش کی طرف سے گیندبازی میں سبھی گیندبازوں نے ٹھیک ٹھاک کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ 2-2 وکٹ شریف الاسلام، تسکین احمد، مستفیض الرحمن اور مہدی حسن کو ملے، جبکہ ایک وکٹ کپتاب شکیب الحسن کے حصے میں آیا۔ مہدی حسن میراز آج وکٹ سے محروم رہے۔

بنگلہ دیش کی بلے بازی جب شروع ہوئی تو کبھی بھی ایسا نہیں لگا کہ وہ میچ جیتنے کے ارادے سے اترے ہیں۔ 11 کھلاڑیوں میں محض ایک بلے باز ایسا رہا جس نے 20 سے زیادہ کا اسکور بنایا۔ وہ کھلاڑی مہدی حسن میراز تھے جنھوں نے 40 گیندوں میں ایک چھکا اور 5 چوکوں کی مدد سے 35 رن بنائے۔ 5 کھلاڑی تو دوہرے ہندسے تک بھی نہیں پہنچ پائے۔ 19 رن کے اسکور پر بنگلہ دیش کا پہلا وکٹ گرا تھا اور پھر یہ سلسلہ ہر تھوڑے وقفہ پر جاری رہا جو 32.3 اوورس میں 8 وکٹ کے نقصان پر 113 رن تک پہنچ گیا۔ یعنی بنگلہ دیش کو 100 سے زیادہ رنوں سے شکست ملنے والی تھی، لیکن نویں وکٹ کے لیے مستفیض الرحمن اور تسکین احمد نے کچھ وقت وکٹ پر گزارے اور نیدرلینڈس کے بلے بازوں کے صبر کا امتحان لیا۔ پھر مستفیض الرحمن 20 رن بنا کر جب آؤٹ ہوئے تو ٹیم کا اسکور 142 رن تھا۔ اسی اسکور پر تسکین احمد بھی آؤٹ ہو گئے اور اس طرح پوری ٹیم 42.2 اوورس میں 142 رن ہی بنا سکی۔ الٹ پھیر کرنے میں ماہر بنگلہ دیش کی ٹیم آج خود الٹ پھیر کا شکار ہو گئی اور 87 رنوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔


نیدرلینڈس کی جانب سے گیندبازی حیرت انگیز رہی۔ پال وین میکرین نے تنہا 4 وکٹ لیے اور 7.2 اوورس میں محض 23 رن خرچ کیے۔ اس کارکردگی کے لیے انھیں پلیئر آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا۔ باس ڈی لیڈے کو 2 وکٹ ملے جنھوں نے 7 اوورس میں 25 رن دیے۔ 1-1 وکٹ آرین دَت (10 اوورس میں 26 رن)، لوگان وان بیک (9 اوورس میں 30 رن) اور کولن ایکرمین (7 اوورس میں 25 رن) کو حاصل ہوئے۔ شارض احمد واحد گیندباز رہے جنھیں وکٹ نہیں ملا، انھوں نے 2 اوورس میں 13 رن دیے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔