ٹی-20 عالمی کپ: ’ہندوستان میں کھیلو یا باہر جاؤ‘، بنگلہ دیش کو آئی سی سی نے 21 جنوری تک کا دیا الٹی میٹم!

آئی سی سی اور بی سی بی کے درمیان گزشتہ ایک ہفتہ میں 2 میٹنگیں ہوئی ہیں۔ ہفتہ کے روز ڈھاکہ میں ہوئی میٹنگ میں بی سی بی نے اپنا رخ دہرایا کہ وہ عالمی کپ کھیلنا چاہتے ہیں، لیکن ہندوستان میں نہیں۔

<div class="paragraphs"><p>بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ٹی-20 عالمی کپ 7 فروری سے شروع ہونے والا ہے، لیکن بنگلہ دیش کی ٹیم یہ ٹورنامنٹ کھیلے گی یا نہیں، اس بارے میں کچھ بھی صاف نہیں ہو پایا ہے۔ جاری تنازعہ کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کو واضح لفظوں میں کہہ دیا ہے کہ ٹیم ہندوستان میں ہی کھیلے گی، نہیں تو اس کی جگہ دوسری ٹیم کو شامل کیا جائے گا۔ آئی سی سی نے بی سی بی کو اس بارے میں فیصلہ لینے کے لیے 21 جنوری تک کا وقت دیا ہے۔

یہ جانکاری ’ای ایس پی این کرک انفو‘ کی رپورٹ میں دی گئی ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ پاکستان بھی ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان جاری تنازعہ میں کود گیا ہے۔ کچھ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ آئی سی سی کے سامنے جب بی سی بی کی نہیں چلی، تو بی سی بی نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے رابطہ کر مدد کی گزارش کی ہے۔ بتایا یہ بھی جا رہا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے بی سی بی کو مثبت جواب دیا ہے۔ حالانکہ اس سلسلے میں مصدقہ طور پر کچھ بھی سامنے نہیں آیا ہے۔


قابل ذکر ہے کہ آئی سی سی اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے درمیان گزشتہ ایک ہفتہ میں 2 میٹنگیں ہوئی ہیں۔ ہفتہ کے روز ڈھاکہ میں ہوئی میٹنگ میں بی سی بی نے اپنا یہ رخ دہرایا کہ وہ عالمی کپ کھیلنا چاہتا ہے، لیکن ہندوستان میں نہیں۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے متبادل کے طور پر سری لنکا کا نام دیا، جہاں وہ اپنے میچ کھیل سکتا ہے۔ سری لنکا ’ٹی-20 عالمی کپ 2026‘ کا شریک میزبان ہے، پھر بھی آئی سی سی نے شیڈول اور گروپنگ میں تبدیلی سے واضح طور پر انکار کر دیا ہے۔ بی سی بی کی طرف سے اہم اعتراض سیکورٹی کو لے کر ہے۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ ہندوستانی زمین پر کھلاڑیوں کی سیکورٹی یقینی بنانا مشکل ہے۔ حالانکہ آئی سی سی اس سے متفق نہیں ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ موجودہ شیڈیول ہی نافذ رہے گا اور بنگلہ دیش گروپ سی کا حصہ بنا رہے گا۔

آئی سی سی نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کو بھروسہ دلایا ہے کہ سیکورٹی خطرہ جیسی کوئی سنگین حالت نہیں ہے۔ ایک آزادانہ سیکورٹی ایجنسی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے آئی سی سی نے بتایا کہ ہندوستان میں سیکورٹی کا پورا خیال رکھا گیا ہے اور وہاں سیکورٹی اعلیٰ درجہ کی ہے۔ اس معاملہ میں کسی بھی ٹیم کو لے کر کوئی خاص خطرہ دیکھنے میں نہیں آیا ہے۔ اس کے باوجود بی سی بی اپنے مطالبہ پر قائم ہے اور تنازعہ تقریباً 3 ہفتوں سے جاری ہے۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے پہلی بار یہ اعتراض 4 جنوری کو درج کرایا تھا۔


موجودہ شیڈیول کے مطابق بنگلہ دیش اپنے لیگ مقابلے کولکاتا اور ممبئی میں کھیلے گا۔ بنگلہ دیش ٹیم کا پہلا مقابلہ 7 فروری کو کولکاتا میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ہوگا۔ اس کے عبد ٹیم اپنے 2 مزید گروپ میچ کولکاتا میں کھیلے گی، اور آخری میچ ممبئی میں ہوگا۔ بی سی بی نے آئی سی سی سے گروپ بدلنے کا مطالبہ بھی رکھا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ بنگلہ دیش کو ’گروپ بی‘ میں بھیج دیا جائے اور آئرلینڈ کو گروپ ’سی‘ میں منتقل کیا جائے، کیونکہ آئرلینڈ کے مقابلے سری لنکا میں ہونے ہیں۔ لیکن آئی سی سی نے اس تجویز کو بھی خارج کر دیا۔

آئی سی سی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر بنگلہ دیش آخری وقت تک ہندوستان جانے سے انکار کرتا ہے، تو اس کی جگہ رینکنگ کی بنیاد پر اسکاٹ لینڈ کو شامل کیا جائے گا۔ آئی سی سی فی الحال بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے آخری فیصللے کا انتظار کر رہا ہے۔ چونکہ ٹورنامنٹ شروع ہونے میں 3 ہفتہ سے بھی کم کا وقت رہ گیا ہے، اس لیے امید کی جا رہی ہے کہ رواں ہفتہ میں کوئی نہ کوئی حتمی فیصلہ کر لیا جائے گا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔