2026 ٹی-20 ورلڈ کپ: آئی سی سی نے ٹھکرا دیا بنگلہ دیش کا مطالبہ، اب بی سی بی کو ’ہاں یا نہ‘ میں دینا ہوگا جواب!
میچ کی جگہ بدلنے کا مطالبہ آئی سی سی کے ذریعہ مسترد کیے جانے کے بعد بنگلہ دیش کے پاس صرف 2 متبادل بچتے ہیں، یا تو طے شیڈول کے مطابق ٹورنامنٹ میں حصہ لے یا پھر ٹورنامنٹ سے اپنا نام واپس لے۔

2026 ٹی-20 ورلڈ کپ شروع ہونے میں اب ایک ماہ سے بھی کم وقت باقی ہے اور اب تک بنگلہ دیش کا معاملہ حل نہیں ہوا ہے۔ آئی پی ایل سے بنگلہ دیشی تیز گیند باز مستفیض الرحمٰن کو نکالے جانے کے بعد بی سی بی (بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ) نے آئی سی سی (انٹرنیشل کرکٹ کونسل) سے مطالبہ کیا ہے کہ 2026 ٹی-20 ورلڈ کپ کے ان کے مقابلے ہندوستان سے سری لنکا منتقل کر دیے جائیں۔ اس کے پیچھے سیکورٹی وجوہات کا حوالہ دیا ہے۔ اب آئی سی سی نے بنگلہ دیش کے اس اندیشہ کو خارج کر دیا کہ ہندوستان میں سیکورٹی کا کوئی خطرہ ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئی سی سی بنگلہ دیش کے مقابلے ہندوستان سے باہر منتقل کرنے کو تیار نہیں ہے۔
آئی سی سی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ انہیں ایسا کچھ نہیں ملا ہے، جسے سیکورٹی سے متعلق خطرہ کہا جا سکے۔ آئی سی سی نے جانچ میں سیکورٹی کا خطرہ بالکل نہ کے برابر قرار دیا ہے۔ حالانکہ ابھی آئی سی سی نے اس تعلق سے کوئی آفیشیل بیان جاری نہیں کیا ہے۔ واضح رہے کہ ٹی-20 ورلڈ کپ 2026 کا آغاز آئندہ 7 فروری سے ہونا ہے۔ رپورٹ کے مطابق منگل کو بی سی بی اور آئی سی سی نے ویڈیو کانفرنس پر ٹی-20 ورلڈ کپ 2026 کے متعلق بات چیت کی۔ بی سی بی نے آئی سی سی سے اپنے گروپ اسٹیج کے مقابلے ہندوستان سے سری لنکا میں منتقل کرنے کی درخواست کی ہے۔
بی سی بی کی طرف سے بورڈ کے صدر محمد امین الاسلام، نائب صد محمد شاکوت حسین اور فاروق احمد، ڈائریکٹر اور کرکٹ آپریشن کمیٹی کے صدر نجم العابدین اور چیف ایگزیکٹو آفیسر نظام الدین چودھری نے اپنے موقف پیش کیے۔ بی سی بی نے ایک بار پھر اپنی درخواست کے پس پردہ سیکورٹی سے متعلق خدشات کا حوالہ دیا۔ اس کے جواب میں آئی سی سی نے کہا کہ ٹورنامنٹ کا شیڈول پہلے ہی اعلان کیا جا چکا ہے۔ ساتھ ہی آئی سی سی نے بی سی بی سے اپنے موقف پر دوبارہ غور کرنے کی گزارش کی۔ تاہم بی سی بی کی آفیشل پریس ریلیز کے مطابق بنگلہ دیش نے اپنا موقف تبدیل نہیں کیا ہے اور وہ آئی سی سی کے ساتھ اپنی درخواست پر بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے۔
قابل ذکر ہے کہ آئی سی سی کی جانب سے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے مطالبے کو مسترد کرنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ٹورنامنٹ کے آغاز میں اب بہت کم وقت رہ گیا ہے۔ ساتھ ہی ہوٹل بکنگ، کھلاڑیوں اور سپورٹنگ اسٹاف کے لیے ویزا اور بقیہ تمام ضروری چیزوں کا انتظام پہلے ہی ہو چکا ہے۔ اب اچانک اس میں تبدیلی کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ ایسے میں بنگلہ دیش کے پاس صرف 2 آپشن ہی بچتے ہیں، یا تو طے شیڈول کے مطابق ٹورنامنٹ میں حصہ لے یا پھر ٹورنامنٹ سے اپنا نام واپس لے۔ اگر بنگلہ دیش نہیں کھیلتا ہے اور ٹورنامنٹ سے نام واپس لے لیتا ہے تو پھر آئی سی سی ان کی جگہ دوسری ٹیم کو لا سکتی ہے۔ حالانکہ یہ بھی اتنے کم وقت میں آسان نہیں ہوگا۔ ویسے اگر کوئی دوسری ٹیم آتی ہے تو پھر اسکاٹ لینڈ ہو سکتی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔