ٹی-20 ورلڈ کپ 2026: آئی سی سی کے الٹی میٹم کے باوجود بنگلہ دیش ہندوستان آنے کو تیار نہیں
بنگلہ دیش کے اسپورٹس ایڈوائزر آصف نذرل نے کہا کہ ’’آئی سی سی اگر بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) کے دباؤ میں آ کر کوئی فیصلہ لیتی ہے تو بنگلہ دیش اسے قبول نہیں کرے گا۔‘‘

بنگلہ دیش کے اسپورٹس ایڈوائزر آصف نذرل نے بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے متعلق آج اپنا سخت موقف ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ آئی سی سی اگر بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) کے دباؤ میں آ کر کوئی فیصلہ لیتی ہے تو بنگلہ دیش اسے قبول نہیں کرے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں اب تک ایسی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی کہ ہماری جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کیا جا رہا ہے۔ لیکن آئی سی سی اگر بی سی سی آئی کے دباؤ میں آ کر ہم پر کوئی غیر منصفانہ شرائط مسلط کرتی ہے یا دباؤ بناتی ہے تو ہم اسے کسی بھی صورت میں قبول نہیں کریں گے۔‘‘
آصف نذرل نے واضح کیا کہ بنگلہ دیش کو کرکٹ کے معاملوں میں کسی بھی طرح کا سیاسی یا معاشی دباؤ قبول نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئی سی سی کو غیر جانبدار اور آزاد ادارے کی طرح کام کرنا چاہیے، نہ کہ کسی ایک بورڈ کے زیر اثر آ کر۔ واضح رہے کہ حالیہ کچھ دنوں میں ایسی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ اگر بنگلہ دیش ٹی-20 ورلڈ کپ ہندوستان کھیلنے نہیں آتا ہے تو اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو موقع دیا جا سکتا ہے۔ اسی حوالے سے بنگلہ دیش حکومت اور کرکٹ بورڈ میں ناراضگی دیکھی جا رہی ہے۔
بنگلہ دیش کے اسپورٹس ایڈوائزر نے کہا کہ بنگلہ دیش کرکٹ نے محنت سے اپنی جگہ بنائی ہے اور کسی بھی باہری دباؤ کی وجہ سے اسے درکنار نہیں کیا جا سکتا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہم نے میدان میں اپنی کارکردگی کے دم پر اپنی پہچان بنائی ہے۔ اگر کوئی ہمیں پیچھے دھکلینے کی کوشش کرے گا تو ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ بنگلہ دیش حکومت اپنے کرکٹ بورڈ اور کھلاڑیوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔ اگر آئی سی سی کوئی ایسا فیصلہ لیتی ہے جو بنگلہ دیش کے مفادات کے خلاف ہوگا، تو اس کی مخالفت کی جائے گی۔
واضح رہے کہ ہندوستان میں آئندہ ماہ 7 تاریخ سے ہونے والے ٹی-20 ورلڈ کپ کے لیے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) سیکورٹی کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے میچ سری لنکا میں کرانے کے مطالبہ پر اڑا ہوا ہے۔ گزشتہ ہفتہ ڈھاکہ میں ہوئی میٹنگ میں آئی سی سی نے بی سی بی سے 21 جنوری تک حتمی فیصلہ دینے کو کہا تھا۔ اسی درمیان یہ بھی بات ہوئی تھی کہ بی سی بی کے پیچھے ہٹنے پر اس کی جگہ کسی دوسری ٹیم ممکنہ طور پر اسکاٹ لینڈ کو شامل کیا جا سکتا ہے۔ حالانکہ اس تعلق سے آئی سی سی کی جانب سے کوئی آفیشیل بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق بی سی بی نے آئی سی سی سے گروپ میں تبدیلی کا مطالبہ کیا تھا، جس کے تحت آئرلینڈ کو گروپ ’سی‘ میں بھیج کر بنگلہ دیشن کو گروپ ’بی‘ میں رکھنے کی تجویز پیش کی گئی تھی، تاکہ مقابلوں کو سری لنکا منتقل کیا جا سکے۔ آئی سی سی اس تجویز کو ماننے کے حق میں نہیں تھی۔ فی الحال بنگلہ دیش کی ٹیم انگلینڈ، نیپال، اٹلی اور ویسٹ انڈیز کے ساتھ گروپ ’سی‘ میں ہے۔ شیڈول کے مطابق بنگلہ دیش کولکاتہ کے ایڈن گارڈن اور ممبئی کے وانکھیڑے اسٹیڈیم میں اپنے لیگ میچز کھیلے گا۔ ٹیم کا پہلا مقابلہ 7 فروری کو ویسٹ انڈیز کے خلاف شیڈول ہے، جو ٹورنامنٹ کا افتتاحی میچ بھی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔