سچن کو سامنے دیکھ کر ساکت رہ گیا: ایشان

روہت بھائی (شرما) نے مجھے کہا کہ جاؤ اور ان سے باتیں کرو۔ میری خوش قسمتی تھی کہ سچن پاجی (تندولکر) بات کرنے کے لیے خود میری طرف آئے۔ مجھے نہیں لگتا کہ میں نے انہیں بولتے ہوئے کچھ بھی سنا۔

سچن تندولکر
سچن تندولکر
user

یو این آئی

نئی دہلی: جھارکھنڈ کے نوجوان وکٹ کیپر بلے باز ایشان کشن نے کہا ہے کہ وہ برسوں سے سچن تندولکر کی پوجا کرتے تھے اور جب پہلی بار سچن ان کے سامنے اچانک آ گئے تو وہ حیران رہ گئے۔ ایشان نے ہندوستان کے محدود اوورز کے کپتان روہت شرما کے ساتھ اپنی یادوں کو شئیر کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ آئی پی ایل کا ہے جب میں ممبئی انڈینس کے لئے منتخب کیا گیا تھا اور ٹیم کے ساتھ ٹریننگ کر رہا تھا۔ روہت بھائی (شرما) نے مجھے کہا کہ جاؤ اور ان سے باتیں کرو۔ میری خوش قسمتی تھی کہ سچن پاجی (تندولکر) بات کرنے کے لیے خود میری طرف آئے۔ مجھے نہیں لگتا کہ میں نے انہیں بولتے ہوئے کچھ بھی سنا۔ میں انہیں صرف بولتے ہوئے مسلسل دیکھتا رہ گیا۔

کشن نے کہا کہ جیسا کہ ہر باصلاحیت نوجوان ہندوستانی کرکٹر کے ساتھ ہوتا ہے انہیں بھی انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں کھیلنے کا موقع ملا۔ ممبئی انڈینس میں کھیلنے سے پہلے وہ گجرات لائنز کی نمائندگی کر چکے تھے۔ کشن نے آئی پی ایل کی کئی یادوں میں سے اپنے تجربات کے سب سے زیادہ یادگار لمحے سچن سے پہلی ملاقات کا ذکر کیا۔

ایک ایسے ملک میں جہاں کرکٹ کسی مذہب سے کم نہ ہو، کشن بھی اس سے اچھوتے نہیں رہے۔ ایشان کہتے ہیں کہ میرے لئے کرکٹ سب کچھ ہے۔ یہ میرے والد کا خواب تھا کہ میں ہندوستان کے لئے كھیلوں۔ اصل میں، یہ میری ماں کا بھی خواب تھا کہ میں ہندوستان کے لئے كھیلوں اور ملک کے لئے بہت سے میچ جیت کر آؤں، میں ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے لئے بھی کھیلنا چاہتا ہوں اور اس کے لئے میں ہر ممکن کوشش کروں گا۔

ایشان نے کہا کہ کرکٹ جیسے کیریئر کو منتخب کرنے کے لئے آپ کے خاندان والوں کی کلی حمایت ہونے سے بڑا کچھ بھی نہیں۔ لیکن صرف اسی سے آگے کے راستے آسان نہیں بن جاتے۔ ابتدائی قدم کانٹوں بھرے ہوتے ہیں جو غیر یقینی صورتحال کے بادلوں سے گھرے ہوتے ہیں۔

ایشان کے والد پرنب کمار پانڈے پیشے سے بلڈر ہیں اور وہ ان کے ابتدائی دنوں کی جدوجہد کا ذکر کرتے ہیں۔ پرنب پانڈے بتاتے هیں کہ شروع میں یہ ایک جدوجہد تھی۔ دونوں بھائی کھیل رہے تھے۔ ہم اس کے (ایشان) قد کے حساب سے بیٹ اور پیڈ حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کر رہے تھے۔ ایک بار انڈر -14 کے لئے انتخاب کے دوران 'اسکول کھیل فیڈریشن آف انڈیا' ایشان کا ایک ٹیسٹ کرنا چاہتا تھا۔ ہمیں لگا ٹھیک ہے، ویسے بھی یہ اسے پار نہیں کر پائے گا، لیکن اس نے 2-3 اچھے شاٹ کھیلے اور سلیکٹرز نے اسے منتخب کر لیا۔

پرنب کے مطابق ایشان کو کئی میچوں میں وكٹ كيپنگ کا موقع ملا اور اس نے اس میں اچھی کارکردگی کی، سلیکٹرز نے دیکھا کہ ایشان اتنی کم عمر میں اچھا مظاہرہ کر رہا ہے جس کے بعد انہیں ریاست کی ٹیم میں شامل کر لیا گیا۔ کشن نے جھارکھنڈ کے لیے اپنا پہلا میچ دسمبر 2014 میں آسام کے خلاف کھیلا تھا۔ وکٹ کیپر کے طور پر منتخب ہونے کے بعد انہوں نے پہلی اننگز میں اوپننگ بھی کی، ذمہ داری کے طور پر یہ آغاز میں ملا ایک مشکل چیلنج تھا۔ لیکن کشن نے اس فرسٹ کلاس میچ میں اپنی پہلی نصف سنچری بناکر اس سے فائدہ حاصل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ کشن یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ جب پہلی بار مجھے رنجی ٹرافی میں جھارکھنڈ کے لئے کھیلنے کے لئے منتخب کیا گیا تب ماں اخبار سے نیوز کٹنگ کرکے رکھتی تھیں۔