’بنگلہ دیش کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے‘، اب پاکستان کرکٹ بورڈ نے اٹھائی آواز، ٹورنامنٹ کے بائیکاٹ کا اندیشہ!
پی سی بی چیف محسن نقوی نے کہا کہ اگر حکومت پاکستان کہتی ہے کہ پاکستانی ٹیم عالمی کپ نہیں کھیلے گی، تو آئی سی سی کو 22ویں ٹیم کو شامل کرنے پر غور کرنا چاہیے۔

آئی سی سی نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’ٹی-20 عالمی کپ 2026‘ سے باہر کا راستہ دکھا دیا ہے۔ بنگلہ دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کی ٹورنامنٹ میں انٹری ہو گئی ہے، لیکن اب پاکستان نے اس فیصلہ کے خلاف اپنی آواز بلند کی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے آئی سی سی کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ پاکستان میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ بنگلہ دیش کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے اور آئی سی سی کو دوہرا پیمانہ نہیں اختیار کرنا چاہیے تھا۔
محسن نقوی نے بتایا کہ انھوں نے بی سی بی کا معاملہ آئی سی سی بورڈ میٹنگ کے دوران بھی اٹھایا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’میں نے آئی سی سی کی میٹنگ میں صاف لفظوں میں کہا تھا کہ آپ دوہرا پیمانہ نہیں اختیار کر سکتے۔ ایک ملک کے لیے ایک فیصلہ، اور دوسرے کے لیے دوسرا فیصلہ نہیں ہو سکتا۔‘‘ انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش کو ہر حال میں عالمی کپ کھیلنا چاہیے، کیونکہ وہ ٹورنامنٹ کا ایک بڑا اور اہم اسٹیک ہولڈر ہے۔ پی سی بی چیف کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش اور پاکستان دونوں آئی سی سی کے یکساں اراکین ہیں، اور ان کے ساتھ الگ الگ سلوک نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر پاکستان کے معاملہ میں ہندوستان کو ترجیح دی گئی ہے، تو بنگلہ دیش کے معاملہ میں بھی وہی رویہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ کوئی ایک ملک دوسرے ملک پر اپنا فیصلہ نہیں تھوپ سکتا۔
محسن نقوی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر موجودہ حالات میں پاکستان اپنے رخ پر مضبوطی کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ ایک ملک قطعی دوسرے ملک کو ہدایت نہیں دے سکتا، اگر ایسا ہوا تو پاکستان اپنے موقف پر قائم رہے گا۔ پی سی بی چیف نے اس معاملہ میں حکومت پاکستان کے کردار کو بہت اہم قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ اگر حکومت پاکستان کہتی ہے کہ ٹیم عالمی کپ نہیں کھیلے گی، تو آئی سی سی کو 22ویں ٹیم کو شامل کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ فیصلہ (پاکستانی ٹیم عالمی کپ کھیلے گی یا نہیں) پاکستان حکومت کا ہوگا، اور آخری فیصلہ بھی حکومت ہی لے گی۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’پاکستان کے پاس ہر حالت سے نمٹنے کے لیے کئی متبادل موجود ہیں۔ ہمارے پاس پلان اے، پلان بی، پلان سی، اور پلان ڈی ہیں، اس لیے فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ واضح الفاظ میں محسن نقوی نے یہ بھی کہا کہ انھیں آئی سی سی سے زیادہ حکومت پاکستان پر بھروسہ ہے۔
محسن نقوی کے مذکورہ بالا بیانات کے بعد بین الاقوامی کرکٹ میں ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ بنگلہ دیش کے عالمی کپ مستقبل، آئی سی سی کی غیر جانبداری اور رکن ممالک کے حقوق سے متعلق بھی مباحثے شروع ہو گئے ہیں۔ آئندہ دنوں میں اس معاملہ پر آئی سی سی اور متعلقہ ممالک کے رد عمل پر سبھی کی نظریں مرکوز رہیں گی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔