گلابی گیند سے ’ٹیسٹ چمپئن شپ‘ کا چراغ روشن رکھنے اترے گی ٹیم انڈیا اور انگلینڈ

ہندوستان اور انگلینڈ اس وقت سیریز میں 1-1 سے برابری پر ہیں، اگلے دو ٹیسٹ میچوں میں اس بات کا فیصلہ ہونا ہے کہ ان دونوں میں سے کون سی ٹیم عالمی چیمپئن شپ کے فائنل میں پہنچے گی۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

احمدآباد: ہندوستان اور انگلینڈ آئی سی سی ٹسٹ چیمپئن شپ کے فائنل میں پہنچنے کے لئے بدھ کے روز دنیا میں سب سے زیادہ صلاحیت والے کرکٹ اسٹیڈیم میں تیسرے اور آخری ٹسٹ میچ میں گلابی گیند سے امیدوں کا چراغ جلانے اتریں گے۔ ہندوستان اور انگلینڈ اس وقت سیریز میں -1۔1 سے برابری پر ہیں، اگلے دو ٹسٹ میچوں میں اس بات کا فیصلہ ہونا ہے کہ ان دونوں میں سے کون سی ٹیم عالمی چیمپئن شپ کے فائنل میں پہنچے گی۔ یعنی ان کا لارڈس کا سفر احمدآباد سے ہوکر نکلنا ہے۔ اگر یہ دونوں ٹسٹ ڈرا رہ جاتے ہیں تو آسٹریلیا کی ٹیم فائنل میں پہنچ جائے گی۔ ہندوستان کو یہ سیریز دو۔ایک یا تین ایک سے جیتنی ہے جبکہ انگلینڈ کو تین۔ ایک سے جیتنی ہے۔

یہ دلچسپ ہے کہ عالمی چیمپئن شپ فائنل کی دوسری ٹیم کا فیصلہ دنیا کے سب سے بڑے اسٹیڈیم میں ہونا ہے جس میں شائقین کی صلاحیت ایک لاکھ 10 ہزار ہے۔ سردار پٹیل اسٹیڈیم نے 2014 سے کسی بین الاقوامی میچ کا انعقاد نہیں کیا ہے اور اس میدان کی پھر سے تعمیر ہونے کے بعد اس میں پہلا بین الاقوامی میچ ڈے نائٹ کا ہونے جا رہا ہے۔ اس میدان پر حال ہی میں سید مشتاق علی ٹرافی کے کچھ ٹی ٹوئنٹی میچ منعقد ہوئے تھے اور اب موٹیرا میں نئی فلڈلائٹس کے بیچ گلابی گیند سے ٹسٹ میچ ہونے جا رہا ہے۔

ہندوستان اپنا دوسرا ڈے نائٹ ٹسٹ کا انعقاد کر رہا ہے۔ گلابی گیند زیادہ سوئنگ لیتی ہے اور اس میں لال گیند کے مقابلے زیادہ تیزی رہتی ہے۔ دونوں ٹیموں نے پہلے دو ٹسٹ میچوں میں اپنی گیند بازی کے دم پر جیت حاصل کی تھی اور موٹیرا میں بھی کچھ ایسا ہی ہوسکتا ہے۔ گلابی گیند سے ٹسٹ میچ کی تاریخ چھ سال پرانی ہے اور ان ٹسٹوں میں تیزگیند بازوں کا دبدبہ رہا ہے۔ دنیا میں کھیلے گئے ڈے نائٹ ٹسٹ میچوں میں گیند بازوں نے 24.47 کی اوسط سے 354 وکٹیں حاصل کی ہیں جبکہ اسپنروں نے 35.38 کے اوسط سے 115 وکٹیں لی ہیں۔

موٹیرا کی پچ کو دیکھنا دلچسپ ہوگا۔ ہندوستان کے لئے اس میچ سے پہلے اچھی خبر ہے کہ اس کے تیز گیند باز امیش یادو نے فٹ نیس ٹسٹ پاس کرلیا ہے اور وہ ٹیم میں شامل ہوگئے ہیں۔ ہندوستان کے سب سے تجربہ کار تیزگیند باز ایشانت شرما کا یہ 100 واں ٹسٹ میچ ہوگا اور وہ اسے یادگار بنانے کی پوری کوشش کریں گے۔ حالانکہ ایشانت کا کہنا ہے کہ ٹیم کی نظریں اس بات پر لگی ہیں کہ ٹیم جیت حاصل کرکے عالمی چیمپئن شپ کے فائنل میں پہنچے۔

انگلینڈ کے پاس جیمس اینڈرسن اور اسٹورٹ براڈ کی شکل میں دنیا کے بہترین سوئنگ گیند باز ہیں جبکہ ہندوستان ایشانت اور بمراہ پر انحصار کرے گا۔ اس میچ میں دونوں ٹیموں کے لئے گیند بازی کا توازن برقرار رکھنے کا سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔ مشتاق علی ٹرافی کے میچوں میں اسپنروں کو بھی فائدہ ملا تھا اسے دیکھتے ہوئے دونوں ٹیمیں تیز اور اسپن گیند بازی حملہ کا صحیح توازن تلاش کرے گی۔

اس مقابلے کے سلسلے میں دونوں ٹیموں کے اہم کھلاڑیوں کی مختلف رائے ہے۔ انگلینڈ کے تیز گیند باز جیمس اینڈرس کا خیال ہے کہ دن رات کے ٹسٹ میں سوئنگ کا زیادہ رول نہیں ہوگا جبکہ ہندوستانی سلامی بلے باز روہت شرما کا کہنا ہے کہ شام کے وقت فلڈ لائٹ کے جلنے کے وقت بلے بازی کرنا زیادہ چیلنجنگ ہوگا۔

ڈے نائٹ ٹسٹ میں موسم کا بھی اہم رول ہوگا۔ رات میں اوس کا بھی رول رہے گا جس سے گیند بازی کرنے والی ٹیم کو پریشانی ہوسکتی ہے۔ موٹیرا اسٹیڈیم میں ایل ای ڈی فلڈ لائٹس لگی ہیں جو باقی فلڈ لائٹس سے الگ ہوں گی اور ٹسٹ پر اس کا بھی اثر دیکھنے کو ملے گا۔

ہندوستان۔ چنئی میں دوسرا ٹسٹ ریکارڈ فرق سے جیتنے والی ٹیم میں زیادہ تبدیلی نہیں ہوگی اگر کوئی تبدیلی ہوتی ہے تو چائنا مین گیند باز کلدیپ یادو کو باہر بیٹھنا پڑسکتا ہے۔ تیزگیند باز محمد سراج کی جگہ بمراہ الیون میں لوٹیں گے۔ جو پانچ بلے باز چنئی میں کھیلے تھے ان کی ٹیم میں جگہ یقینی ہے ان کے ساتھ رشبھ پنت وکٹ کیپر، دونوں اسپنر روی چندرن اشون اور اکشر پٹیل اور تیز گیند باز ایشانت اور بمراہ رہیں گے۔

پانچویں گیند باز کے لئے امیش اور سراج کے بیچ مقابلہ ہوگا۔ آل راونڈر ہارڈک پانڈیا نے نیٹس میں گلابی گیند کے ساتھ گیند بازی کی ہے لیکن ٹیم انڈیا انہیں کھیلنا کا خطرہ نہیں اٹھا سکتی کیونکہ وہ چوٹ سے ابھی ٹھیک ہوئے ہیں۔ بلے بازی کو مضبوط کرنے اور بیچ میں پانچ ۔چھ اوور کرنے کے لئے پانڈیا کو شامل کیا جاسکتا ہے۔

دونوں ٹیمیں اپنی ٹیم کا انتخاب صورتحال کے پیش نظر کریں گی لیکن دونوں کا ہدف جیت حاصل کرکے اپنی امیدوں کو بنائے رکھنا ہوگا۔ کیونکہ دونوں ٹیموں کے لئے یہ کرو یا مرو کا مقابلہ ہے۔ موٹیرا کی فلڈ لائٹس معمولی فلڈ لائٹس کی طرح نہیں ہے۔ اسٹیڈیم کی چھت پر ایل ای ڈی لائٹس کا گھیرا بنایا گیا ہے جو دبئی انٹرنیشنل اسٹیڈیم کی طرح ہے اور اسے رنگ آف فائر کہا جا رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next