جوہری بم گرانے والے تہذیب سمجھائیں گے؟... ابھے شکلا
ایران نے جنوبی ممالک کو ’بربریت پسند‘ اور ’دہشت گرد‘ بتانے والے مغربی نظریات کو پلٹ دیا ہے اور اسے برعکس ثابت کر دیا ہے۔ اب دنیا میں یہ سوچ بن رہی ہے کہ اسرائیل و امریکہ ہی سب سے بڑے دہشت گرد ملک ہیں۔

تہذیبیں شاعروں، ادیبوں، مصوروں اور معماروں کے ذریعے تخلیق کی جاتی ہیں، اور سیاست دانوں اور ان کی فوجوں کے ذریعے تباہ کر دی جاتی ہیں۔ ہمیں اس حقیقت کو ایسے وقت میں یاد رکھنا چاہیے، جب ہمارے پڑوس یعنی مغربی ایشیا میں وجود کا تہذیبی جنگ جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں : لبنان میں غزہ جیسی نسل کشی!... اشوک سوین
اس میں کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ غزہ، لبنان، شام اور ایران پر کیے جا رہے ناجائز حملے صرف ’گریٹر اسرائیل‘، تیل یا یورینیم افزودگی تک محدود نہیں ہیں، بلکہ یہ تو غیر عیسائی اور غیر کوکیشیائی دنیا کے خلاف چھیڑی گئی ایک نئی ’مذہبی جنگ‘ کا محض پردہ ہیں۔ یہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مسلط کیا گیا ایک نیا مذہبی-نوآبادیاتی سامراج ہے، جسے یوروپ کے بیشتر ممالک کی خاموش اور علامتی حمایت حاصل ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ان ممالک میں بڑی تعداد میں رہنے والے عیسائیوں نے بھی اب ’صہیونیت‘ کے جذبے کو اپنا لیا ہے۔
اس جسارت کو برداشت کرنا مشکل ہے۔ یہاں 2 ممالک ہیں... ایک جسے وجود میں آئے ابھی بمشکل 75 سال ہوئے ہیں، اور دوسرا جس کی ثقافتی بنیاد ہیمبرگر اور کینٹکی فرائیڈ چکن ہیں... اور یہ دونوں مل کر ہزاروں سال پرانی تہذیبوں کو تباہ کرنے کی جسارت کر رہے ہیں۔ جیسا کہ ایران کے وزیر خارجہ نے ڈونالڈ ٹرمپ کو یاد دلایا، جب یوروپی اور امریکی غاروں میں رہ رہے تھے، تب فارسی لوگ ’سائرس سلینڈر‘ کے انسانی حقوق کے اصول لکھ رہے تھے۔
آج کے خون کے پیاسے صہیونی شاید اس بات سے بھی ناواقف ہیں کہ نویں صدی عیسوی میں الجبرا کی ایجاد ایک فارسی ریاضی دان نے کی تھی، اور یہودی آج اس لیے موجود ہیں کیونکہ زرکسیز (چھٹی صدی قبل مسیح) اور سائرس (پانچویں صدی قبل مسیح) جیسے فارسی بادشاہوں نے یہ حکم دیا تھا کہ یہودیوں کو امن سے رہنے دیا جائے اور انہیں کسی بھی طرح نقصان نہ پہنچایا جائے۔ آج کے یہودیوں کا ان فارسی لوگوں کی نسلوں کا قتل عام کرنے کی کوشش کرنا حقیقی تہذیبوں اور وحشی لوگوں کے بارے میں وہ سب کچھ بیان کر دیتا ہے، جسے بیان کرنے کی ضرورت ہے۔
تہذیبی بالادستی قائم کرنے کی کوششوں کے شواہد روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں۔ اس پالیسی کا باضابطہ اعلان ایک کیوبائی نژاد مہاجر نے کیا، جو پاگل سانپ کی طرح اپنی ہی دُم کو نگلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ میں امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو کی بات کر رہا ہوں۔ اس سال فروری میں میونخ سیکورٹی کانفرنس میں انہوں نے بغیر کسی جھجک کے ٹرمپ کے نئے ’ماگا کارٹا‘ کو سب کے سامنے پیش کیا اور متعدد یوروپی لیڈران نے تالیاں بجا کر ان کا خیر مقدم کیا۔
روبیو نے یاد دلایا جب یوروپ کے مشنری، زائرین، سپاہی اور مہم جو نئے براعظموں میں بسنے کے لیے اس کے ساحلوں سے روانہ ہوئے تھے۔ انہوں نے مغربی بالادستی کے ایک نئے دور کا مطالبہ کیا، تاکہ 1945 کے بعد سے مغرب کے زوال کو پلٹا جا سکے۔ اس طرح انہوں نے دراصل نوآبادیات کے ایک نئے دور کے آغاز کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اس مسئلے کو ’درست‘ کر رہا ہے، اور ایسا کرتے وقت اسے موجودہ عالمی نظام کے بنیادی اصولوں کو رد کرنے میں کوئی جھجک نہیں ہوگی۔
یہ بات اس حقیقت سے مکمل طور پر ثابت ہوتی ہے کہ امریکہ نے اپنی بالادستی برقرار رکھنے کے لیے 80 ممالک میں 750 سے 800 فوجی اڈے قائم کر رکھے ہیں، اور گزشتہ 80 برسوں کے دوران اس نے 41 ممالک پر بمباری کی ہے، جن میں سربیا کے علاوہ باقی تمام ممالک یا تو ایشیا میں ہیں یا افریقہ میں۔ اندازہ ہے کہ ان حملوں اور ان کے ساتھ عائد کی گئی پابندیوں کے باعث کم از کم 3 کروڑ 20 لاکھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ایران مخالف امریکی بیانیہ پنکچر ہو گیا…سہیل انجم
غزہ، لبنان اور ایران تو اس نئے طرز کے نوآبادیاتی اقدامات کی محض تازہ مثالیں ہیں۔ ٹرمپ نے تو کھلے عام یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس نے وینزویلا کا تیل حاصل کر لیا ہے، اور اب وہ ایران کے تیل کے ذخائر اور آبنائے ہرمز سے ہونے والی آمدنی میں بھی حصہ چاہتا ہے۔ انہوں نے دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک کے لیڈران کو قتل کر کے اور انہیں ’پتھر کے زمانے کے بدذات‘ کہہ کر اس تہذیب کے تئیں شدید نسلی نفرت کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیل کے وزیر دفاع نے فلسطینیوں کو ’جانوروں سے بھی بدتر‘ قرار دیا اور ان کے مکمل خاتمے کی بات کی ہے۔
اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے مغربی ایشیا میں کیے جا رہے قتل عام کو اسپین اور آئرلینڈ جیسے چند ممالک کو چھوڑ کر مغربی یوروپ اور جی-7 ممالک کی مکمل حمایت حاصل ہے، چاہے یہ حمایت کھل کر نہ دی گئی ہو۔ اسرائیل کے ساتھ ان کا تجارتی تعلق بدستور جاری ہے، جو سالانہ تقریباً 50 ارب امریکی ڈالر ہے۔ انہوں نے ایران اور وینزویلا پر پابندیاں عائد کی ہیں، لیکن اسرائیل پر پابندی لگانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ وہ اس ریاست کو مسلسل اسلحہ فراہم کر رہے ہیں، انہوں نے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے 12 یوروپی ممالک کا اتحاد بنایا ہے، لیکن غزہ یا جنوبی لبنان کے تحفظ کے لیے وہ ایسا ہرگز نہیں کریں گے۔
اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ وہ اپنے ہی شہریوں کو اسرائیل کے خلاف احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دے رہے۔ برطانیہ نے ہزاروں مظاہرین کو گرفتار کیا ہے اور فرانس نے حال ہی میں ایسا قانون نافذ کیا ہے، جو اسرائیل مخالف کسی بھی عوامی احتجاج کو جرم قرار دیتا ہے اور اس کے لیے 5 سال قید کی سزا مقرر کرتا ہے۔ مغرب کی یہ ’تہذیبوں کی جنگ‘ پوری شدت کے ساتھ لڑی جا رہی ہے۔
یہی وہ تناظر ہے جس میں ہمیں ایران کی جانب سے اپنی خود مختاری اور اپنے عوام کے دفاع میں کی جانے والی مضبوط مزاحمت کو دیکھنا چاہیے۔ ایران ’گلوبل ساؤتھ‘ کو نوآبادیات سے آزاد کرانے کے لیے لڑ رہا ہے۔ اس نے جنوبی ممالک کو ’بربریت پسند‘ اور ’دہشت گرد‘ قرار دینے والے مغربی نظریات کو مکمل طور پر الٹ دیا ہے۔ اب دنیا بھر میں یہ سوچ قائم ہو رہی ہے کہ اسرائیل اور امریکہ ہی سب سے بڑے دہشت گرد ممالک ہیں۔ عالمی امن اور نظام کو سب سے بڑا خطرہ انہی سے ہے۔ ان کے رہنما کھلے عام جنگی مجرم ہیں۔ حقیقی معنوں میں یہی ’بربریت پسند‘ ہیں اور یہ لوگ جنگ ہار چکے ہیں، لیکن ایسے جنونی ہیں کہ اسے تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔
(مضمون نگار ابھے شکلا سبکدوش آئی اے ایس افسر ہیں)
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔