مغربی ایشیا کی جنگ: کیا ٹرمپ کے لیے سیاسی بحران گہرا ہو رہا ہے؟
مغربی ایشیا کی جنگ پر اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ اعلیٰ عہدیدار کے استعفے نے پالیسی پر سوال اٹھا دیے، جبکہ جنگ کے اثرات امریکہ اور خلیجی ممالک دونوں کے لیے پیچیدہ صورت اختیار کر رہے ہیں

مغربی ایشیا میں جاری جنگ اپنے عروج پر تھی کہ 17 مارچ کو ایک اہم پیش رفت سامنے آئی، جب ایک سینئر امریکی خفیہ افسر نے اچانک اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ قومی انسداد دہشت گردی مرکز کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں لکھا کہ کافی غور و فکر کے بعد انہوں نے اپنے عہدے سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ ایران کے خلاف جاری جنگ کی حمایت نہیں کر سکتے، کیونکہ ان کے مطابق ایران سے امریکہ کو کوئی فوری خطرہ لاحق نہیں تھا، اور یہ جنگ اسرائیل اور اس کی طاقتور امریکی لابی کے دباؤ میں شروع کی گئی۔
جو کینٹ کے اس بیان نے درحقیقت اس سوچ کو عوامی سطح پر سامنے لا دیا، جو ٹرمپ انتظامیہ کے کئی ارکان نجی طور پر رکھتے تھے، لیکن کھل کر اظہار نہیں کرتے تھے۔ یہاں تک کہ یہ قیاس آرائیاں بھی سامنے آئیں کہ نائب صدر جے ڈی وینس بھی اسی طرح کے خیالات رکھتے ہیں۔ تاہم، انہیں میڈیا کے سامنے صدر ٹرمپ کی حمایت کرتے ہوئے دیکھا گیا، جہاں انہوں نے کہا کہ انہیں صدر پر مکمل اعتماد ہے کہ وہ ماضی کی غلطیوں کو دہرانے سے بچیں گے۔ لیکن اگر وینس مستقبل میں صدارتی انتخاب لڑتے ہیں، تو اس متضاد موقف سے خود کو الگ کرنا ان کے لیے مشکل ہو سکتا ہے۔
سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق، جو کینٹ ٹرمپ اور ’میک امریکہ گریٹ اگین‘ تحریک کے پُرجوش حامیوں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کے استعفے کو اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کہ اس سے پہلے ایلون مسک بھی ایک سرکاری عہدے سے مستعفی ہو چکے تھے۔ یوں ٹرمپ حکومت میں اندرونی اختلافات کی دراڑیں مزید نمایاں ہو گئی ہیں، جو آنے والے وقت میں سیاسی طور پر اثر انداز ہو سکتی ہیں، خاص طور پر عوامی رائے عامہ پر۔
اسی دوران ایک پریس کانفرنس میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ کسی بھی خفیہ اطلاع سے یہ اشارہ نہیں ملا کہ ایران، امریکہ یا اسرائیل کے حملے کے جواب میں اپنے عرب ہمسایہ ممالک کو نشانہ بنائے گا۔ تاہم، مبصرین نے اس بیان پر سوال اٹھائے اور کہا کہ چونکہ ان ممالک میں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں، اس لیے ایسے خطرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
اپنے استعفیٰ نامے میں جو کینٹ نے مزید کہا کہ ایک مخصوص ’ایکو چیمبر‘ کے ذریعے صدر کو یہ یقین دلایا گیا کہ ایران امریکہ کے لیے فوری خطرہ ہے اور فوری حملہ کامیابی کا راستہ کھول دے گا۔ ان کے مطابق یہ دعویٰ حقیقت کے برعکس تھا، اور اسی طرح کے دلائل ماضی میں عراق جنگ کے لیے بھی استعمال کیے گئے تھے، جس کے نتیجے میں ہزاروں امریکی فوجیوں کی جانیں گئیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کی غلطی دوبارہ نہیں دہرائی جانی چاہیے۔
انہوں نے صدر کو مشورہ دیا کہ وہ اپنا موقف تبدیل کر کے ملک کے لیے ایک نیا راستہ اختیار کر سکتے ہیں، ورنہ یہ پالیسی ملک کو مزید انتشار اور زوال کی طرف لے جا سکتی ہے۔
واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ سینیٹر پیٹی مرے نے ماضی میں کینٹ کو ’سازشی نظریات رکھنے والا‘ قرار دیا تھا، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ کینٹ کو فوجی اور خفیہ معاملات کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔ انہوں نے امریکی فوج میں 20 سال خدمات انجام دیں اور 11 جنگی مہمات میں حصہ لیا، اس کے بعد سی آئی اے میں بھی کام کیا۔ ان کی ذاتی زندگی بھی اس جنگ سے متاثر رہی، کیونکہ ان کی پہلی بیوی شینن 2019 میں شام میں ایک واقعے کے دوران ہلاک ہو گئی تھیں۔
صدر ٹرمپ نے حسبِ معمول کینٹ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ’سکیورٹی کے معاملے میں کمزور‘ قرار دیا۔ تاہم، پینٹاگون کی جانب سے کانگریس کو فراہم کی گئی معلومات سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ ایران اس وقت تک کسی حملے کی منصوبہ بندی نہیں کر رہا تھا، جب تک اسے پہلے نشانہ نہ بنایا جائے۔
اگرچہ صدر ٹرمپ بظاہر اعتماد کا مظاہرہ کر رہے ہیں، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ انہیں ایران کی جانب سے اتنے سخت ردعمل کی توقع نہیں تھی، اور شاید اسی لیے انہوں نے یہ بھی اندازہ نہیں لگایا تھا کہ یہ جنگ اتنی طویل ہو سکتی ہے۔ اب یہ تاثر بھی مضبوط ہو رہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے انہیں گمراہ کیا۔
ایسی صورتحال میں امکان ہے کہ ٹرمپ اچانک پالیسی تبدیل کرتے ہوئے جنگ سے نکلنے کا اعلان کریں، لیکن اس کے لیے انہیں ایک محفوظ راستہ درکار ہوگا، جو فی الحال ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ ایران کسی سمجھوتے کے لیے تیار نہیں۔
امریکہ میں ہونے والے حالیہ سروے بتاتے ہیں کہ عوام، بشمول ریپبلکن ووٹرز، ایران میں زمینی فوج بھیجنے کے حق میں نہیں ہیں۔ اس کے باوجود واشنگٹن میں ایران کے خارگ جزیرے پر قبضے کے لیے فوجی تعیناتی پر غور کیا جا رہا ہے، جو تیل کی برآمد کے لیے ایک اہم مرکز ہے۔
گزشتہ ایک ماہ سے آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں، جہاں کئی جنگی جہاز، بشمول دو طیارہ بردار بحری جہاز، موجود ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ’یو ایس ایس ٹریپولی‘ نامی ایک بحری جہاز بھی خطے میں تعینات ہے، جس پر تقریباً 2200 میرین فوجی موجود ہیں۔
16 مارچ کو وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ کا موقف واضح نہیں تھا۔ ایک طرف انہوں نے کہا کہ مشن تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ دوسری جانب یہ بھی اعتراف کیا کہ ایران ان کی شرائط ماننے کو تیار نہیں۔ انہوں نے ان شرائط کی تفصیل بھی بیان نہیں کی۔
مزید برآں، انہوں نے نیٹو اتحادیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ اس جنگ میں شامل ہونے سے گریز کر رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر امریکہ واقعی کامیابی کے قریب تھا، تو اسے اتحادیوں کی مدد کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
ایران نے نہ صرف جنگ بندی سے انکار کیا ہے، بلکہ اس تنازع نے خلیجی ممالک کی معیشت کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہونے سے ان ممالک کی آمدنی پر برا اثر پڑا ہے۔ ہوائی سفر اور تجارتی سرگرمیاں بھی محدود ہو گئی ہیں، جبکہ عالمی سطح پر ان کی حیثیت کو دھچکا پہنچا ہے۔
لندن میں ایک سیمینار کے دوران، ایک اماراتی تجزیہ کار نے کہا کہ اس جنگ کے بعد خلیجی ممالک کو اپنی سرزمین پر موجود امریکی فوجی اڈوں پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق، وہ سکیورٹی نظام جس پر یہ ممالک دہائیوں سے انحصار کرتے آئے ہیں، اب قابل اعتماد نہیں رہا۔
ایران بھی اب یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ خطے میں امریکی فوجی اڈے بند کیے جائیں۔ امریکہ کے لیے یہ معاملہ صرف اپنے اتحادیوں کا دفاع نہیں بلکہ اپنے اسٹریٹجک مفادات کا تحفظ بھی ہے، اس لیے اس کا مکمل انخلا آسان نہیں ہوگا۔ تاہم، اب سوال یہ ہے کہ اس کے اتحادی اس پر کتنا اعتماد کر پائیں گے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔