ایران کے خلاف امریکہ کی ’ناکامی‘ پر اُٹھے سوال، داخلی اور بیرونی سطح پر ٹرمپ کو تنقید کا سامنا

ایران کی جوابی حکمت عملی اورعالمی اقتصادی دباؤ نے اس تنازع کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستے پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث پوری دنیا کی توجہ اس تنازع پر مرکوز ہے۔

<div class="paragraphs"><p>خامنہ ای / ڈونالڈ ٹرمپ</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت کہے جانے والے امریکہ کو ایک بڑے سوال کا سامنا ہے کہ آخر وہ ایران کے خلاف جنگ میں جیت کیوں حاصل نہیں کرپارہا ہے؟ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دعوے اور دفاعی ماہرین نے تو یہ لڑائی 2 سے 5 دن چلنے کی پیش گوئی کی تھی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ حالات اب اس کے برعکس نظر آرہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تنازع 2 ہفتوں سے زائد عرصے سے جاری ہے اور کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

ایران کی جوابی حکمت عملی، علاقائی سیاست اور عالمی اقتصادی دباؤ نے اس تنازع کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستے پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث پوری دنیا کی توجہ اس تنازع پر مرکوز ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ نے اس جنگ کو آسان سمجھنے کی غلطی کی ہے؟ اس طرح کے کئی سوالات اٹھائے جارہے ہیں جن کی وجہ سے یہ ٹکراؤ امید سے زیادہ خوفناک شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔


امریکہ کے حملے کے انداز کو پچھلی کئی فوجی کارروائیوں میں سمجھا جا چکا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ امریکہ نے مخالف لیڈروں کو مارنے کی بجائے پکڑنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ مثال کے طور پر نکولس مادورو کو ان کے خلاف آپریشن میں ختم نہیں کیا گیا اور صدام حسین کو بھی 2003 کی عراق جنگ کے دوران پکڑا گیا اور ان پر مقدمہ چلایا گیا۔ حالانکہ ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کے ساتھ ایسا نہیں کیا گیا۔ اس معاملے میں حکمت عملی مختلف نظر آئی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اسرائیل کی لیڈر شپ ختم کرنے والی پالیسی یہاں زیادہ حاوی رہی۔ اسرائیل اس سے قبل حماس اور حزب اللہ کی قیادت کو نشانہ بنا چکا ہے۔ حالانکہ فرق یہ ہے کہ ایران دہشت گرد تنظیم نہیں بلکہ ایک پوری جمہوری قوم ہے۔ اس لیے اس کی قیادت پر حملے کے بعد بھی یہ بکھرنے کی بجائے مزید متحد ہو کر ابھری۔

واضح رہے کہ تہران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد شروع ہوئی تھی۔ تب سے ایران نے ایک طویل اور مشکل جنگ کے لیے خود کو تیار کرنا شروع کر دیا۔ اس نے آہستہ آہستہ اپنے دفاعی نظام کو بہتر بنایا اور میزائل سسٹمز اور خطے میں اپنے اتحادیوں کو مضبوط کیا۔ ملک کے سپریم لیڈرعلی خامنہ ای کی قیادت میں فوج کی طاقت میں اضافہ کیا گیا۔ پچھلے سال جب اسرائیل، امریکہ اور ایران کے درمیان 12 روزہ فوجی تنازع ہوا تو ایران نے محسوس کیا کہ امریکی فضائی طاقت کا براہ راست مقابلہ کرنا مشکل ہے۔ اس کے بعد ایران نے زیر زمین میزائل اڈوں سے بڑے پیمانے پر سستے لیکن خطرناک ڈرون تیار کرنا شروع کر دیے۔ آج ان میں سے ہزاروں موجود ہیں اور امریکی فوج کے لیے بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔


کہا جارہا ہے کہ ایران کو پریشان کرنے نکلے ٹرمپ نے اپنے ہی ملک کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ خبروں کے مطابق امریکہ میں ایران جنگ کے باعث مہنگائی کا طوفان آگیا ہے۔ ایران کے ساتھ جنگ میں امریکہ کو بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہو رہا ہے اور شدید عدم استحکام کا شکار ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران نے اسرائیلی اور امریکی حملوں کے جواب میں دنیا کی اہم ترین آبی گذرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کردیا ہے جس سے پیٹرول کی قلت پیدا ہوئی اور قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔ جس سے امریکہ بھی متاثر ہوا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔