ایران کے ساتھ جنگ: اسرائیل کی خواہش پوری کرنے سے 3 امریکی صدور نے کیا تھا انکار، ٹرمپ کی ’ہاں‘ نے بگاڑ دیے حالات
سابق امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے مطابق امریکہ کے 3 سابق صدور کا ماننا تھا کہ امن کے لیے بات چیت کے راستے پوری طرح ختم نہیں ہوئے ہیں اس لیے ایران سے براہ راست جنگ کرنا ٹھیک نہیں ہوگا۔

امریکہ کے سابق وزیر خارجہ جان کیری نے اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی ضد سے متعلق چونکانے والی معلومات کا اشتراک کیا ہے۔ ’نیو یارک ٹائمس‘ اور ’رائٹرز‘ نے اپنی مختلف رپورٹس میں امریکہ کے 3 صدور کے ’انکار‘ کے بعد موجودہ صدر ٹرمپ کی ’حمایت‘ کے حوالے سے تفصیلات شائع کی ہیں۔ رپورٹس میں ٹرمپ کے ذریعہ ایران کے خلاف ’آپریشن ایپک فیوری‘ کو ہری جھنڈی دیے جانے اور اس فیصلے کے ایران، امریکہ و اسرائیل پر اثرات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
سابق امریکی وزیرخارجہ جان کیری کے اسرائیلی وزیر اعظم سے متعلق کئے گئے انکشاف نے سیاسی ہلچل مچا دی ہے۔ ’دی لیٹ شو ود اسٹیفن کولبرٹ‘ میں بات چیت کے دوران کیری نے بتایا کہ نیتن یاہو نے کئی امریکی صدور کے سامنے ایران پر حملے کی تجویز رکھی تھی لیکن ہر بار انہیں منع کر دیا گیا۔ کیری کے مطابق جب باراک اوبامہ امریکی صدر اور وزیر خارجہ تھے تب بھی نیتن یاہو جنگ چاہتے تھے، لیکن امریکہ نے صاف لفظوں میں ’نو‘ ( نہیں) کہہ دیا تھا۔
جان کیری نے بتایا کہ صرف اوبامہ ہی نہیں بلکہ جارج ڈبلیو بش اور جو بائیڈن نے بھی نیتن یاہو کی جنگ والی تجویز خارج کر دی تھی۔ کیری نے کہا کہ وہ خود ان بات چیت میں حصہ لیتے تھے اور انہیں سب کچھ اچھے سے یاد ہے۔ ان رہنماؤں کا ماننا تھا کہ امن کے لیے بات چیت کے راستے ابھی پوری طرح بند نہیں ہوئے ہیں اس لیے براہ راست جنگ کرنا ٹھیک نہیں ہوگا۔ اس سلسلے میں ’دی نیویارک ٹائمس‘ کی ایک رپررٹ کا حوالہ دیتے ہوئے جان کیری نے کہا کہ نیتن یاہو کا ماننا تھا کہ ایران پر حملہ کرنے سے وہاں لوگ حکومت کے خلاف بغاوت کر دیں گے اور تختہ پلٹ ہو جائے گا۔ کیری نے طنز کستے ہوئے کہا کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا، نیتن یاہو کا یہ اندازہ پوری طرح غلط ثابت ہوا۔
’نیویارک ٹائمس‘ کی رپورٹ کے مطابق جہاں 3 امریکی صدور نے جنگ سے منع کیا، وہیں ڈونالڈ ٹرمپ نے اس پر رضامندی ظاہر کر دی۔ جب نیتن یاہو نے ٹرمپ کے سامنے اپنی بات رکھی تو ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’’اوکے، بائے می‘‘ (میری طرف سے ٹھیک ہے)۔ حالانکہ رپورٹ بتاتی ہے کہ ٹرمپ کی ٹیم کے کچھ اراکین نے اس تجویز کو بکواس بتایا تھا لیکن ٹرمپ کی سوچ نیتن یاہو سے مل رہی تھی۔ اس کے 2 ہفتے بعد ہی ٹرمپ نے ’آپریشن ایپک فیوری‘ کو منظوری دے دی تھی۔
جان کیری نے ویتنام جنگ کی مثال دیتے ہوئے وارننگ دی کہ امریکی عوام سے جھوٹ بول کر انہیں جنگ میں نہیں جھونکنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ویتنام اور عراق کی طرح اس معاملے میں بھی گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ کیری کا کہنا ہے کہ حکومت کو اپنے ملک کے بچوں کو تب تک لڑنے کے لیے نہیں بھیجنا چاہئے جب تک سچ سامنے نہ ہو۔
بعد ازاں 11 فروری کو جب نیتن یاہو وائٹ ہاؤس گئے تب سے اس پورے تنازعہ کی شروعات ہوئی۔ اس جنگ کے سبب 2 ہزار سے زیادہ لوگوں کی جان جا چکی ہے اور دنیا کی معیشت بھی بُری طرح متاثر ہوئی ہے۔ رائٹرز کی 8 اپریل کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کی حمایت سے ایران پر حملے کو 2 ہفتے کے لیے ملتوی کیا تھا تاکہ بات چیت ہو سکے۔ اسرائیل اس شرط پر راضی ہوا تھا کہ ایران فوری آبی گزرگاہ (آبنائے ہرمز) کھولے گا اور حملے روکے گا۔ امریکہ نے اسرائیل کو بھروسہ دیا ہے کہ وہ ایران کو جوہری خطرہ نہیں بننے دے گا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔