لبنان میں غزہ جیسی نسل کشی!... اشوک سوین

اسرائیل نے لبنان سے لوگوں کو منتقل کرنے کی مہم چلا رکھی ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس طرف سے دنیا نے جیسے آنکھیں موند رکھی ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>لبنان میں تباہی کا منظر، تصویر اے آئی</p></div>
i
user

اشوک سوین

جب دنیا کی نظریں خوف اور بے اعتمادی کے ساتھ ڈونالڈ ٹرمپ اور ایران کے خطرناک ٹکراؤ پر مرکوز تھیں، لبنان میں ہونے والی تباہی دنیا کی توجہ سے دور رہی۔ اسرائیل اپنے شمالی پڑوسی کے ساتھ سرحد کو دوبارہ متعین کرنے کی دھمکی دے رہا ہے، اور گزشتہ ایک ماہ میں اس نے اپنی فوجی کارروائی کو ایک مکمل جنگ کی شکل دے دی ہے۔ اس میں اب زمینی حملہ، رہائشی علاقوں پر بمباری اور جنوبی لبنان کے بڑے حصوں پر قبضے کی واضح منصوبہ بندی شامل ہے۔

مارچ کے وسط سے اسرائیلی فوج لبنان کے علاقے میں مزید آگے بڑھ گئی ہے۔ یہ سب ہفتوں تک جاری رہنے والی فضائی بمباری کے بعد ہوا، جس میں نہ صرف حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا بلکہ گنجان آبادی والے علاقوں میں گھروں، اسپتالوں، تعلیمی اداروں، پلوں اور دیگر اہم بنیادی ڈھانچے کو بھی۔


لیتانی دریا کے جنوب میں مکمل مسلم اکثریتی شہر خالی کرائے جا رہے ہیں۔ ملک کا بڑا حصہ اب انخلا کی مہم کی زد میں آ گیا ہے اور مسلسل بمباری کے درمیان بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہو رہے ہیں۔ یہاں شدید انسانی بحران پیدا ہو چکا ہے۔ 15 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور لاکھوں لوگوں کو شمال کی طرف بھاگنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ عام شہریوں کی اموات مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ مارچ کے آغاز سے اب تک 1500 سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں، جن میں 200 سے زائد خواتین اور بچے کے ساتھ ساتھ کئی طبی عملہ اور صحافی بھی شامل ہیں۔ جنوبی لبنان اور بیروت کے مضافاتی علاقوں میں فضائی حملوں سے کئی گھر تباہ ہو گئے ہیں اور متعدد خاندان ملبے تلے دب گئے ہیں۔

تباہی کا یہ سلسلہ پہلے بھی دیکھا ہوا ہے۔ صحت کے مراکز پر حملے کیے گئے ہیں، ایمبولینس مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے اور طبی عملے کو ہلاک کیا جا رہا ہے۔ موقع پر موجود ڈاکٹر خبردار کر رہے ہیں کہ لبنان کے پہلے سے کمزور صحت نظام کو جس طرح نشانہ بنایا جا رہا ہے، وہ بالکل ویسا ہی ہے جیسا پہلے غزہ میں دیکھا گیا تھا۔ اسپتال نہ صرف براہ راست نشانہ بننے کی وجہ سے بلکہ بجلی، ایندھن، طبی سامان اور عملے کی کمی کے باعث بھی بند ہو رہے ہیں۔ معاشی بحران سے پہلے ہی کمزور ملک کی جان بچانے کی صلاحیت ختم ہوتی جا رہی ہے۔


اسرائیل اپنے ارادوں کو چھپا بھی نہیں رہا۔ اس کا مقصد اب صرف حزب اللہ کو کمزور کرنا یا اس کے ہتھیار چھیننا نہیں رہ گیا ہے، بلکہ لیتانی دریا تک بفر زون بنانا اور بے گھر لبنانی شہریوں کو جنوب میں اپنے گھروں کو واپس لوٹنے سے روکنا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت سرحدی علاقوں میں واقع پورے کے پورے دیہات کو تباہ کرنے کی منصوبہ بندی ہے۔ درحقیقت، لبنان میں ایک اور نسلی کشی کی مہم جاری ہے۔

جو لوگ اس خطے کی تاریخ سے واقف ہیں، ان کے لیے یہ بازگشت واضح ہے۔ اسرائیل نے 1982 سے 2000 کے درمیان تقریباً 2 دہائیوں تک جنوبی لبنان میں ایک سیکورٹی زون قائم رکھا تھا۔ جیسا کہ متوقع تھا، اس قبضے نے ناراضگی کو ہوا دی، حزب اللہ کو مضبوط کیا اور تشدد کے دائرے کو مزید گہرا کیا۔ اسرائیل کی موجودہ حکمت عملی غالباً اسی طرز کو مزید بڑے اور زیادہ تباہ کن پیمانے پر دہرانے کی ہے۔


موجودہ صورتحال کو مزید خطرناک بنانے والی بات یہ ہے کہ عام لوگوں کو نقصان پہنچانے کے انتہائی خطرناک طریقوں کو معمول بنا لیا گیا ہے۔ فضائی حملوں میں بار بار رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جنہیں پہلے نسبتاً محفوظ سمجھا جاتا تھا۔ بے گھر شہریوں کو پناہ دینے والے مقامات کو بھی نہیں بخشا گیا ہے۔ ایسے ہی ایک نمایاں حملے میں بیروت کے ساحلی علاقے کو نشانہ بنایا گیا، جہاں بمباری سے بچ کر آئے بے گھر خاندانوں نے خیمے لگا رکھے تھے۔

بنیادی ڈھانچے کی تباہی میں بھی ایک منظم رجحان نظر آ رہا ہے۔ اہم سڑکوں اور پلوں پر حملے کیے گئے ہیں، جس سے جنوبی لبنان کے بڑے علاقے ناقابل رسائی ہو گئے ہیں۔ اس سے نہ صرف حزب اللہ کی فوجی رسد متاثر ہوتی ہے بلکہ عام شہری بھی پھنس جاتے ہیں۔


یہ تنازعہ جس طرح پھیلتا جا رہا ہے، وہ نہایت تشویش ناک ہے۔ لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس (یونیفل) کے ارکان، جن میں 3 انڈونیشیائی امن فوجی بھی شامل تھے، اسرائیلی گولہ باری میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ قابل غور بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے اہلکار ایک ایسے تنازعہ زدہ علاقے میں مارے جا رہے ہیں اور زخمی ہو رہے ہیں، جس کی مبینہ طور پر نگرانی کی جا رہی ہے، اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قواعد و ضوابط کتنی تیزی سے بے معنی ہوتے جا رہے ہیں۔ اسرائیلی فوجیوں نے یونیفل کے نگرانی کیمروں کو بھی تباہ کر دیا ہے اور یہاں تک کہ امن فوجیوں کو حراست میں بھی لے لیا ہے۔

اس دوران علاقائی خطرات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ حزب اللہ کے ایران کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں اور اسی وجہ سے لبنان میں جاری جنگ کو مغربی ایشیا کے وسیع تر تنازعہ سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہاں کی صورتحال کسی بھی وقت غیر متوقع طور پر بگڑ سکتی ہے۔


اس پیمانے پر ہونے والی تباہی، نسل کشی کے انداز پر مبنی اسرائیلی مہم اور وہاں کی منمانی حکومت کی جانب سے سرحدوں کو دوبارہ کھینچنے کی واضح کوششوں کے باوجود بین الاقوامی ردعمل بہت سست رہا ہے۔ کچھ یورپی حکومتوں نے تشویش کا اظہار کیا اور جنگ بندی کی اپیل کی ہے، لیکن ان کی ادھوری کوششوں سے حالات کا رخ بدلنے والا نہیں۔ لبنان میں جاری جنگ ایک بڑے جغرافیائی سیاسی ڈرامے میں ایک ثانوی واقعہ بن کر رہ گئی ہے اور اس پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جا رہی، لیکن اس خاموشی کے سنگین نتائج ہوں گے۔

جب بڑے پیمانے پر لوگوں کی نسلی بے دخلی ہوتی ہے، شہری بنیادی ڈھانچہ تباہ کیا جاتا ہے اور کھلے عام کسی علاقے پر قبضہ کیا جاتا ہے، اور پھر بھی عالمی برادری کی جانب سے سخت رد عمل سامنے نہیں آتا، تو اس سے غلط کام کرنے والوں کو منمانی کی کھلی چھوٹ مل جاتی ہے اور وہ مزید بڑے جرائم کرنے کے لیے حوصلہ پاتے ہیں۔ غزہ میں جو کچھ ہوا، وہ اسی کا ثبوت ہے۔ بین الاقوامی قوانین کا زوال (یہاں تک کہ جنگی کارروائیوں میں بھی) اچانک نہیں ہوتا، یہ آہستہ آہستہ ان چیزوں کو معمول بنانے کے ذریعے ہوتا ہے جنہیں کبھی ناقابل قبول سمجھا جاتا تھا۔


اسرائیل مزید ایک خود مختار ملک کو نئی شکل دینے اور اس پر قبضہ کرنے کے لیے زبردست فوجی طاقت کا استعمال کر رہا ہے۔ وہ لبنان کے شہریوں پر بھاری قیمت مسلط کر رہا ہے، جن کا اس تنازعہ کو چلانے والے حالات پر کوئی کنٹرول نہیں۔ لبنان کے لیے اس کے نتائج اس کے وجود کے لیے ہی خطرہ بن چکے ہیں۔ یہ ملک پہلے ہی جدید تاریخ کے بدترین معاشی بحرانوں میں سے ایک کی زد میں تھا۔ سرکاری ادارے کمزور ہیں، عوامی خدمات تباہ حال ہیں اور سیاسی تقسیم بہت گہری ہے۔ یہ جنگ پہلے سے نازک صورتحال والے اس ملک کے انہدام کے عمل کو مزید تیز کر رہی ہے۔

اس کے اثرات پورے خطہ کے لیے شدید گہرے ہیں۔ جنوبی لبنان میں اسرائیل کی طویل موجودگی سے مزاحمت بڑھے گی، شدت پسند نیٹورک مضبوط ہوں گے اور بار بار تصادم کے امکانات بڑھیں گے۔ ایک طرح سے یہ عدم استحکام کو ادارہ جاتی شکل دے دے گا۔ اگر جنوبی لبنان کو واقعی مزید ایک غزہ میں تبدیل کیا جا رہا ہے، تو سوال صرف یہ نہیں ہے کہ کیا ہو رہا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اسے کیوں ہونے دیا جا رہا ہے، اور وہ بھی عالمی برادری کی جانب سے اتنے سرد ردعمل کے ساتھ۔

(مضمون نگار اشوک سوین سویڈن کی اُپسالا یونیورسٹی میں ’پیس اینڈ کنفلکٹ ریسرچ‘ کے پروفیسر ہیں۔)