وسیم رضوی کے پیچھے کون؟

وسیم رضوی نے آئینی حق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں قرآن کی بعض آیات کو ہٹانے سے متعلق جو معاملہ اٹھایا ہے وہ خود عدالت کے آئینی دائرہ اختیار سے بالاتر ہے۔

وسیم رضوی، تصویر آئی اے این ایس
وسیم رضوی، تصویر آئی اے این ایس
user

فاروق احمد

قرآن مجید اللہ تعالی کی اپنے آخری رسول پر نازل کردہ آخری آسمانی کتاب ہے۔ اس کے کتاب اللہ ہونے میں اگر کسی کو ذرہ برابر بھی شک ہو تو اس کے لئے آج بھی یہ چیلنج موجود ہے کہ وہ اپنے تمام حواریوں و ماریوں کے ساتھ مل کر اس کتاب کی آیات جیسی ایک بھی آیت بنا کر دکھا دے، خدا کی اس کتاب کا چیلنج ان لوگوں کے لئے بھی رہا جو خود کو اہل زبان اور باقی دنیا کو گونگا پکارتے رہے۔ قرآن ہی ہے جس نے اس بات کی گواہی دی ہے کہ خدا نے ہو قوم میں اپنے نبیوں کو بھیجا تھا اور پہلے بھی آسمانی صحیفے نازل کئے تھے لیکن وہ صحیفے اپنی اصل شکل میں موجود نہیں رہے۔ اگر قرآن ان صحیفوں کی تصدیق نہیں کرتا تو ان کے حق میں آج کوئی تحریری ثبوت نہیں ہوتا۔ اسی طرح قرآن نے بہت سارے تاریخی حقائق کے لئے بھی ثبوت فراہم کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آج مسلمان اس قرآن پر پوری طرح عمل نہیں کرتے ہیں لیکن یہ اس کا اعجاز ہی ہے کہ مسلمانوں کی لاکھ بے عملی کے باوجود بھی آج لوگ صرف قرآن پڑھ کر اسلام قبول کر رہے ہیں۔ خدا نے قرآن کو نازل کیا تھا تاکہ لوگ اپنے پیدا کرنے والے کے احکامات کو مان کر اس دنیا کو امن کا گہوارہ بنا دیں۔ ہر طرف ظلم و ناانصافی اور عصبیت و نفرت کا خاتمہ ہو۔ قرآن باقاعدہ اعلان کرتا ہے کہ ایک انسان کا بھی ناحق قتل پوری انسانیت کا قتل ہے اور فتنہ و فساد تو قتل سے بھی زیادہ گھناؤنا جرم ہے۔ البتہ قرآن کہتا ہے کہ جب کوئی ناحق تمہاری جان و مال اور عزت و آبرو کے در پہ آجائے اور کوئی چارہ کار نہ رہ جائے تو انصاف کا تقاضا ہے کہ اپنا دفاع کرو۔ ذرا سوچئے کہ جس قرآن کی تعلیمات سے ترغیب پاکر دنیا میں انسانی حقوق کا چارٹر تشکیل پاتا ہو، اس قرآن پر دہشت گردی کے فروغ کا الزام بغیر سر پر کے نہیں تو اور کیا ہے۔ ماضی میں ایسے واقعات ہوئے ہیں کہ قرآن کے بڑے ناقدین نے بھی جب صدق دل سے قرآن پڑھا تو اسلام کو مانے بغیر نہ رہ سکے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ شاذ و نادر اکا دکا لوگ ایسے نکل آتے ہیں جو قرآن کے سلسلے میں بے بنیاد باتوں کو ہوا دینے کی کوشش کرتے ہیں ؟ اس کی چند بڑی وجوہات یہ ہیں کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے سلسلے میں پہلے سے ہی منفی ذہنیت رکھتے ہیں۔ قرآن کی آیتوں کے ان کے پس منظر سے الگ کرکے دیکھتے ہیں۔ محض نکتہ چینی اور افتراپردازی کی غرض سے قرآن کی بعض باتوں کو آدھا ادھورا پیش کرتے ہیں۔ یا اپنے افکارو نظریات کو بہتر بتانے یا ان کی خامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے قرآنی احکامات کو غلط ڈھنگ سے پیش کرتے ہیں۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہوئے ہیں جو قرآن پر عبور نہیں رکھتے، اس کے معانی و مفاہیم سے کسی حد تک نابلد ہوتے ہیں یا اپنی کم علمی و ااحساس کمتری کے سبب قرآن پر انگلی اٹھا دیتے ہیں۔ قرآن پر انگلی اٹھانے والوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو طاغوتی نظام فکر کے حاملین کا آلۂ کار ہیں اور اپنے مسلم نام و خاندانی پس منظر کا فائدہ اٹھا کر اہل ایمان کو گمراہ کرنے اور بدلے میں کچھ ذاتی فائدہ حاصل کرنے کے لئے ایسا کرتے ہیں۔ یا پھر اپنے مجرمانہ ریکارڈ اور بدعنوانی و ناانصافی کے معاملوں میں سزا سے بچنے کے لئے طاغوتی نظام کا سہارا لیتے ہیں۔ ایسے لوگ دشمنان اسلام کا آلۂ کار بن کر اسلامی اصولوں پر انگلیاں اٹھاتے ہیں یا اسلام اور مسلمانوں کو بد نام کر کے اپنا الو سیدھا کرتے ہیں۔

اس وقت اترپردیش شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیئرمین وسیم رضوی نے جو فتنہ کھڑا کیا ہے دراصل اسی کا ایک نمونہ ہے۔ ہمارا ملک ایک جمہوری ملک ہے یہاں سب کو مذہبی آزادی کا بنیادی حق حاصل ہے۔ وسیم رضوی نے آئینی حق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں قرآن کی بعض آیات کو ہٹانے سے متعلق جو معاملہ اٹھایا ہے وہ خود عدالت کے آئینی دائرہ اختیار سے بالاتر ہے۔

رہی بات وسیم رضوی کی تو وہ اسلام اور مسلمانوں کا کس قدر دشمن ہے اس کی ماضی کی سرگرمیوں سے اس کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ وسیم رضوی کے خلاف ظلم، جبر اور بدعنوانی کے مجرمانہ معاملات، سی بی آئی کی انکوائری اور ہر وقت جیل جانے کا خوف اُس کے ذہنی دیوالیہ پن کا ایک دیگر سبب بھی ہو سکتا ہے۔۔ بہرکیف وسیم رضوی کے سلسلے میں امت مسلمہ نے بلا تفریق مسلک و مکتبِ فکر جو متحدہ موقف اختیار کیا وہ قابل ستائش ہے۔وسیم رضوی کے گھر والوں نے بھی اس سے اپنا رشتہ ختم کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں اس کے بھائی کا ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا میں گردش کر رہا ہے۔ جس اس بات کا صاف اشارہ موجود ہے کہ وسیم رضوی کچھ لوگوں کی ایما پر ایسا کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ ملت کا ہر فرد صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے وسیم رضوی جیسے لوگوں سے برأت کا اظہار کرے گا۔ کیوں کہ ہر کسی کو معلوم ہے کہ ملک میں اہم مسائل سے دھیان بھٹکانے، مسلمانوں کو مشتعل کرکے ان کے خلاف کارروائی کرنے اور سیاسی فائدے کے لئے ایک خاص طبقے کو خوش کرنے کے لئے تنگ نظر افکار کے حاملین جاہل، ناسمجھ ،لالچی، سماج دشمن عناصر اور غلط کاموں میں ملوث افراد کو اپنا آلہ کار بنا کر سماج کو توڑنے کے لئے اور ملک میں بدامنی کا ماحول بنانے کے لئے اس طرح کو معاملوں کو ہوا دیتے ہیں۔

رہی بات سپریم کورٹ میں اس کے معاملے کی تو جس طرح سے ملت کی تمام بڑی جماعتوں اور اداروں نے ماضی میں اس کے اشتعال انگیز سوالات پر کوئی توجہ نہیں دی اور اس کے موقف کی تائید نہیں کی اور نہ اس کو قابل اعتنا سمجھا، کورٹ میں بھی وہ اس معاملے میں الجھنا پسند نہیں کریں گے اور سپریم کورٹ سے بھی امید ہے کہ وہ اس غیر آئینی و غیر قانونی معاملے کو فورا خارج کرنے کے ساتھ ، عدالت کو ایک غیرضروری مسئلے میں الجھانے اور فتنہ کھڑا کرنے کی کوشش کے جرم میں وسیم رضوی جیسے لوگوں کے خلاف سخت کاروائی بھی کرے گی۔

یہاں ایک بات اور بھی گوش گزار رہنی چاہئے کہ قرآن میں تحریف کی کوئی کوشش نہ کبھی کامیاب ہوئی ہے اور نہ ہوگی۔ ایسا نہیں ہے کہ وسیم رضوی نے کوئی نیا معاملہ اٹھایا ہے بلکہ اسلام دشمن عناصر اور بدخواہوں نے پہلے بھی ایسا کیا ہے لیکن قرآن میں ایک زیر اور زبر تک کی تحریف ممکن نہیں ہو سکی۔ بلکہ مسلمانوں نے اتحاد کا مظاہرہ کیا اور ایسے لوگوں سے رشہ و ناطہ ترک کر لیا۔ اس وقت مسلمانوں کو آپسی اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے قرآن سے رشتہ مزید گہرا کرتے ہوئے اپنی پسماندگی و زبوں حالی کا حل تلاش کرنا چاہئے تاکہ وہ ملک اور قوم کی ترقی و سلامتی کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرسکیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔