نوشاد کے خلاف کیوں چل رہی این ایس اے لگانے کی تیاری؟

پولیس کے ذریعہ کی گئی پوچھ تاچھ میں نوشاد نے اعتراف کیا تھا کہ ویڈیو 16 فروری کی ہے جب وہ اروما گارڈن میں کھانا بنانے گیا تھا، لیکن نوشاد نے روٹی پر تھوکنے کے الزام کو سرے سے مسترد کر دیا تھا۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

ایک وائرل ویڈیو میں نوشاد نامی شخص کو مبینہ طور پر تندوری روٹی پر تھوکتا ہوا پائے جانے کے بعد پولس نے سخت کارروائی کا ذہن تیار کر لیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ویڈیو میرٹھ میں ہوئی ایک شادی تقریب کی ہے جہاں تندوری روٹی بناتے وقت ایک نوجوان نے اس پر تھوک دیا، اور پھر یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی کے ساتھ وائرل ہو گیا۔ بعد ازاں ’ہندو جاگرن منچ‘ کے کچھ کارکنان نے اس ویڈیو کو لے کر خوب ہنگامہ کیا ملزم نوشاد کو پکڑ کر پولس کے حوالے کر دیا۔ ہندو جاگرن منچ کے کارکنان نے نوشاد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ بھی کیا، جس کے پیش نظر پولس نے گرفتار کر نوشاد کو جیل میں بھیج دیا۔

اب ایسی خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ نوشاد کے خلاف این ایس اے (نیشنل سیکورٹی ایکٹ) لگانے کی تیاری چل رہی ہے۔ ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ پر پولس ذرائع کے حوالے سے خبر شائع ہوئی ہے کہ نوشاد کے خلاف سخت کارروائی ہونے والی ہے۔ عدالتی حراست میں موجود نوشاد پر این ایس اے کے تحت کارروائی کے لیے فائل تیار کر لی گئی ہے اور اس پر اعلیٰ افسران کی منظوری بھی مل چکی ہے۔ حالانکہ اس پورے معاملے میں نوشاد کا کہنا ہے کہ وہ بے قصور ہے اور اسے غلط الزام کے تحت پھنسایا جا رہا ہے۔


موصولہ اطلاعات کے مطابق پولیس کے ذریعہ کی گئی پوچھ تاچھ میں نوشاد نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ ویڈیو 16 فروری کی ہے، جب وہ اروما گارڈن میں کھانا بنانے گیا تھا۔ لیکن نوشاد نے روٹی پر تھوکنے کے الزام کو سرے سے مسترد کر دیا تھا۔ اس کے باوجود پولیس نے ملزم نوشاد کو جیل میں رکھنے کا فیصلہ تو کیا ہی، اب این ایس اے کے تحت کارروائی کرنے کے لیے پیش رفت بھی ہو چکی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔