کیا آزادی کا یہی مطلب ہے کہ ایک طاقتور ملک ہماری معیشت کو اپنی مرضی سے چلائے؟

آزادی کا اصل مفہوم معاشی و سیاسی خودمختاری ہے۔ اگر ہم عالمی طاقتوں کے فیصلوں پر انحصار کریں تو آزادی ادھوری رہتی ہے۔ خودکفالت ہی ہماری آزادی کا وقار قائم رکھ سکتی ہے

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i
user

سید خرم رضا

آزادی کا اصل مفہوم یہ ہے کہ ہم اپنے فیصلے خود کر سکیں اور اپنی پالیسیوں کے لئے کسی دوسرے ملک پر انحصار نہ کریں۔ غلامی کے دور میں ہندوستان کو اپنے فیصلوں کا اختیار نہیں تھا۔ انگریز حکومت یہ فیصلہ کرتی تھی کہ ہم سے کتنا لگان لیا جائے گا، کس چیز کی پیداوار پر ٹیکس لگے گا اور کون سا قانون نافذ کیا جائے گا۔ ہندوستانی عوام کے پاس ان فیصلوں پر اعتراض کرنے یا ان کو بدلنے کا کوئی حق نہ تھا۔ آزادی کا مطلب یہی ہے کہ اب کوئی غیر ملکی طاقت ہم سے یہ نہیں کہہ سکتی کہ ہمیں کس طرح جینا ہے یا اپنے وسائل کس طرح استعمال کرنے ہیں۔

15 اگست 1947 کو جب ہندوستان آزاد ہوا تو ہمارے قائدین نے یہ فیصلہ کیا کہ جو بھی قدم ملک کے حق میں ہوگا، وہی اٹھایا جائے گا۔ اُس وقت دنیا دو بڑی طاقتوں میں تقسیم تھی، ایک طرف امریکہ کی قیادت میں مغربی بلاک تھا اور دوسری طرف سویت یونین کے زیرِ سایہ کمیونسٹ بلاک۔ دونوں طاقتیں ہندوستان جیسے بڑے ملک کو اپنی طرف کھینچنے کی خواہاں تھیں۔ لیکن ہندوستان نے ایک نئے راستے کا انتخاب کیا۔ ہم نے کسی طاقت کے زیرِ اثر آنے کے بجائے غیر وابستہ تحریک کی قیادت کی، جس نے دنیا میں ایک تیسری راہ متعارف کرائی۔

یہ فیصلہ ہندوستان کے لئے تاریخی تھا۔ اگرچہ وقت کے ساتھ ہمارا جھکاؤ کچھ زیادہ سویت یونین کی طرف رہا، لیکن پھر بھی ہم نے اپنی شناخت بنائی۔ ہماری اس پالیسی سے نہ صرف ہمیں فائدہ ہوا بلکہ اُن ممالک کو بھی سہارا ملا جو سرد جنگ کے دو قطبین سے فاصلہ رکھنا چاہتے تھے۔ یہ غیر وابستگی ہمارے لئے طاقت کا ذریعہ تھی، کیونکہ دنیا ہمیں ایک متوازن ملک کے طور پر دیکھتی تھی۔

وقت بدلا، سویت یونین ٹوٹ گیا اور دنیا میں صرف ایک ہی سپر پاور رہ گئی یعنی امریکہ۔ اس کے ساتھ ہی غیر وابستہ تحریک بھی کمزور پڑ گئی، کیونکہ اب اس کی ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی تھی۔ امریکہ نے اپنے غلبے کو برقرار رکھا لیکن اسی دوران چین نے آہستہ اور مستقل مزاجی کے ساتھ ترقی کی اور دنیا میں ایک طاقتور اقتصادی قوت کے طور پر ابھرا۔ ادھر امریکہ کی قیادت جب ڈونالڈ ٹرمپ کے ہاتھوں میں آئی تو اسرائیل کو غیر معمولی تقویت ملی۔


ہندوستان کے وزیر اعظم اور ان کے حامیوں نے ٹرمپ کی جیت کو اپنی جیت سمجھا۔ یہاں تک کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکہ میں ایک اجلاس کے دوران ’اب کی بار ٹرمپ سرکار‘ کا نعرہ بھی لگایا۔ اگرچہ امریکی عوام نے فیصلہ کیا کہ ٹرمپ کو اس مرتبہ صدر منتخب نہیں کیا جائے لیکن بیچ میں ایک مرتبہ کے بعد وہ پھر صدر منتخب ہوئے اور ان کی اس جیت میں بہت سے ہندوستانیوں کو اپنی جیت نظر آئی۔

آزادی کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ہم آج کسی طاقتور ملک کے رحم و کرم پر رہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ آزادی کے 75 سال بعد بھی ہم امریکہ جیسے ملک سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ ہمارے لئے اپنے تجارتی ٹیرف کم کر دے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ رویہ واقعی آزادی کی روح کے مطابق ہے؟ اگر ہم آج بھی عالمی طاقتوں کے فیصلوں کی طرف دیکھتے ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ ہم اپنی منزل حاصل کرنے میں کہیں نہ کہیں ناکام رہے ہیں۔ 

ہمارے ملک کی ایک بڑی آبادی مغربی ممالک میں رہائش اختیار کرنا اپنی کامیابی سمجھتی ہے۔ اگر کسی ہندوستانی کو وہاں ذرا سا بھی مقام ملتا ہے تو ہم اسے بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ آخر ہماری آبادی کا ایک بڑا حصہ مغرب کی طرف کیوں ہجرت کر رہا ہے؟ کیا اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمارے اپنے ملک میں وہ مواقع نہیں جو ہم دوسروں کے ملکوں میں تلاش کرتے ہیں؟

اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سنجیدگی سے یہ فیصلہ کریں کہ ہمیں اپنے ملک کو خود کفیل اور طاقتور بنانا ہے۔ چین کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ اُس نے بغیر شور شرابے کے اپنی معیشت کو مضبوط بنایا اور دنیا کی ایک بڑی طاقت کے طور پر کھڑا ہو گیا۔ ہمیں بھی اسی راستے پر چلنا ہوگا۔ صرف اسی صورت میں ہم کہہ سکیں گے کہ ہماری آزادی حقیقی معنوں میں مکمل ہے۔ بصورتِ دیگر اگر کوئی طاقتور ملک اپنے فیصلے ہم پر مسلط کرنے کی کوشش کرے، تو ہمیں مجبور ہو کر اُن کے آگے جھکنا پڑے گا۔


آزادی کا مطلب یہی ہے کہ ہم اپنی تقدیر کے مالک خود ہوں۔ یہ آزادی ہمیں قربانیوں کے بعد ملی ہے۔ لہٰذا اس کی حفاظت اور اس کا وقار برقرار رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔ اگر ہم نے خودکفالت اور ترقی کی طرف توجہ نہ دی تو ہماری آزادی کا اصل مقصد ادھورا رہ جائے گا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔