جہانگیر پوری جامع مسجد کا دروازہ بھی بلڈوزر کی نذر، دیکھیں زمینی رپورٹ

سپریم کورٹ کے ذریعہ جاری حکم کے بعد بلڈوزر تو واپس چلے گئے لیکن اس دوران جو غیر قانونی تعمیرات منہدم کی گئیں وہاں پر لوگ اپنا سامان یکجا کرنے میں مصروف نظر آئے۔

user

سید خرم رضا

جب تک آپ جہانگیر پوری کے سی بلاک واقع چوراہے تک نہیں پہنچیں گے، تب تک یہ اندازہ ہی نہیں لگ سکتا کہ وہاں پر کوئی بڑا فساد یا بڑے پیمانہ پر تشدد ہوا۔ ایسا اس لیے کیونکہ ہر جگہ زندگی پہلے کی طرح چلتی نظر آتی ہے۔ اسکول کے بچے اسکول میں کھیلتے کودتے نطر آتے ہیں، سڑکوں پر ٹریفک بالکل بھی متاثر نظر نہیں آتا اور لوگ اپنی روز مرہ کی زندگی کی ذمہ داریاں پوری کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن جیسے جیسے سی بلاک کے قریب آپ پہنچتے ہیں ویسے ویسے لوگوں کے چہروں پر تناؤ اور سڑکوں پر بکھری زندگی نظر آتی ہے۔

آج صبح یہ خبر عام ہو گئی کہ اتر پردیش اور مدھیہ پردیش کی طرز پر دہلی کے جہانگیر پوری علاقہ میں، خاص طور پر اس علاقہ میں جہاں 16 اپریل کو فرقہ وارانہ تشدد ہوا تھا، وہاں پر بلڈوزر کے ذریعہ انہدامی کارروائی کی جائے گی اور غیر قانونی تعمیرات ہٹائے جائیں گے۔ دیکھتے ہی دیکھتے کارروائی شروع ہو گئی اور کارروائی شروع ہوتے ہی علاقہ میں ایک مرتبہ پھر خوف کا ماحول بن گیا۔ اسی بیچ علاقہ کے لوگوں کے لئے ایک راحت کی خبر آئی کہ سپریم کورٹ نے انہدامی کارروائی پر فی الحال روک لگا دی ہے۔ اس کے بعد بلڈوزر تو چلے گئے لیکن اس دوران جو غیر قانونی تعمیرات منہدم کی گئیں وہاں پر لوگ اپنا سامان یکجا کرنے میں مصروف نظر آئے۔


خواتین، جن کی زیادہ تر تعداد بنگالی مسلمانوں کی تھی، وہ اس انہدامی کارروائی سے بہت ناراض نظر آئیں۔ لیکن ان کے مرد حضرات ان کو کیمرے کے سامنے بولنے سے روکتے نطر آئے۔ علاقہ میں جہاں بڑی تعداد میں پولیس والے موجود تھے وہیں ذرائع ابلاغ کے لوگ بھی بڑی تعداد میں رپورٹنگ کرتے نظر آئے۔ بلڈوزر کی کارروائی کے دوران جہانگیر پوری کی اس مسجد کا داخلی دروازہ پھر توڑ دیا گیا جہاں گزشتہ 16 اپریل کو ہنومان جینتی پر نکلے جلوس کے دوران دو فرقوں میں تنازعہ پیدا ہوا تھا۔ ایم سی ڈی کے اس عمل پر کئی لوگوں نے سخت ناراضگی کا اظہار بھی کیا۔

بہرحال، سی بلاک کے باہر جہاں فرقہ وارانہ تشدد بھی ہوا اور آج بلڈوزر کی کارروائی بھی ہوئی، وہاں کی ہر گلی کا دروازہ بند تھا اور لوگ لوہے کے جعلی والے دروازہ سے باہر بے چینی سے دیکھتے نظر آرہے تھے۔ ایک گلی میں تو پانی بھرا ہوا تھا۔ ایک دوسری بڑی گلی میں بڑی تعداد میں ٹھیلے موجود تھے جس سے اندازہ لگایا جا سکات تھا کہ کئی دنوں سے ان ٹھیلوں پر کوئی سامان نہیں بیچا گیا۔ یعنی تہوار کے موقع پر کام کا زبردست نقصان۔ ٹھیلوں کی تعداد سے اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ یہاں بڑی تعداد میں غریب لوگ رہتے ہیں۔


ایک ہی سڑک پر ایک مزار ہے اور تھوڑے فاصلے پر شیو کا مندر، اور شیو کے مندر کے ٹھیک سامنے ایک مسلم شخص کا کئی منزلہ مکان ہے جس پر اس نے 786 کی ٹائل لگائی تھی، یہ سب چیزیں اس بات کا چیخ چیخ کر ثبوت پیش کر رہی تھیں کہ جہانگیر پوری میں تمام فرقہ کے لوگ آپس میں پیار و محبت سے رہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہاں سے کبھی کسی فرقہ وارانہ کشیدگی کی خبر نہیں ملی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔