عید میلاد النبی پر خصوصی پیشکش: سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم... محمد مشتاق تجاروی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و منزلت کا دعوی اندھی عقیدت پر مبنی نہیں، بلکہ ٹھوس حقائق پر مبنی ہے۔ اگر کوئی جان بوجھ کر نہ دیکھنا چاہے تو اس کا کوئی علاج نہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

محمد مشتاق تجاروی

سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہر اعتبار سے بے مثال ہے اور تمام انسانیت کے لیے اسوہ اور نمونہ ہے۔سرکار دو عالم اولین و آخرین سب کے لیے اسوہ ہیں۔یہ دنیا ہزاروں سال سے آباد ہے۔اس میں کروڑوں اور ابوں کھربوں لوگ گزرے ہیں۔ اِس وقت بھی اس دنیا کی آبادی سات ارب سے زیادہ ہے۔ انسانوں نے مختلف میدانوں میں تاریخ انسانی پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں اور آج بھی بے شمار انسان اپنی مختلف خوبیوں اور صلاحیتوں کے اعتبار سے بے مثال ہیں۔ لوگ ان کی تقلید کرتے ہیں اور زندگی کے میدانوں میں کامیاب ہوتے ہیں۔ لیکن اگر آج تک کے تمام انسانوں کا جائزہ لیا جائے اور تمام انسانوں کی درجہ بندی کی جائے تو تمام اولین و آخرین میں سب سے عظیم المرتبت ہستی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہوگی۔ دنیا کے تمام انسانوں میں اول سے آج تک سرداری صرف سرکار رسالت مآب کے لیے مخصوص ہے۔ نہ کوئی ان جیسا ہوا اور نہہ کوئی ان جیسا ہوگا۔ دنیا میں بڑے بڑے اہل علم اور دانشور گزرے ہیں لیکن ان کی دانشوری سرکار کے آگے ہیچ ہے۔ دنیا میں بڑے مصلحین اور ریفارمر گزرے ہیں، لیکن سرکار کے سامنے وہ سب مجموعی طور پر طفل مکتب ہیں۔ دنیا میں فاتحین گزرے ہیں لیکن رسول اکرم کی جنگی حکمت عملی کے سامنے ان کا کوئی پایہ نہیں ہے۔ سرکار نے فقیری میں ایسی امیری کی کہ امیروں کی شان ہمیشہ کے لیے پھیکی ہو گئی۔ انھوں نے مسجد کے کچے فرش پر بیٹھ کر ایسی شان و سر بلندی کا نمونہ پیش کیا کہ بلند و بالا کاخ و محل ان کے سامنے سرنگوں ہو گئے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و منزلت کا دعوی کوئی اندھی عقیدت پر مبنی نہیں ہے ۔بلکہ ٹھوس حقائق پر مبنی ہے۔ اگر کوئی جان بوجھ کر نہ دیکھنا چاہے تو اس کا کوئی علاج نہیں ۔ ورنہ دنیا کے بے محققین،دانش وراور مصنّفین حتیٰ کہ غیر مسلم حضرات بھی رسول اکرم کی شان میں رطب اللسان ہیں۔ بہت سے دشمنوں نے بھی حضور کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ ہر قوم و ہر مذہب کے ماننے والوں نے رسول اللہ کی سیرت پر کتابیں لکھی ہیں اورسب نے اس کااعتراف کیا ہے کہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ و سلم ان کی نظر میں بھی اس دنیا کے لیے بہترین نمونہ و اسوہ ہیں اورگویا کہ اس دنیا کے لیے سرکارِعالم ہیں۔ اور جب دوست و دشمن سب آپ کو اِس دنیا کے عظیم ترین انسان تسلیم کرتے ہیں اور سرکارِ عالم مانتے ہیں تو گویا وہ بھی تصدیق کرتے ہیں کہ مسلمانوں کاآپ صلی اللہ علیہ وسرکار دو عالم کہنا بالکل بجا اور درست ہے۔

چودہ سو سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، رسول اللہ کی عظمت و جلال کے مختلف پہلوؤں پر اہل علم حضرات اپنی زبان ِقلم سے اور اہل وعظ و تذکیرحضرات اپنی نوکِ زبان سے روشنی ڈال رہے ہیں، آپ کے علوم و معارف کو بیان کر رہے ہیں لیکن ابھی تک آپ کی عظمت و رفعت کے پہلوؤں کی تشریح بھی نامکمل ہے۔ کسی فارسی شاعر نے کہا ہے:

دفتر تمام گشت و بہ پایاں رسید عمر

ما ہم چنان در اول وصف تو ماندہ ایم

(کاغذ ختم ہو گئے اور عمریں ختم ہو گئیں لیکن ہم ابھی تیرے بیان وصف کی ابتدائی منزل میں ہی ہیں)

دنیا میں جتنی سوانح عمریاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی لکھی گئیں، اتنی آج تک کسی کی بھی نہیں لکھی گئیں۔ جتنی زبانوں میں لکھی گئیں، اتنی زبانوں میں بھی کسی کی سوانح نہیں لکھی گئیں اور جتنے مذہب کے ماننے والوں نے لکھیں اتنے لوگوں نے کسی اور کی سوانح عمری نہیں لکھی۔ مسلم، عیسائی، یہودی، ہندو، بدھ، لامذہب...اسی طرح مرد وعورت بچے و بوڑھے غرض ہر طرح کے لوگوں نے زبان قلم سے رسول اللہ کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔اور یہ سلسلہ دن بہ دن رو بہ عروج ہے۔

مائیکل ہارٹ جومذہب کے اعتبارسے ایک عیسائی ہے اور یوروپ کا باشندہ ہے، اس نے دنیا کے 100 ایسے لوگوں کی فہرست بنائی جنہوں نے ان کے خیال میں انسانی دنیا کو سب سے زیادہ متأثر کیا تھا ۔اس نےسرفہرست نام سرکار دو عالم کا لیا۔چوں کہ اس کے پاس کوئی وجہ جواز نہیں تھی لیکن وہ سرکار سے پہلے کسی کا نام رکھ سکے۔مائیکل ہارٹ تو ایک نام ہے اس کے علاوہ بھی مشرق و مغرب کے اہل علم اور خاص طور پرمستشرقین یعنی یوروپ کے وہ عیسائی جنھوں نے مشرقی علوم پڑھے، ان کی ایک پوری جماعت ہے جس نے اپنی زندگی سیرت طیبہ کی تفہیم وتحقیق میں بسر کر دی۔ جیسے منٹگمری واٹ، کارلائل، ولیم میور، کیرن آرم اسٹرونگ، لیسلی ہیزلٹن وغیرہ بے شمار لوگ ہیں۔ان حضرات سیرت طیبہ کے مطالعے میں عمریں لگا دیں ان میں بعض نے اعتراضات بھی کیے ہیں لیکن سرکار دو عالم کی عظمت کا جس طرح اعتراف کیا ہے وہ الفضل ما شہدت بہ الاعدئ(فضیلت یہ ہے کہ دشمن بھی عظمت کی گواہی دے) کے قبیل سے ہے۔ان حضرات کی زندگی کا سب سے قیمتی لمحہ وہ ہے جو انھوں نے سیرت طیبہ کی خدمت کے لیے بسر کیا۔ اسی کی وجہ سے ہم آج ان کو جانتے ہیں ۔ان کے علاوہ ہمارے ملک میں بھی بہت سےہندو، سکھ اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں نے رسول اللہ کی عظمت کا برملا اعتراف کیا ہے۔خود بابائے قوم مہاتما گاندھی نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو خراج عقیدت پیش کیا۔

یہ اللہ کے رسول کی عظمت اور ان کے لائے ہوئے پیغام کی عظمت ہے کہ آج بھی اگر مشرق و مغرب میں فکری دھاروں کا جائزہ لیا جائے تو سب سے زیادہ زندہ و جاوید موضوعات میں سے اسلام ہے۔ اسلام کو یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو دنیا کے تباہ حال نظام کے لیے ایک تریاق اور نسخہ کیمیا کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بلاشبہ کچھ تنقیدیں بھی ہیں لیکن دنیا کی اکثریت آج بھی روحانی آسودگی، سماجی عدل و انصاف، مذاہب کے درمیان باہمی افہام و تفہیم، مختلف الخیال قوموں کے درمیان بقائے باہمی کی سبیل، نظام فطرت میں آئے ہوئے مسائل جیسے آلودگی وغیرہ کے حل کےلیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی طرف دیکھتی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں رہ کر اور پھر مدینہ میں رہ کر کثیر مذہبی معاشروں میں اعتماد باہمی کے ساتھ رہنے کا جو نمونہ پیش کیا، آج بھی وہ ان مسائل کا قابل اطمینان حل ہے۔ دنیا میں امیر و غریب کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے، اور غربت و بھکمری کا علاج آج بھی سرکار دو عالم کی تعلیمات میں ہے۔ عورتوں کے ساتھ ناانصافی کے خاتمے اور حقوق نسواں کی پاسداری کے لیے آج بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات قول فیصل ہیں۔ آج کے دور کا انسان جس روحانی خلاء سے دو چار ہے، معمولی معمولی باتوں پر خودکشی کے واقعات بڑھ رہے ہیں، خاندان کا ادارہ تباہ ہو رہا ہے، اولاد نافرمان ہو رہی ہے اور ماں باپ غیر ذمہ دار ہو رہے ہیں، انسان کے اندر جو اخلاقی بحران آیا ہوا ہے جس نے اس دنیا کی چند روزہ زندگی کو بھی اجیرن بنا دیا ہے، اس کے لیے دوائے شافی اور علاج کامل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ مبارکہ میں ہے۔

فرد، معاشرہ، مرد، عورت، بچے، حاکم، محکوم، امیر، غریب، عالم اور کم علم، صحت مند اور کمزور، ہر شخص کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں بہترین نمونہ اور قابل عمل اسوہ ہے۔ اس پر عمل کر کے کوئی بھی شخص دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ ان تعلیمات پر عمل پیرا ہونے سے دنیا خادم بن جاتی ہے اور آخرت کی زندگی میں کامیابی یقینی ہو جاتی ہے۔ عرب کے بدو ان تعلیمات پر عمل کر کے ہمیشہ کے لیے ساری دنیا کے امام بن گئے۔ آج بھی وہ در کھلا ہے۔ ان تعلیمات پر عمل کر کے آج بھی وہی سربلندیاں حاصل ہو سکتی ہیں۔ کسی نے سچ کہا ہے:

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

آج بھی اگر ان تعلیمات پر عمل کریں گے تو اِس دنیا اور اُس دنیا یعنی دنیا و آخرت ہر جگہ سربلندی و کامرانی حاصل ہوگی۔ اس لیے کہ وہ تعلیمات اِس دنیا اور اُس دنیا کے سردارآقائے مدنی سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ہیں۔ جو ان پر چلے گا، کامیاب ہوگا اور جو ان کو ترک کرے گا وہ خائب و خاسر اور نامراد ہوگا۔

Published: 30 Oct 2020, 4:11 PM
next